Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فوجداری قوانین میں ترمیم ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو سماجی انصاف کے نظام میں اصلاحات کا آخر کار خیال آہی گیا۔ وزارت قانون و انصاف نے نظام انصاف میں اصلاحات کا ایک جامع پیکیج تیار کر لیا ہے جس کے تحت فوجداری نظام میں 225بنیادی جبکہ 644ذیلی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ترمیمی مسودہ قانون کے تحت مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی صورت میں ججوں کو بھی جواب دہ بنایا گیا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے جن قوانین میں ترامیم کی سفارزشات تیار کی گئی ہیں ان میں پاکستان پینل کوڈ،کوڈ آف کریمنل پروسیجر،قانون شہادت،پاکستان پریزنزرولز،پاکستان ریلویز ایکٹ،کنٹرول آف نارکوٹکس ایکٹ سمیت دیگر ترامیم شامل ہیں۔تعزیرات پاکستان کے تحت ملک میں جو قوانین نافذ ہیں وہ نوآبادیاتی دور میں وضع کئے گئے تھے۔

انگریزوں نے ہندوستانیوں کو محکوم رکھنے کے لئے جو قوانین وضع کئے تھے انگریزوں اور ہندووں سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ان کے وضع کردہ قوانین میں کسی ترمیم اور تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ماضی میں بھی بدلتے وقت کی ضروریات کے مطابق قوانین میں ترمیم کی تجاویز طلب کی جاتی رہیں مگر وہ تجاویز صرف فائلوں تک محدود رہیں۔وزارت قانون و انصاف نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا جو مسودہ تیار کیا ہے۔

اس میں گذشتہ 20سالوں کی تمام سفارشات کو یکجا کرکے چاروں صوبائی حکومتوں کے ایڈوکیٹ جنرلز، وکلا،این جی اوز اور دیگر اداروں کی مشاورت کے بعد ایک ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے۔ترمیمی قوانین کے تحت عدالتوں میں مقدمات کے غیر ضروری التوا کو ختم کیا جاسکے گا اور ماتحت عدالتوں میں مقدمات کے التوا کی وجوہات بتانا ہونگی عدالتوں کو مقدمات کے التواء کی تحریری وضاحت دینی ہوگی۔وزارت قانون کا دعویٰ ہے کہ ترمیمی مسودہ قانون کی منظوری اور نفاذ سے ایف آئی آر کے اندراج کا نظام تیز تر ہوگا۔ مقدمات کی پیروی میں غیر ضروری تاخیر بھی ختم ہوجائے گی۔مجوزہ اصلاحات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی قانون شہادت میں شامل کیا جائے گا۔فوجداری قوانین میں اصلاحات کا مسودہ وزیراعظم کوبھجوایا گیا ہے۔

وزیر عظم کی منظوری کے بعد یہ اصلاحاتی مسودہ کابینہ اور بعد ازاں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔کہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ہمارے ہاں مروجہ فرسودہ اور دقیانوسی قوانین کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں مہینوں نہیں بلکہ برسوں لگ جاتے ہیں۔ قصور وار پولیس، وکلاء اور ججوں کو ٹھہرایاجاتا ہے۔ قوانین میں سقم کا فائدہ ہمیشہ مجرموں کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں جرائم کی شرح مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ کسی کو بھی قانون کی گرفت کا خوف نہیں ہوتا۔ فوجداری قوانین کی طرح دیوانی قوانین میں بھی وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔

خصوصاً وراثت کے قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے۔ ہمارے ہاں جائیداد کے تنازعات برسوں نہیں بلکہ صدیوں تک چلتے ہیں۔ جب فیصلہ آتا ہے تو سائل اس جائیداد کی قیمت سے دس گنا زیادہ عدالتوں میں مقدمہ بازی پر لٹا چکا ہوتا ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین معروضی حالات اور وقت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق قوانین میں بھی تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ نصف صدی قبل کے معاشرے، اور آج کے اقدار، حالات و واقعات اور ضروریات میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔

پاکستان کا پہلا متفقہ آئین 1973میں مرتب کیاگیا تھا۔ گذشتہ 48سالوں میں آئین پاکستان میں 23ترامیم کی گئی ہیں۔ 1973سے 1977تک ابتدائی چار سالوں میں آئین کے مندرجات میں 34بار ردوبدل کیاگیا۔ دس مرتبہ ایکٹ آف پارلیمنٹ، 24مرتبہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین کے مندرجات تبدیل کئے گئے۔ اور سات مرتبہ پارلیمنٹ کے ذریعے آئینی ترامیم منظور کی گئیں۔لیکن آزادی کے 74سال گذرنے کے باوجود ملک میں ایک صدی پرانے دیوانی اور فوجداری قوانین نافذ ہیں توقع ہے کہ وزارت قانون و انصاف کی طرف سے فوجداری قوانین میں ترامیم کی سفارشات کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر قومی اور عوامی مفاد میں منظوری دیں گی۔


شیئر کریں: