Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگیوں کیلئے “زما کے پی ” کے نام سے موبائل ایپ کا اجراء

شیئر کریں:

صوبے میں ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگیوں کیلئے “زما کے پی ” کے نام سے موبائل ایپ کا اجراء

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخواحکومت نے ای گورننس کی جانب ایک اور سنگ میل عبور کرتے ہوئے ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگیوں کیلئے “زما کے پی ©” کے نام سے موبائل ایپ کا اجراءکردیا ہے جس کے ذریعے صارفین موبائل فون سےگھر بیٹھے ٹیکسوں کی ادائیگی کر سکیں گے ۔ اس سلسلے میں جمعرات کے روز ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے باضابطہ طور پراس ایپ کااجراءکیا ۔صوبائی کابینہ اراکین شاہ محمد وزیر، انور زیب خان، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں خلیق الرحمن کے علاوہ اراکین صوبائی اسمبلی ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی تقریب میں شریک تھے۔

ابتدائی طور پر اس ایپ کے ذریعے گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی آن لائن ادائیگی ممکن ہو گی جبکہ اگلے مرحلے میں گاڑیوںکے دیگر ٹیکسوں اور پراپرٹی ٹیکسوں کی آن لائن ادائیگیوں کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے علاوہ دیگر محکمے بھی اس ایپ کو اپنی آن لائن ٹیکس کولیکشن کیلئے استعمال کر سکیں گے ۔ اس ایپ کی مدد سے تعلیمی بورڈ کی فیسوں کی بھی آن لائن ادائیگی کی جا سکے گی ۔ ” زماکے پی ” ایپ برطانوی حکومت کے ادارے فارن کامن ویلتھ ڈویلپمنٹ آفس اور سب نیشنل گورننس پروگرام کی تکنیکی اور مالی معاونت سے تیار کیا گیا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ” زما کے پی ” موبائل ایپ کا اجراءصوبائی حکومت کا ایک تاریخی اورای گورننس کی جانب ایک اور اہم قدم ہے جس سے شہریوں کو ان کی دہلیز پر تمام جدید سہولیات کی فراہمی کے علاوہ ٹیکس کولیکشن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ ٹیکسوں کی آسان اور موثر طریقے سے ادائیگی کا نظام عوام کو سہولت کی فراہمی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس ایپ کے اجراءسے ٹیکسوں کی ادائیگی میں نہ صرف آسانی میسر آئے گی بلکہ ٹیکسز کی ادائیگیوں میں مڈل مین کا کردار بھی ختم ہو گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایکسائز سمیت دیگر محکموں میں بھی ای گورننس سسٹم رائج کر رہے ہیں جس سے جملہ اُمور میں سوفیصد شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اُنہوںنے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنی ای گورننس سٹرٹیٹجی کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا موثر استعمال عمل میں لارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ بھر میں نہروں کے نظام کو بھی ڈیجٹیل کرنے پر کام جاری ہے جس سے صارفین کو پانی کے موثر استعمال سے متعلق تمام معلومات فراہم کی جائیں گی ۔اس کے علاوہ زمینوں کے ریکارڈ کو بھی ڈیجیٹلائز کیا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کو آئی ٹی کے شعبے میں ترقی دینے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تمام صوبائی محکموں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کے دور رس نتائج سامنے آرہے ہیں۔ تمام سمریوں کی آن لائن ٹریکنگ کیلئے ای۔ سمری سسٹم متعارف کرا رہے ہیں جس سے وقت کی بچت اور سمریز کی ٹریکنگ میں آسانی ہو گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت دیگر شعبوں میں بھی انقلابی اقدامات اُٹھارہی ہے ۔پشاور ۔ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے منصوبوں کی منظوری ہو گئی ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز کاقیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ کھیلوں کے شعبے میں پہلی بار ہاکی لیگ کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس ایپ کی تیار ی میں معاونت پرفارن کامن ویلتھ ڈویلپمنٹ آفس اور سب نیشنل گورننس پروگرام کا شکریہ ادا کیااور اس ایپ کے اجراءپراُنہیں مبارکباد پیش کی ۔
<><><><><><>

دریں اثنا صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا ایک اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہو اجس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ۔ چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیازاور انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری کے علاوہ متعلقہ سول و عسکری حکام، پولیس اور انٹیلجنس اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور خصوصاً صوبے میں غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی مزید بہتر بنانے سے متعلق اُمور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کئے گئے ۔ اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانےکیلئے سکیورٹی فورسز ، پولیس اور انٹیلیجنس اداروں کے درمیان موثر کوآرڈنیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس مقصد کیلئے متعلقہ اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ۔


اجلاس میں غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے اشتراک سے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں غیر ملکیوں کی سکیورٹی کیلئے صوبائی سطح پر خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر ایسے خصوصی سیل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کیلئے پولیس کی اسپیشل سکیورٹی یونٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔


اجلاس کے شرکاءسے اپنے خطاب میں امن و امان کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے اپنی استعداد اور وسائل سے بڑھ کر اقدامات اُٹھائے گی ۔ اُنہوںنے کہاکہ موجوہ علاقائی صورتحال سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے متقاضی ہیں اسلئے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو معمول سے ہٹ کر غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اُنہوںنے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں پولیس اور دیگر اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی ۔


شیئر کریں: