Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود – گمنام نجانےکتنے ہیں – شہزادی کوثر

شیئر کریں:

6 ستمبر 1965کو دشمن کے دانت کھٹے کر کے اپنی دفاع کو ناقابل شکست بنانے والے سپوت وطن عزیز کا انمول سرمایہ ہیں،جنھوں نے اپنا سب کچھ وطن پر قربان کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہی سر فروشوں کی بدولت مادر وطن کا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے جن کی گرفت میں آنے والے دشمن کو دوسرے لمحے کا سانس لینا نصیب نہیں ہوتا، چاہے وہ پاک فضائیہ کے شاہین ہوں،بحر بیکراں کے مرد آہن جان نثار یا بری فوج کے شیر دل جانباز،ہر ایک پاک دھرتی کی حفاظت کی خاطرسر بکف ہے۔                                                                         

اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا                     

 تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آئے ہیں                      

تینوں افواج نے ہر میدان میں وطن کی خدمت کا حق ادا کر کے ،ملک کی سالمیت اور وقار کو ناقابل تسخیر بنا کر تاریخ رقم کی ہے۔ 1965 کی جنگ میں دشمن کی لاہور کے جم خانے میں ناشتہ کرنے کی آرزو تو پوری نہ  ہونے دی لیکن  52  برس بعد ایک کپ چائے سے ابی نندن کا تواضع کر کے اپنی مہمان نوازی کا ضرور ثبوت دیا ۔ 6  ستمبر پاکستانی عوام کے دلوں میں موجود جوش و جذبے کو تازہ دم کرنے کا دن ہے پاک افواج کے شانہ بشانہ عوام نے بھی اپنا سب کچھ وطن پر قربان کرنے کی قسم کھائی تھی۔ دشمن کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ رات کی تاریکی میں بھی ہم جس ملک پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اس کے بیٹے نیند میں بھی بیدار رہتے ہیں۔ ان کے حوصلے سر بفلک چٹانوں سے اونچے ہیں ۔یہ اقبال کے شاہین ہیں جن کی دوربین نگاہ ہر زاویئے سے دیکھنے،پرکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اور اپنے شکار کو لمحہ بھر میں دبوچنے کی صلاحیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔اس کا ثبوت پاک فضائیہ کے لٹل ڈراگن ،اسکوارڈن لیڈرمحمد محمود عالم ستارہ جرات کا بے مثال کارنامہ ہے جنھوں نے   65  کی جنگ میں ایک منٹ کے اندر اندر انڈین ائیر فورس کے پانچ ہاکر ہنٹر ائیر کرافٹس زمین بوس کر دئیے۔ ان کے اس کارنامے سے پاک فضائیہ کا مورال کس حد تک بلند ہوا ہو گا اسے آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔                                       

عقابوں کے تسلط پر فضائیں فخر کرتی ہیں              

خودی کے رازدانوں پر دعائیں فخر کرتی ہیں            

بطن سے جن کے بیٹے ہوں فقط محمود عالم سے          

وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں           

بری فوج کے میجر عزیز بھٹی نے دشمن کی طرف سے ہونے والی شیلنگ کو اپنے سینے پر روک کر وطن کی سلامتی پر قربان ہو گئے۔ اسی طرح نشان حیدر پانے والے اور ملکی وقار کے لئےاپنی جان وطن پر بخوشی نچھاور کرنے والوں سے تو سب واقف ہیں لیکن ان تمام عظیم ہستیوں کے علاوہ اور کتنے سپاہی،نائیک ،لانس نائیک،صوبیدار، لفٹننٹ،اور کیپٹن ہوں گے جنھوں نے مادر وطن کی مٹی کو اپنے لہو کے پھولوں سے گلزار بنا دیا لیکن ان کے ناموں سے ہم آج بھی نا واقف ہیں۔                                                     

دو چار سے دنیا واقف ہے                   

 گمنام نجانے کتنے ہیں                        

ہزاروں سپاہیوں نے وطن کے نام کی لاج رکھنے کے لئے وطن کا قرض اپنے لہو سے اتارا۔آج ان کی قربانیوں کی بدولت ہم آزادی کی نعمت سے سرفراز ہیں۔ اگر انہیں چاند تارا والے پرچم میں لپٹنا  نصیب نہیں ہوا یا ستارہ جرات یا نشان حیدر نہیں ملا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قربانیاں رائیگاں چلی گیئں۔اس مٹی کا ہر ذرہ ان کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہے ۔انہون  نے اپنے لہو کے چراغ جلا کر سر راہ رکھ دئیے تا کہ ملک کا ہر جوان اس روشنی میں اپنی منزل کا تعین کر سکے ۔ ملکی سالمیت کے لئے ہماری افواج ہر دم تیار ہیں۔ان کا عزم ویقین اور بلند حوصلہ بڑے سے بڑے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی قوت عطا کرتا ہے۔۔پاک افواج نے نہ صرف حالت جنگ میں بلکہ قدرتی آفات میں بھی  پیش پیش ہیں ۔سرحدوں کی حفاظت سے لے کر اندرون ملک امن وامان کی صورت حال تک ہمیشہ ہراول دستہ کا فریضہ انجام دیا ہے ۔اللہ انہیں اپنی امان میں رکھے اور مادر وطن کو تا قیامت آباد رکھے ۔۔۔۔     آمین           


شیئر کریں: