Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کا نرسز کی بھرتیوں میں عوامی شکایات کا نوٹس ، تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں کے لئے نرسز کی بھرتیوں کے سلسلے میں عوامی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے بھرتیوں کے سارے عمل کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی کی ہدایت پر معاملے کی چھان بین اور تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو بھرتیوں کے سارے عمل کی چھان بین کرکے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس سلسلے میں باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔


انکوائری کمیٹی سیکرٹری لاء، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکرٹری پلاننگ پر مشتمل ہے۔ اعلامیے کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا۔ کمیٹی بھرتیوں کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار کی مکمل چھان بین کے علاوہ اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ بھرتی ہونے والے امیدواروں میں سے زیادہ ےر کا تعلق دیگر اضلاع سے کیوں ہے۔ کمیٹی قبائلی اضلاع میں اسی طرح کی دیگر بھرتیوں میں زیادہ سے زیادہ مقامی باشندوں کو بھرتی کرنے کے لئے مروجہ طریقہ کار میں ترامیم اور پالیسی تجاویز بھی پیش کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سرکاری بھرتیوں میں سو فیصد شفافیت اور میرٹ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اورمذکورہ بھرتیوں میں میرٹ اور مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

گورنر اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کی اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان اور وزیر اعلی محمود خان نے اتوار کے روز کاٹلنگ مردان کا مختصر دورہ کیا جہاں انہوں نے سنئیر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کی وفات پر اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے اپنے گفتگو میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کی گرانقدر صحافتی اور سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے گورنر اور وزیر اعلی نے کہا کہ رحیم اللہ یوسفزئی کا انتقال نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے صوبے اور صحافت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے، مرحوم افعان امور پر نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک مستند حیثیت رکھتے تھے، وہ صحافت کے شعبے میں ایک ادارے کی حیثیت رکھتے تھے اور کسی بھی معاملے پر ان کے رپورٹس اور تجزیے سند کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی ایک نامور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنے علاقے کے مسائل کے حل اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کی بات کی۔ گورنر اور وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ مرحوم کی شاندار خدمات کو عرصہ دراز تک یاد رکھا جائے گا اور صوبائی حکومت ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں کوئی بڑا منصوبہ ان کے نام سے منسوب کرے گی۔َِِ

وزیراعلیٰ کا خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے زیر تکمیل منصوبے کے پہلے مرحلے کو اگلے سال جون تک مکمل کرنیکی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے زیر تکمیل منصوبے کے پہلے مرحلے کو اگلے سال جون تک مکمل کرکے اسے ہر لحاظ سے فعال بنانے کیلئے ضروری اقدامات ا ٹھائے جائیں تاکہ مزید کسی تاخیر کے بغیر اس منصوبے کو مکمل کیا جا سکے اور عوام جلد سے جلد اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے منصوبے کو صوبے کے عوام کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیتے ہوئے ا نہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے اس اہم منصوبے کی تکمیل کے سلسلے میں مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔


وہ گزشتہ روز خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا، سیکرٹری صحت امتیاز حسین شاہ، وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، ہاسپٹل ڈائریکٹر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ڈاکٹر شہزاد اکبر اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو منصوبے کی تکمیل پر اب تک کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کا تعمیراتی کام90 فیصد حصہ مکمل کیا گیا ہے اور منصوبے کا پہلا مرحلہ جون2022 تک مکمل کرکے فعال کیا جائے گا جس کے تحت ایڈمنسٹریشن، ایمرجنسی اور او پی ڈی بلاک اور پتھالوجی ، سائیکوتھراپی، فارمیسی کے شعبوں کے علاوہ 60 بستروں پر مشتمل وارڈز قائم کئے جائیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ منصوبے کا دوسرا مرحلہ دسمبر2022 تک مکمل کرکے فعال کیا جائے گا جس کے تحت 120 بستروں پر مشتمل وارڈز، چھ آپریشن تھیٹرز ، سرجیکل آئی سی یوز، کیتھ لیب اور پرائیوٹ رومز کے علاوہ ریڈیالوجی کا شعبہ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح منصوبے کا تیسرا مرحلہ جون2023 تک مکمل کیا جائے گاجس کے تحت نرسنگ ہاسٹل ، بیچلرز ہاسٹل، ڈاکٹرز فلیٹس ، ایڈیٹوریم ، 70 بستروں پر مشتمل وارڈز کے علاوہ پرائیوٹ رومز ستمبر تک مکمل کئے جائیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ان تینوں مرحلوں کی تکمیل پر مزید 2.29 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ ادارے پر تعمیراتی کام مکمل ہوتے ہی اسے ہر لحاظ سے فعال بنانے کے لئے درکار افرادی قوت کی بھرتیوں پر ابھی سے کام شروع کیا جائے تاکہ ادارہ مزید کسی تاخیر کے بغیر لوگوں کو خدمات کی فراہمی شروع کرے۔

دریں اثنا وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے ضلع تورغر میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ درایں اثناءوزیر اعلی نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچنے اور ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر اعلی نے ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ گھرانوں کو فوری ریلیف اور واقعے کے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی۔


شیئر کریں: