Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پھر کہتے حکمران غلط ہیں!! – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

پیڑول مہنگا ہو گیا آپ کیا کہیں گے؟ حکمران اچھے نہیں ہیں۔علاج مہنگا ہو جائے تو حکمران اچھے نہیں ہیں۔ اشیاء خوردونوش مہنگی ہو جائیں تو حکمران اچھے نہیں ہیں۔ ملک میں کچھ بھی غلط ہو جائے تو سارا ملبہ حکمرانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ یا یہ ہماری عادت بن چکی ہے؟ اپنے آپ کو معصوم اور بے گنا ہ ثابت کرنے کے لیے ذمہ داری یا تو شیطان کے سر تھونپ دیں یا حکمران اور سیاستدان کے۔ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو معلوم ہوگاحکمرانوں سے زیادہ اس سب کے ذمہ دار ہم خود ہیں اور ایسے حکمران اللہ تعالی نے ہم پر ہمارے اعمال کی وجہ سے مسلط کیے ہوئے ہیں۔جیسی عوام ویسے حکمران۔ پٹرول پمپ پرکم پٹرول ہم ڈالیں،پانی میں دودھ ہم ملائیں، شہد میں شیرہ ہم ملائیں، گھی میں کیمیکل ہم ملائیں،ہلدی میں مصنوعی رنگ ہم ملائیں،مرچوں میں سرخ اینٹیں پیس کرہم ملائیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!! چینی کے تھیلے میں پانی ڈال کر وزنی ہم کریں، سٹابری اور تربوز کو رنگ کے ٹیکے ہم لگائیں، ادرک کو پانی میں ڈال کر ہم وزنی کریں،چھوارے گیلے کر کے رمضان میں کجھور بتا کر ہم بیچیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!ہوٹلوں میں مردار گوشت ہم کھلائیں، پرانی باسی دال سبزی تازہ میں

ہم مکس کریں، روٹی کا ریٹ زیادہ اور وزن ہم کم کریں، بجلی کے بل کے بجائے کونٹی ہم ڈالیں، بجلی کے بل میں میڑ ریڈر سے مل کر ہیرا پھیری ہم کریں،لائین مین سے ملک کر میڑ کی رفتارہم کم کروائیں، ٹیکس کے بجائے رشوت ہم دیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!مہنگے ہوٹل پر ویٹر کو ٹپ اور ڈھابے پر غریب ویٹر کو جھاڑ ہم پلائیں، ناچنے والوں پر پیسے نچھاور اور مانگنے والوں کوہم کہیں مانگتے شرم نہیں آتی،بہن کو ڈانٹ کر گرل فرینڈ سے میٹھی باتیں ہم کریں، نماز میں ریاکاری ہم کریں،ناپ تول میں کمی ہیں کریں پھر کہتے حکمران غلط ہیں! جہیز بناتے بناتے بیٹیوں کو بوڑھا ہم کریں، اپنے تین فٹ کی بیٹی اور بہو قدآور ہم تلاش کریں، مذہبی حلیہ کے ساتھ منگنی اور ولیمے کا خرچہ ہم پوچھیں، نماز روزہ کے پابندی کی باتیں کر کے مہنگے شادی حالوں میں شادیاں ہم کروائیں، کولیگز کو ہر ہفتے اور بہنوں کو سال بعد عید پر فون ہم کریں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!بریانی کھا کے ووٹ ہم دیں، نوکری کے لیے رشوت ہم دیں،فائلوں کے لیے جیب ہم گرم کریں، بچوں کی فیس لیٹ مگر پولیس والے کے لیے پیسوں کا بندوبست فورا ہم کریں،اشارہ کاٹ کر ایمرجنسی میں ہسپتال پہنچنے کا بہانہ ہم کریں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!

روزانہ ایک پیکٹ سگریٹ ہم پئیں، نسوار کی تھیلیاں ہم خالی کریں، پکے سگریٹ ہم بنائیں، اوبر کی سواری بیٹھا کرکینسل کر کے سواری سے مطلوبہ کرایہ بے ایمانی کرتے ہوئے ہم لیں، رکشہ میں سواری کو جان بوجھ کر لمبے راستے سے لیجا کر اپنا کرایہ ہم بڑھائیں، سی این جی پر گاڑی چلا کر پیڑول کے حساب سے کرایہ ہم لیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!سرکاری سکول سے تنخواہ لیکر پرائیویٹ کالجوں، اکیڈمیوں اور یونیورسٹیوں میں ہم پڑھائیں، مسجد میں دس روپے چندہ وہ بھی پرانا نوٹ اور شادی میں ناچنے والوں پر نوٹوں کی بارش ہم کریں، محلے والوں کی کمیٹی کے پیسے ہم کھا جائیں، سیکھنا دین ہے تنخواہ چندہ کر کے چند ہزار ہم دیں،دین کے لیے مرنے کو تیار مگر مولوی صاحب کو اچھی تنخواہ ہم نہ دیں، ختم نبوت کے جلسے سے واپس آکر ٹک ٹاک ویڈیوز ہم دیکھیں، گھر میں پردے کی تلقین کرتے ہوئے پڑوسیوں کے گھروں میں ہم جھانکیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!! بارش میں پیدل چلنے والوں پر گاڑی سے کیچڑ ہم اچھالیں، اپنے گھر کا کوڑا باہر گلی میں ہم پھینکیں،نلکہ کھلا چھوڑ کر پانی ہم ضائع کریں،کمپریسر لگا کر پورے محلے کی گیس ہم استعمال کریں، کونٹی ڈال کر اے سی میں ہم سوئیں، اللہ سے بہتر کی دعائیں اوراللہ کے نام پر پھٹے پرانے کپڑے، ٹوٹی ہو پلیٹیں، مڑی ہوئی چمچ، بغیر ہتھی والے کپ ہم دیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!

دہائیوں تک ایک ہی پارٹی کو ووٹ دے کر ہم جتوائیں، ایم این اے، ایم پی اے، ایم ایل اے کی گاڑی کے ساتھ لٹک کر نعرے ہم لگائیں، امیدوار کے جیتنے پر بھنگڑے ہم ڈالیں، مٹھائیاں ہم تقسیم کریں، پورا سال بھوکے رہ کر حلیم کی پلیٹ پر ووٹ ہم بیچیں، اپنے لیڈروں کا دفاع اور دوسروں کو گالیاں ہم دیں، گھر میں نخرے اور کے ایف سی پر لائین میں لگ کر آرڈر خود ہم لیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!!حافظہ عالمہ فاضلہ بن کر میک اپ ہم کریں، داڑھی رکھ کر ٹوپی پہن کر تسبیح جیب میں ڈال کر ٹک ٹاک ہم بنائیں، آدھی آدھی رات تک فون پہ لمبی کالیں ہم کریں، فیشن اور اوپن مانڈیڈ کے نام پر بے حیائی اور فحاشی ہم پھیلائیں، برقعہ پہن کر نکلیں پھر اسے اتار کر بیگ میں ہم چھپائیں، گھر سنبھالنا عورت کا کام ہے اور روٹیاں تندور سے منگوائیں، دن 12بجے سو کر ہم جاگیں، نہ نماز نہ عبادت اللہ سے سب کچھ ملنے کی امید ہم لگائیں پھر کہتے حکمران غلط ہیں!مریض کو ٹھیک کرنے کے بجائے ٹیسٹوں اور ادوایات کے تھیلوں سے نفسیاتی ہیجان میں ہم مبتلا کریں، ساری زندگی سروس میں گزارنے والے ادھیڑ عمر افراد کو پنشن کے لیے خوار ہم کریں،

بس میں خواتین کی سیٹوں پر ہم بیٹھ جائیں، عورت سے معاشقے کرنے اور نچانے کو ہم تیار مگر شادی کے لیے تیار نہیں، سارا سال پڑوس میں غریب بھوکے رہتے، ان کے بچے ہوٹلوں پہ کام کرتے مگر ہم قربانی ضرور دیتے اور حج کرنے چلے جاتے، قرض ادا نہیں کرتے مگر سیر و تفریح کے لیے پیسوں کا بندوبست کر لیتے، مفلسی کا رونا روتے مگر شادیوں پر جی بھر کے فضول خرچی کرتے، پالتوں کتوں کو لے کر پارک میں گھومتے مگر بوڑھے والدین کو ساتھ نہیں لاتے، کبوتروں کے پیچھے جون کی گرمی میں دھوپ میں کالے ہو جاتے مگر بچوں کو سکول سے لینے کے لیے ماں جاتی، مرغ اور کتے لڑانے کے لیے ان کی تربیت کرے مگر بچوں کی تربیت نہیں کرتے، بچوں کو موبائل پہ لگا کر خود بھی موبائل لیکر گھنٹوں نیکی کی پوسٹیں کرتے مگر اٹھ کر نماز پڑھنے مسجد نہیں جاتے، مہنگے ہوٹلوں اور کیفے ٹیریاز، کے ایف سی، میکڈونلڈ پر کھانے کی تشہر کرتے مگر مسجد جا کر نماز پڑھنے اورکسی کی مدد کرنے کی سیلفی نہیں بناتے پھر کہتے حکمران ٖغللط ہیں!

سینما کے باہر فلم کے بعد بند ہونے کا نہیں لکھا ہوا مگر مسجد کے باہر درج ہے، سینما سے آرام سے فلم پر تبصرے کر تے نکلتے مگر مسجد سے یوں بھاگتے جیسے جیل سے آزاد ہوئے ہوں، سینما فلم لگنے سے پہلے جا کر انتظار کرتے جبکہ جمعہ پڑھنے دوسری اذان سن کر ہی جاتے، سارا سال ایک نماز بھی ادا نہ کرنے والے عید پڑھنے ضرور جاتے، سڑک پر حادثہ ہوجائے رک کر دیکھ کر گزر جاتے یا ویڈیو بنانے کی کوشش کرتے، ون اویلنگ کرتے، بائیک کے سلنسر نکال کر ناک میں دم کردیتے،باجے بجا بجا کر جینا محال کر دیتے، شادی پر تین دن گانے بجانے اور ناچنے کے بعد رخصتی پر قرآن کے سائے میں بیٹی رخصت کرتے پھر کہتے حکمران غلط ہیں!نبی کے دفاع کے لیے تاویلیں پیش کرتے مگر اپنے سیاسی لیڈر کے لیے دھرنے، احتجاج، ہڑتالیں اور مظاہرے کرتے، فرضی بھوک ہڑتالی کیمپ لگاتے، سود کا کاروبار کرتے، یتیموں کا حق مارتے، محتاجوں کو دھکے دیتے، بیواوں اور غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرتے پھر کہتے حکمران غلط ہیں!نلکے کا پانی منرل واٹرل بناکر ہم بیچتے، مردہ مرغیوں کے شوارمے ہم کھلاتے، جانوروں کی آنتوں سے گھی ہم بناتے، گلے سڑے پھل کاٹ کر جو س، فروٹ چاٹ، دہی بھلے وغیرہ ہم بیچتے،پھل بیچتے  ہوئے خراب پھل ہم شامل کر دیتے، سبزی میں خراب سبزی ہم ڈال دیتے، گھر سے سامان کے لیے دیے گئے پیسوں میں سے پیسے ہم مارتے،پھر کہتے حکمران غلط ہیں!ہمیں اپنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے جب ہم یہ سب چھوڑ دیں گے تو اللہ ہم پر ایسے حکمران بھی مسلط نہیں کرے گا۔ مگر ہم نے خود کو درست کرنے کے بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ جتنا وقت ہم دوسرں کے لیے نکالتے اتنا وقت اگر ہم اپنی اصلاح کرنے میں صرف کریں تو ہم بہت حد تک دل چکے ہوتے۔جب تک ہم نہیں بدلیں گے تب تک کچھ نہیں بدلنے والا۔


شیئر کریں: