Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان میں صحت سے متعلق اپنی نوعیت کاپہلا ڈیٹا پراسیسنگ سینٹرکاافتتاح

شیئر کریں:

گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ) سیکریٹری صحت گلگت بلتستان میر وقار احمد نے حیات پروجیکٹ کے تحت گلگت میں ایک نئے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ حیات پروجیکٹ کو آغا خان فاؤنڈیشن کینیڈا اور گرینڈ چیلنجز کینیڈا نے مشترکہ طور پر مالی اعانت فراہم کی ہے، اور یہ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان 2019سے گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور چترال، خیبر پختون خواہ کے منتخب علاقوں میں شروع کیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، میر وقار احمدنے کہا “حیات پروجیکٹ گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ تھا۔ یہ پروجیکٹ ضلع غذر میں شروع کیا گیا ہے اور اس نے صحت سے متعلقہ اعدادو شمار کے جمع کرنے اور اس کے تجزیے میں بہت مدد کی ہے”۔
ڈیٹا سینٹر کو آغا خان یونیورسٹی نے آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے تعاون سے محکمہ صحت، گلگت بلتستان کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ ڈیٹا سینٹر ایک سرور، ایک سرور روم، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، نیٹ ورک سوئچ اور دیگر ہارڈ ویئر کے ساتھ ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا ہے تا کہ محکمہ صحت، گلگت بلتستان کو فنڈ کی مد ت سے باہر آزادانہ طور پر حیات پروجیکٹ کے کام جاری رکھنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے سی ای او ندیم عباس نے کہا، ” یہ ڈیٹا سینٹر حیات اقدام کودیرپا بنانے اور ہمارے حکومتی شراکت داروں کو صحت سے متعلق اہم ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز کرنے میں اہم کردار ادا کرنے میں اگلا قدم ہے”۔

حیات پروجیکٹ کو آغا خان یونیورسٹی نے ڈیزائن کیا ہے جس کا مقصد ضلعی اور صوبائی سطح پر صحت کے نظام میں احتساب، شفافیت اور گورننس کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔اس میں حیات نامی ایک موبائل ایپ شامل ہے، جو کہ ہیلتھ ورکرز کو مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کرنے اور برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اور صحت سے متعلق امور، جیسے حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت،بچوں کی غذائیت، تولیدی صحت اور زچگی کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی کے سیشن منعقد کرتا ہے۔ حیات میں ایک پائیدار، ڈیٹا پر منحصر ویب پورٹل بھی شامل ہے۔جو حکومت کے قریبی تعاون سے تیار کیا گیا ہے، جو ڈیٹا کی ریموٹ مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

“ڈیٹا سینٹر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کو ہموار کرے گا اور محکمہ صحت، جی بی کی ہیلتھ ورک فورس کی تکنیکی صلاحیت بھی مزید بہتر بنائے گا، تا کہ وہ حیات اور دیگر ڈیجیٹل ہیلتھ پروجیکٹس کو برقرار رکھ سکیں۔ آغا خان یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ہیلتھ ریسورس سینٹر اور ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر کے ڈائریکٹر سلیم سیانی نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ خطے میں تمام ڈیجیٹل ہیلتھ سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔

جیسا کہ کوویڈ 19پھیلتا گیا، حیات کے ساتھ مربوط عمل نے آغا خان ہیلتھ سروسز، پاکستان گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں صحت کے محکموں کے ساتھ موثر طریقے سے رابطہ قائم کرنے بروقت اور موثرمعلومات دینے فراہم کرنے میں مدد کی۔ حیات نے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کوویڈ 19کے خلاف حفاظتی اقدامات کے لیے کلیدی پیغامات کی ترسیل کو فعال کیا۔

گلگت بلتسان اور چترال میں تقریباً 565ہیلتھ ورکرز حیات ایپ کو زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق کلیدی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جن میں دور دراز کمیونٹیز میں تولیدی، زچہ، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکوں اور بچوں کی نشونما کی خدمات شامل ہیں۔


شیئر کریں: