Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خاندان اور ہمارے ایوان22 – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

خاندان اور ہمارے ایوان22 – پروفیسرعبدالشکورشاہ

ہم ریاست کے نام پر سیاست کے نعرے لگاتے لگاتے ریاست کو سیاست کی نظر کر دیتے ہیں۔ طبعی کرونا کی طرح ہمارا وطن عزیز بے شمار غیر طبعی کرونوں کی لپیٹ میں ہے مگر ان کے خلاف نہ ہم لاک ڈاون کرتے، نہ ویکسین بناتے، نہ زبردستی لگواتے بلکہ ان کو سمارٹ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کرونا سے بچاو کی طرح بے شمار جرائم سے بچنے کے ماسک بھی موجود ہیں جنہیں پہن کر آپ بلکل محفوظ رہ سکتے ہیں۔جب پرائیویٹ سکولز، کالجزاور یونیورسٹیز چلانے والے ایم این اے اور ایم پی اے بن جائیں تو تعلیمی بہتری ممکن نہیں ہے۔ جب سرکاری سکولوں میں بھاری تنخواہیں لینے والے اپنے بچوں کوپرائیویٹ سکولز میں پڑھائیں تو انقلاب نہیں آنا۔ جب شوگر مل مالکان وزیر بن جائیں تو چینی نہیں ملے گی، جب آٹا مل مالکان اسمبلیوں اور سینیٹ میں پہنچ جائیں تو آٹا نہیں ملے گا، جب گھی مل مالکان وزیر بنیں گے تو گھی مہنگا ہو گا۔

جب ٹمبر مافیا وزیر جنگلات بنے گا تو جنگلات نہیں بچیں گے، جب غریب کے نعرے لگانے والے امیر بن جائیں تو غریب نہیں ملے گا۔ جب مزدور کے نعرے لگانے والے افسر بن جائیں تو مزدور رلتا رہے گا۔ جب نیا پاکستان بنانا بھول جائیں گے تو پرانے کا یہی حال ہو گا۔ جب رشوت اور سفارش سے بھرتی ہونے والے محکمہ کے سربراہ بن جائیں تو میرٹ نہیں ملے گا، جب سول محکموں پر ریٹائرڈ جنرل تعینات کیے جائیں گے پڑھے لکھے سول لوگ ملک میں نہیں رہیں گے۔ جب قانون شکن عدلیہ میں شامل ہو ں گے تو انصاف نہیں ملے گا، جب سائنس سے نابلد وزیر سائنس بنیں گے تو سائنس نہیں ملے گی، جب غیر متعلقہ اور غیر پیشہ ورانہ افراد وزیر ریلوے بنیں گے تو حادثات ہوں گے۔ جب علماء ممبر و محراب چھوڑ کر سیاست کریں گے تو مساجد کو تالے لگیں گے اور مندر بنیں گے۔ جب ڈاکٹر علاج کے بجائے ہڑتالیں کریں گے تو انسان نہیں رہے گا، جب صحافی قلم فروش بنے گا تو مظلوم نہیں ملے گا۔

جب پولیس ڈاکے ڈالے گی تو ہر گلی میں ڈاکو ملے گا، جب افسر دیر سے آئے گا تو دفتر خالی ملے گا، جب سیاست زدہ لوگ بھرتی کیے جائیں گے توریکارڈ جلے گا فائیلیں نہیں ملیں گی۔ جب مہنگائی کے خلاف بولنے والا مہنگائی کرے گا تو عوام چپ نہیں رہے گی۔ جب 22خاندان پاکستان کو چلائیں گے تو 22کروڑ عوام کی چیخیں سنائی دیں گے۔ جب وزیر تعلیم، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلی افسران کے بچے سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھیں گے تو سرکاری سکول کبھی ٹھیک نہیں ہو ں گے۔جب تک محکمہ صحت کا وزیر اور اس کے اعلی افسران اپنے علاج سرکاری ہسپتال سے نہیں کروائیں گے تب تک سرکاری ہسپتال ٹھیک نہیں ہوں گے۔ جب تک واپڈا والے مفت یونٹ استعمال کریں گے بجلی کے بل کم نہیں آئیں گے۔

جب تک وزراء کی کالونیوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی تب تک لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو گی۔ جب تک وزراء، سیکرٹریز، مشیران وغیرہ کے گھر کے باہر پانی جمع نہیں ہو گا تب تک نکاسی کا نظام ٹھیک نہیں ہو گا۔ جب تک ایم این ایز اور ایم پی ایز کے گھروں کے سامنے کچرے کے ڈھیر نہیں لگیں گے تب تک کوڑا صاف نہیں ہوگا۔ جب رئیل اسٹیٹ کے مالکان وزراء بن جائیں تو قبضہ مافیا ختم نہیں ہو گا۔ جب سیاست دان جرنیلوں سے رشتہ داریاں بنائیں گے تو مارشل لاء لگیں گے، جب تک عوام نہیں بولے گی پستی رہے گی۔ جب پی آئی اے میں جعلی بھرتیاں ہوں گی تو یہ بہتری کے بجائے ڈوبے گی،

جب کارکردگی کے بجائے سفارش پہ کھلاڑی ٹیم میں شامل ہو ں گے تو ٹیم ہارے گی۔ جب پولیس ریاست کے بجائے افراد کے ماتحت ہو گی تو وہ مظلوموں اوربے گناہوں کو گولیاں مارے گی۔جب امپورٹ ایکسپورٹ کے مالکان وزراء کے رشتہ دار بنیں گے تو گاڑیاں مہنگی ہوں گی۔ جب وزیر اعلی کا بیٹا چکن انڈسٹری کا مالک بنے گا تو غریب عید پہ ہی گوشت کھائے گا۔ جب ادوایات مہنگی ہوں گی تو عوام مرے گی،پہلی عوام مرے گی تو نیا پاکستان بنے گا۔ جب کسان کو معاوضہ نہیں ملے گا تو فصل نہیں اگے گی، جب مزدور کی دیہاڑی نہیں لگے گی تو وہ مانگے گا، جب تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار رہیں گے تو جرائم بڑھیں گے۔ جب جہیز کی نمائش ہوگی توبیٹیاں گھر بیٹھے بوڑھی ہوں گی، جب میرا جسم میری مرضی پروان چڑھے گی تو طلاقیں ہوں گی۔

جب عاشق رسول کو جیل اور ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز کو پروموٹ کریں گے تو یادگار جیسے واقعات ہو ں گے۔ حیرت اس بات پہ ہے ہم اپنی حفاظت کے لیے گلی میں سیکورٹی گارڈ اپنے پیسوں سے رکھیں، اپنی گلی سے پانی اپنے پیسوں سے مزدور لگوا کر نکلوائیں، اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولز میں جیب سے پیسے دے کر پڑھائیں، علاج پرائیویٹ ہسپتال سے کروائیں، سفر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ میں کریں، گلی محلے کا کچرا بھی پیسے دے کر اٹھوائیں، گٹر بھی پیسے دیکر کھلوائیں، بجلی کی جگہ جنریٹر اپنے پیسوں سے لگوائیں، سولر بلب اپنے خرچے پر لگوائیں، گلی محلے کا ٹرانسفارمر بھی پیسے دیکر ٹھیک کروائیں تو بھلا حکومت کس بات کے ٹیکس پہ ٹیکس لیے جارہی ہے کیا یہ سب نیا پاکستان بنانے کے لیے پیسے اکھٹے کیے جارہیے ہیں۔

بجلی کے بل غلط آنے پر اپنی جیب سے پیسے لگا کر درست کروائیں، سرکاری اور دفتری غلطی کی تصحیح بھی جیب سے فیس بھر کر کروائیں، قانونی مدد کے لیے پولیس کو رشوت دیں تو ہم پھر ٹیکس کس بات کا دیں؟ جب جہیز پر سخت ریمارکس دینے والا اپنی بیٹی کی شادی پر کروڑوں لگائے گا تو شرمندگی ہوگی۔ جب حب الوطنی کے دعوے کر کے غیر ملکی نیشنیلٹی لے کر بیرون ملک رہیں گے تو حب الوطنی پیدا نہیں ہو گی۔ جب دہائیوں تک ملک میں حکمرانی کرنے کے باوجود اپنے علاج کے لیے کوئی ہسپتال نہیں بنائیں گے تو شرمندگی ہو گی۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر بیرون ملک رہیں گے توپاکستان ترقی کیسے کرے گا۔

جب وزیر خوارک گندم سمگل کروائے گا تو گندم کی کمی ہوگی، جب حکومتی افسران ٹینکر مافیا چلائیں گے پانی نہیں ملے گا، جب ایل ڈی اے رشوت لے کر این او سی دے گی تو پوش ایریاز میں بربادی ہو گی۔ جب کشمیر کے وکیل کا کھوکھلا نعرہ لگائیں گے تو مودی کشمیر کو جیل بنائے گا۔ جب ماڈل ٹاون قتل عام پر تقریریں کرنے والے حکومت بنا کر بھی انصاف نہ دیں تو ساہئیوال جیسے واقعات ہو ں گے۔ جب کرپٹ لوگوں کو وزارتیں دیں گے تو تبدیلی نہیں آئے گی۔

جب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایک خاندان کے درپے رہیں گے تو مہنگائی بڑھے گی، جب آزادکشمیر کا وزیر اعظم انٹرویو لے کر لگائیں گے تو کشمیر آزاد کیسے کروائیں گے۔ آپ نے کہا تھا میں ان کا رلاوں گا بھولی عوام سمجھی وزیروں مشیروں کی بات کر رہے مگر ان سے مراد عوام تھی جو رو رہی ہے اور آپ مسلسل رلا رہیں ہیں۔ وزیر مشیر تو سب آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہیں۔ مہنگی گاڑی میں بیٹھ کر غریبوں کی بستی کا چکر لگانے سے غریب امیر نہیں ہو جاتے بلکہ اس سے خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔ جب معیشت کو چند ماہ میں مضبوط کرنے والے خود چند ماہ تک وزیر خزانہ نہ رہ سکیں تو معیشت نہیں سنبھلے گی۔ جب ہر موقعہ پر فوج بلائیں گے تو سول ادارے مضبوط نہیں ہوں گے۔ جب تک اصلاحات نہیں لائیں گے کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔

جب مہینے میں چار بار پیڑول مہنگا کریں گے تو مہنگائی کیسے کم ہو گی۔ اگر ایک روپیہ پیڑول مہنگا ہو تا ہے تو ہر چیز پانچھ روپے مہنگی ہو جاتی ہے۔ جب وزراء عوام کے ٹیکسوں سے مفت میں کھائیں پئیں گے تو انہیں مہنگائی کہاں نظر آئے گی۔عوام یہ سمجھتی ہے ملک کی بھاگ ڈور حکومت کے ہاتھ میں ہے جبکہ ایسا قطعا نہیں ہے۔ ہر حکومت کو سرمایہ دار، بیوروکریٹس، مافیا، مل مالکان، لینڈ لارڈزاوربااثر طبقات چلاتے ہیں۔ حکومتی پالیسی سازایسی پالیسیاں بناتے ہیں اور بجٹ کو اس انداز میں تیار کر تے ہیں جس سے انہیں فائدہ ہوتا ہے جبکہ عام آدمی ٹیکسوں کی چکی میں پستہ چلا جاتا ہے۔

ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا اور ایسے افراد کو اسمبلیوں تک پہنچانے سے توبہ کرنی ہو گی جن کو ہم اپنے ووٹوں سے اسمبلیوں تک پہنچانے کے بعد ان سے اپنے جائز کام کا کہتے ہوئے بھی نہ صرف کتراتے ہیں بلکہ ملاقات کا موقعہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ سب مسائل کا حل یہ ہے کہ عام آدمی ان سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ٹھیکداروں، امراء اورموروثی سیاست دانوں کے بجائے عام آدمی کو ووٹ دے کر اسمبلیوں تک نہیں پہنچائے۔


شیئر کریں: