Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی حکومت کا کڈنی،لیور،بون میروٹرانسپلانٹ سمیت سات مہنگی بیماریوں کے مفت علاج کا فیصلہ

شیئر کریں:

صوبائی حکومت کا کڈنی،لیور،بون میروٹرانسپلانٹ سمیت سات مہنگی بیماریوں کے مفت علاج کا فیصلہ

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے مستحق لوگوں کو علاج معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ایک اور اہم ا ور عوام دوست قدم کے طور پرکڈنی ، لیور ، بون میرو، ٹرانسپلانٹس اور تھیلیسمیا سمیت مختلف سات مہنگی بیماریوں کے مفت علاج معالجے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ،سیکرٹری صحت امتیاز حسین شاہ، سیکرٹری ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن یحییٰ اخوانزادہ، سیکرٹری سوشل ویلفیئر ذوالفقار علی شاہ، سیکرٹری اندسٹریز ہمایون خان، ڈی جی ہیلتھ کے علاوہ دیگرمتعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ کو ان بیماریوں کے مفت علاج معالجے کے طریقہ کار پر بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذکورہ بیماریوں کے مفت علاج معالجے کو صحت کارڈ پلس سکیم میں شامل کیا جا سکتا ہے یا اس کیلئے الگ پروگرام کا اجرا بھی ممکن ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان دونوں آپشنز پر ہوم ورک مکمل کرکے قابل عمل تجاویز منظوری کیلئے پیش کی جائیں ۔اپنی گفتگو میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ طریقہ کار جو بھی ہو مقصد صوبے کے مستحق لوگوں کو ان مہنگی بیماریوں کے علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنا ہے اوراس مقصد کیلئے تمام ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ اجلاس کے شرکاءکو صوبے کے مستحق خاندانوں کو مفت راشن کی فراہمی کیلئے مجوزہ فوڈ کارڈ سکیم اور مستحق طلبہ کی مفت تعلیم کیلئے ایجوکیشن کارڈ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فوڈ کارڈ سکیم کے تحت صوبے کے مستحق خاندانوں کو ماہانہ کی بنیاد پر مفت راشن فراہم کی جائے گی جو بنیادی اشیائے خوردو نوش پر مشتمل ایک پیکج ہو گا۔

اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا گیاکہ اس سکیم پر عمل درآمد کیلئے ابتدائی طور پر مختلف ماڈلز تیار کئے گئے ہیں جن میں سے ایک قابل عمل اور آسان ماڈل کا انتخاب کیا جائے گا۔ایجوکیشن کارڈ سکیم کے بارے میں بتایا گیا کہ اس سکیم کے تحت مستحق خاندانوں کے طلبہ کے تعلیمی اخراجات کی مد میں صوبائی حکومت معاونت فراہم کرے گی ۔ تمام سرکاری سکولوں میں داخلہ فیس کی معافی ، بورڈ امتحانات کیلئے امتحانی فیس کی معافی ، یونیفارم کی مفت فراہمی، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں کتابوں کی مفت فراہمی، مستحق لوگوں کو سرکاری جامعات ، کالجز اور مدارس کی ٹیوشن فیس کی مد میں حکومت کی جانب سے معاونت سمیت دیگر تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اگلے دو سے تین ماہ میں ان تینوں سکیموں کے اجراءکیلئے جملہ معاملات کو حتمی شکل دی جائے ۔

وزیراعلیٰ نے ان مجوزہ اسکیموں کو فلاحی ریاست کے وژن کی جانب اہم پیشرفت اور صوبائی حکومت کا عوام دوست منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے فلاحی ریاست کے وژن کی تکمیل کیلئے نہ صرف پر عزم ہےبلکہ اس سمت میں نتیجہ خیز اقدامات بھی اُٹھا رہی ہے ۔اُنہوںنے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے وعدے کے مطابق ایجوکیشن کارڈ ، فوڈ کارڈ اور کسان کارڈ پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔اُنہوںنے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کمزور اور مستحق طبقوں کا خصوصی خیال رکھے اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی ۔

cm kp mahmood presenting caps to new joined pti

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کی وجہ گزشتہ حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیاں ہیں جنہوں نے ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا اور جس کا خمیازہ آج ہم مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں گزشتہ دور کی غلط معاشی پالیسیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے ، ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لئے دن رات کوششیں کر رہی ہے اور ان کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، آنے والے دنوں میں اس مہنگائی پر قابو پالیا جائے گا اور عوام اپنی زندگیوں میں مثبت اور واضح تبدیلی محسوس کریں گے۔


ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ایک شمولیتی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ضلع بونیر کے سینکڑوں کارکنوں اور معززین علاقہ نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی۔ بونیر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی فخر جہاں بھی اس موقع پر موجود تھے۔ شمولیت کرنے والوں میں آل پاکستان مسلم لیگ کے سابقہ صوبائی صدر سرمیرخان ایڈوکیٹ ، جمعیت علمائے اسلام کے سابق اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی گوہرسرن لال کے علاوہ سید نور الوہاب ، شکور خان، جاوید خان اور دیگر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے، موجودہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کی وجہ سے اس کی عوامی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اس پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سابقہ ادوار میں ضلع بونیر کو پسماندہ رکھا گیا جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت ضلع بونیر سمیت دیگر پسماندہ اضلاع کی یکساں اور پائیدار بنیادوں پر ترقی کے لئے ایک مو¿ثر حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھار ہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ بحیثیت وزیراعلیٰ بونیر کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کی پسماندگی دور کرنے کےلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ نئے شامل ہونے والے کارکنان کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی اور نظام کی تبدیلی کے لئے پارٹی منشور اور پارٹی قائد عمران خان کے وژن کی تکمیل میں اپنا کردار اداکریں گے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کرنے والے کارکنان نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی منشور کی تکمیل کے لئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ آخر میں وزیراعلیٰ نے پارٹی میں شمولیت کرنے والے کارکنوں کو پارٹی ٹوپیاں پہنائیں۔
<><><><><><>


شیئر کریں: