Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں خود کشی کے روٹ کاز معلوم کرنے کیلٸے جامع ریسرچ کی جائے۔ چترالی وکلاء

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال رورل سپورٹ پروگرام CRSP کے زیر اہتمام پشاور ہاٸی کورٹ میں چترالی وکلاء اور مختلف طبقہ فکر کے افرادکی طرف سے عالمی یوم انسدادخودکشی منایا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے مختصر واک کیا ۔ بعد آزان مقررین سمندر خان ایڈوکیٹ صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن پشاور ، رحمت علی ایڈوکیٹ فنانس سیکرٹری پشاور ہاٸی کورٹ ، محب اللہ تریچوی سنٸیر ایڈوکیٹ ہاٸی کورٹ اور شکیل درانی ایڈوکیٹ ہاٸی کورٹ و ایڈواٸزر سی آر ایس پی نے خطاب کرتے ہوٸے چترال میں بڑھتے ہوۓ خود کشی کے واقعات پر انتہاٸی تشویش کا اظہار کیا ۔ اور کہا۔ کہ چترال کی نوجوان نسل خصوصا جوانسال بچیوں اور خواتین کی خودکشیوں کی تعداد میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ جبکہ چترال ملک کے دوسرے اضلاع کی نسبت اچھی شرح خواندگی اور بے جا پابندیوں سے آزاد تہذیب و ثقافت کا حامل علاقہ ہے ۔ اس کے باوجود خود کشی میں دن بدن اضافہ ہو رہاہے ۔ جس کی بنیادی وجوہات جاننے اوراس کے تدارک کیلٸے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ معاشرتی ناہمواریوں سے کوٸی بھی معاشرہ خالی نہیں ۔ جبکہ بہت سے علاقے چترال کی نسبت زیادہ غربت کا شکار ہیں ۔ اس کے باوجود چترال میں بڑھتی ہوٸی خودکشی کے واقعات افسوسناک اور تشویشناک ہیں ۔ مقررین نے حکومت اور عالمی سطح پر کام کرنے والے اداروں سے پر زور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال میں خود کشی کے روٹ کاز معلوم کرنے کیلٸے جامع ریسرچ کی جاٸے ۔ پولیس کی طرف سے خود کشی کے واقعات کے اسباب ساٸنسی بنیادوں پر انکواٸری کرکے معلوم کٸے جاٸیں ۔ کیونکہ بعض خود کشی کے واقعات وقت گزرنے کے ساتھ قتل عمد کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔ جس میں بریپ قتل کیس بطور مثال ہمارے سامنے ہے ۔ جسے ابتدا میں خودکشی قرار دیا گیا تھا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا۔ کہ سکول و کالج اور یونیورسٹی سطح پر آگہی مہم چلانے کیلٸے سی آر ایس پی سے تعاون کیا جاٸے ۔

chitraltimes crsp layers meeting on suicide

شیئر کریں: