Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغانستان میں شکست کے بعد جنوبی ایشیاء کیلئے امریکی پالیسی – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

پشتون بہترین دوست اور بدترین دشمن کے طور پرمشہور ہیں۔سکندراعظم، برطانیہ، روس اور اب امریکہ یہاں آکر زخموں سے چور ہو کر نکلے۔ تاریخ گواہ ہے افغانستان کی سرزمین سلطنتوں کا قبرستان ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کے لیے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دو بڑی غلطیوں کا رتکاب کیا جن کی وجہ سے 90دن کی مزاحمت کی امید خاک میں مل گئی اور طالبان نے چند دن میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔ پہلی غلطی ایمرجنسی منصوبے کا فقدان تھا اور دوسری غلط امریکہ نواز افغانیوں، اور اتحادی عملے کو وقت سے پہلے افغانستان سے نکالنا تھا۔ دوسری غلطی میں کرونا اور بیوروکریسی نے کلیدی کردارادا کیا۔ امریکہ جتنی عجلت میں آیا تھا اس سے زیادہ عجلت اور بدحواسی میں فرار ہو چکا ہے۔

امریکہ روانگی کے بعد پاکستان اور بھارت مختلف انداز میں اپنا اثرورسوخ استعمال کریں گے۔ پاک افغان تعلقات بہت دیرینہ ہیں اورہم کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے ایسے تعلق میں پروئے ہوئے ہیں جسے ختم کرنا ناممکن ہے۔پاک افغان مذہبی، ثقافتی، معاشی، جغرافیائی، سیاسی، سماجی اور دفاعی بندھن اتنے مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت افغانستا ن میں ایک نومولود کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے آقا امریکہ کے جاتے ہی رفو چکر ہو چکا ہے۔ بظاہر پاکستان افغانستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر تسلیم کروانے میں بھر پور مدد کرے گا کیونکہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی امریکی پالیسی غیر واضع ہے۔

تعجب اس بات پہ ہے اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات کر کے خلاصی طلب کر سکتا ہے اور جنگ میں ہار کر بھاگ چکا ہے تو اب طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے۔ اس ساری صورتحال میں بھارتی امیدوں پر پانی پھر چکا ہے اب وہ من گھڑت پروپگنڈہ کے زریعے اپنے رنج و الم کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب بھارت کے لیے ایک ہی چارہ ہے کہ وہ آرام سے بیٹھے اور طالبان کے رویے کے مطابق چلنے کو تیار رہے۔ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کے مستقبل میں امریکہ کے کہنے اور پاکستان میں دوبارہ سے دہشت گردی پھیلانے کے لیے طالبان حکومت کو تسلیم کر لے۔

یہ عمل صرف تین صورتوں میں ہی ممکن دکھائی دیتا ہے امریکہ کا حکم بجا لانے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری کو بچانے کے لیے۔ چینی، روسی، اور پاکستانی نقوش افغانستان میں اتنے گہرے ہیں کہ بھارت کی دال گلتی دکھائی نہیں دیتی یہی وجہ ہے بھارت پاکستان میں چینی باشندوں کو دہشت گردی کا ہدف بنا رہا ہے۔ بھارت پہلے بھی افغانستان میں پاکستان مخالف مہم جوئی کے لیے آیا تھا اور اس نے پاکستان مخالف افغانیوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کو ملا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش کی۔ اب بھارت کے لیے صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ طالبان نے پاکستان کی حمایت کے لیے ان مخالف گروہوں کا سر کچل دینا ہے۔

روس اور چین بھی افغانستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں کیونکہ دونوں افغانستان سے امریکہ کے چلے جانے کے خوہاں تھے۔ یقینا امریکہ اپنی جنوبی ایشیاء سے متعلق پالیسی میں روس اور چین کو کھلی چھوٹ نہیں دے گا بلکہ پالیسی میں ردوبدل کر کے ان پر کڑی نظر رکھے گا۔ ایران جسے بھارت نواز سمجھا جاتا ہے امریکہ کے جانے پر خوش ہے کیونکہ امریکہ سے سب سے زیادہ خطرہ ایران کو تھا۔ افغانستان سے انخلاء کے بعد یقینا امریکہ ایران سے متعلق اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی لائے گا۔ خطے میں بیرونی عناصر کی مداخلت اور سراہیت روکنے کے لیئے چین، روس، ایران اور پاکستان کا متحدہ بلاک بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی خطے کے بیشتر ممالک کے لیے ایک لحاظ سے مفید تھی کیونکہ امریکہ کی موجودگی نے خطے میں سیکورٹی کے فرائض سنبھال رکھے تھے تاہم سب کے مفادات داو پر لگے تھے اس لیے سبھی امریکہ کی واپسی کے خواہاں تھے۔ امریکی کی جنوبی ایشیاء کے لیے پالیسی ہمیشہ سے بھارت نواز رہی ہے اور اس لحاظ سے بھارت کے علاوہ نہ تو امریکہ کے پاس کوئی اور آپشن ہے اور نہ ہی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے۔

جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی پالیس کا محور مرکز امریکی مفادات کا دفاع ہو گا اور اس ضمن میں وہ ہر ممکنہ تبدیلی لانے کی کوشش کر ے گا۔دراصل امریکہ افغانستان سے نکل کر بھارت کو خطے میں مزید سپیس دینا چاہتا تھا جو امریکہ کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا۔ دوسری وجہ امریکہ چین کو روکنے کے لیے بھارت کو اس کے مد مقابل لانے کی سہی کر رہا ہے اور بھارت بھی ناچاہتے ہوئے امریکہ کا اتحادی بنا کیونکہ اس کے پاس بھی خطے میں کوئی اور آپشن موجود نہ تھا۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ نوازی سے اس کا ایشیائی اجارہ داری کا خواب پورا ہو جائے گا تو یہ خام خیالی ہے۔ اب امریکہ اپنی جنوبی ایشیاء کے لیے پالیس میں ایسی تبدیلی لائے گا جس کے زریعے وہ بھار ت اور چین کی کشمکش کی وجہ سے نالاں چھوٹے ممالک کو دانہ ڈالے گا اوریہ دانہ قرض کے جال، جمہوریت کی پائیدار ی اور قومی ترقی کے نام پر ڈالا جائے گا۔ جنوبی ایشیاء کی پالیس میں مائنس پاکستان کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ افغانستان میں امن کے لیے امریکہ کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے اور اس ضمن میں بھارت امریکہ کے کسی کام کا نہیں ہے۔ طالبان کا خلاف توقع چند دنوں میں افغانستان کا کنٹرو ل سنبھال لینا سب کے لیے حیران کن ہے۔

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سابقہ افغان حکومت، افغان عوام اور مغربی طاقتوں کے بیچ کچے دھاگے سے بنا گیا ناپائیدار تعلق تھا جو ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ علاقائی اور عالمی ماہرین مستقبل قریب میں چین، روس، پاکستان اور ایران کے کھیل کو کامیاب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔بھارت کو یہ خوف بھی کھائے جا رہا ہے کہ کہیں طالبان افغانستان میں استحکام کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر کا رخ نہ کرلیں اور افغانیوں کے بارے کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی جب وہ لڑنے لگ جائیں تو کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اب بھارت خطے میں تنہا اور امریکہ کے رحم و کرم پر ہے اور امریکہ اسی وقت کے انتظار میں تھا تاکہ بھارت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرے۔ امریکی کی جنوبی ایشیاء پالیس بھارت نواز ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل ہو تا دکھائی نہیں دیتا۔

جنوبی ایشیاء میں موجودگی اور کنٹرول امریکہ کی مجبوری ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے آپ کو دنیا کی سپر پاور برقرارنہیں رکھ سکتا۔ بھارت کو یہ بات جان لینی چاہیے تاریخ گواہ ہے امریکہ نے آج تک کسی کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا ہے۔ طالبان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسوں کو ایسے ڈوپلومیٹک اندازمیں بنائیں اور چلائیں تاکہ تصادم کے بجائے امریکہ میں افغان حکومت کا پیسہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں یہ ان کے معاشی استحکام کو مضبوط کر ے گا۔

افغانستان کو کھنڈربنانے والے امریکہ اور اس کے حواریوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ نہ صرف معافی مانگیں بلکہ اپنی منتخب کردہ حکومت کی ناکامی کو تسلیم کر تے ہوئے طالبان حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کی تعمیرو ترقی، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ امریکہ کے لیے اپنی جنوبی ایشیاء پالیسی کو بھارت نواز بنانے کے بجائے افغان نواز بنانی چاہیے کیونکہ افغانستان بھارت کی نسبت امریکہ کے لیے کئی گناہ زیادہ مفید ثابت ہو سکتاہے۔ ایک پر امن اورمستحکم افغانستان خطے، عالمی سطح، علاقائی اور بیرونی مداخلت کاروں سب کے لیے مفید ثابت ہو گا۔


شیئر کریں: