Chitral Times

Jun 12, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بھارت اور داعش کا گٹھ جوڑ!- قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

داعش کی جنوبی ایشیا میں موجودگی بالخصوص افغانستان اور پاکستان میں اس کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت عالمی برادری کے سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر داعش کی تربیت کے حوالے سے بھارتی کردارسے دنیا کے سامنے شواہد رکھ کر تحفظات سے آگاہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر راجھستان، اتراکھنڈ اور مقبوضہ کشمیر گلمرگ میں شدت پسندو ں کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی جانب سے تربیت دینے کا معاملہ سامنے آیا، جب کہ امریکی ادارے فارن پالیسی نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ”اب داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت ہے۔

رپورٹ کے مطابق سری لنکا میں 2019 کو ایسٹر کے موقع پرکیے گئے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے“۔ صوبہ خراسان میں داعش نے جلال آباد جیل پر حملہ میں کیا تواس کاروائی میں افغان، بھارتی اور تاجک باشندوں نے شرکت کی تھی تاکہ اپنے دہشت گرد ساتھیوں کو رہا کراسکیں۔2017 کوترکی میں نائٹ کلب، اسی برس نیویارک شہر میں ٹرک حملہ اور اسٹاک ہوم میں کیا گیا حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیئے گئے بلکہ کابل میں سکھ گوردوارہ پر حملہ بھی بھارت سے داعش کی مدد سے کیا گیا۔2016 میں اتاترک ائیرپورٹ پر حملہ ہو یا زیر زمین پیٹرزبرگ پر حملہ، بھارتی دہشت گردوں نے خاص کر افغانستان اور شام کو اڈہ بنا کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لیا۔

عالمی سطح پر ثابت ہو چکا کہ ایک خصوصی ایجنڈے کے تحت داعش (ISIS) کی پرورش کی گئی اور عالمی قوتوں نے مشرق وسطیٰ کی طرح داعش (خراساں) کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ امارات اسلامی نے کابل قبضے کے بعد سے مشرق میں واقع ملک کی سب سے بڑی اور بدنام زمانہ جیل ’پل چرخی‘ میں بند قیدیوں کی رہاکیا۔ اسی جیل سے فرار ہونے والوں میں ایک ایسا افغانی دہشت گرد بھی تھا، جس نے26اگست کو کابل ائیر پورٹ میں خودکش حملہ کرکے سینکڑوں انسانوں کی جانیں اُس وقت لیں جب وہ افغانستان سے امریکی و غیر ملکی فوجیوں کے ہمراہ کابل سے جانے کی کوشش کررہے تھے،

بھارت نے اس افغان شہری کو 5برس قبل سابق کابل انتظامیہ کے حوالے کیا تھا۔افغان طالبان کے جیل ’پل چرخی‘ سے اپنے اسیروں کو چھڑانے کے بعد ہزاروں خطرناک قید ی بھی فرار ہوئے اور اب یہ جیل ویرانی کا منظر پیش کررہی ہے۔ اے ایف پی کے رپورٹرز نے جب جیل کا دورہ کیا تو انہیں ایک سیل کی دیوار پر سیاہ رنگ سے داعش کے نعرے اور ’اسلامک سٹیٹ‘ کے الفاظ ایک سیڑھی کے پلستر پر لکھے دکھائی دیئے۔ داعش کے پراپیگنڈا میگزین نے بھی پہلی مرتبہ اپنے خودکش حملہ آور کی بابت حیران کن تفصیلات جاری کیں، حالاں کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورک تنظیمیں اپنے دہشت گردوں کی تفصیلات کو شیئر کریں، بھارتی میڈیا کے مطابق 2020میں پولیس نے داعش کے مبینہ پراپیگنڈامیگزین کے بانی رکن عبداللہ باسط (خطاب بھائی) کو بھارتی شہر حیدرآباد سے گرفتار کیا تھا۔

میگزین میں دعویٰ کیا گیا کہ کرنالا اور کرناٹیکا میں داعش کے تقریباََ 200جنگجو موجود ہیں۔ یہاں تک تو معاملہ تو کچھ سمجھ میں آتا ہے کہ بھارت نے ایسے خطرناک دہشت گرد کو سزا کیوں نہیں دی، غنی انتظامیہ سے تبادلے کی کیا وجوہ تھی، کہیں اصل وجہ یہ تو نہ تھی کہ چونکہ مبینہ طور پر داعش کی تربیت کررہا ہے لہذا انہوں نے افغانی ہونے کے ناتے اس خطرناک شدت پسند کو مناسب وقت کے لئے جیل میں رکھا، تصور کیا جاسکتا ہے کہ دوحہ معاہدے کے بعد غنی انتظامیہ اپنے اقتدار کو بچانے میں تگ ودو کررہی تھی اس لئے اُن کی توجہ حاصل نہ ہوسکی ہو، اسے ایک مضحکہ خیز تصور بھی سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن توجہ طلب ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کابل میں ایسی ایسی جگہوں پر دہشت گردی کے واقعات ہوئے جہاں سیکورٹی انتہا ئی سخت تھی اور بقول شخصے پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا،

لیکن جب واقعے کے ذمے داری داعش خراساں قبول کرتے، تو سوال اٹھ جاتے کہ کیا یہ ملی بھگت ہے۔ داعش خراساں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے معاملے کو سابق صدر حامد کرزئی کے غنی انتظامیہ اور امریکہ پر داعش کی سرپرستی کے مبینہ الزامات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اصل گیم کیاتھی اور اب اصل گیم کیا ہے، امریکہ جب افغانستان میں آیا تو بموں و بارود کی سونامی کے ساتھ کہ اتنی بارود سرزمین افغانستان میں استعمال ہوا کہ جنگ عظیم اوّل و دوم میں بھی نہیں ہوا تھا اور جب واپسی کے آخری دنوں میں کابل شہر میں 13بے گناہ انسانوں، جن میں سات معصوم بچے بھی شامل تھے،

داعش کے جنگجو قرار دے کر ہلاک کردیئے، ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو ان کا پرائیوٹ کنٹریکٹر رہ چکا تھا، امریکہ نے اپنی غلطی کی معافی مانگ لی لیکن وہ یہ عمل وہ افغانستان میں کئی بار دوہرا چکا ہے اور سیکڑوں انسانوں کی جان لینے کے بعد ایسے انسانی غلطی قرار دے چکا لیکن عالمی برداری کو پوچھنا ہوگاکہ امریکی ڈھونگڈرون حملہ کی حقیقت کیا تھی جس میں کابل ائیر پورٹ کا ماسٹر مائنڈ اپنی ساتھی سمیت مارا گیا، یہ فلمی اسٹوری سنا کر دنیا کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا، پھر کابل میں 13 انسانوں کی جان لی گئی، سات معصوم بچے موت کو گلے لگا بیٹھے،

ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ وہ کون سے راکٹ حملے تھے جو ائیر پورٹ پر فائر ہوئے اور ان کے ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنادیئے۔امریکہ سے سلامتی کونسل، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حواری کبھی با زپرس نہیں کرسکتے کیونکہ وہ امریکہ کی پھینکی ہوئی ہڈی پر پل رہے ہیں، امریکہ عالمی اداروں کو صرف اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتا ہے اور بھارت میں داعش کے ٹھکانوں و ترتیب پر خاموشی کا واضح مطلب عراق و شام کی طرح ایسے جنگجوؤں کو پالنا ہے جنہیں بقول حامد کرزئی مبینہ طور پر اسلحہ مہیا اور فنڈنگ کرکے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا جاسکے، کیمیائی ہتھیاروں کے نام پر عراق میں فوجی کشی اور شام میں چشم پوشی کرنے والا امریکہ و ان کے حواری مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسند سرکار کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملنے کے باوجود بھی خاموش ہیں تو اس سے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں کہ امریکی مفادات کو ہندو انتہا پسند، آر ایس ایس کے فاشٹ پیروکاروں کی سہولت کاری سے حاصل کیا جاسکے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
52646