Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امریکہ کی ناکامیوں کے اسباب ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

افغان محاذ پر امریکہ اور نیٹو کی فوجی شکست سے یہ حقیقت آشکارہ ہوگئی کہ دنیا میں کوئی بڑی سے بڑی فوجی طاقت بھی ناقابل تسخیر نہیں ہوتی۔ اور جنگیں ملی و مذہبی جوش و جذبے سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ لشکر جرار اور جدید ترین ہتھیار جنگ میں کامیابی میں ضمانت نہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل برطانیہ کی آدھی دنیا پر حکمرانی تھی۔ مگر وہ افغانستان کو تسخیر نہ کرسکا۔ جنگ عظیم کے بعد دنیا دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔ جسے بائی پولر سسٹم کہا جاتا ہے۔ ایک گروپ سرمایہ دارانہ اور جمہوری نظام کے علمبرداروں کا تھا۔ جس کی قیادت امریکہ کررہا تھا۔ جبکہ دوسرا گروپ کمیونسٹوں کا تھا جس کی قیادت سوویت یونین کر رہا تھا۔

1970کے عشرے میں سوویت یونین نے افغانستان پر لشکر کشی کی اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد 1979میں اسے نہ صرف وہاں سے ناکام لوٹنا پڑا۔ بلکہ سوویت یونین کا شیرازہ ہی بکھر گیا اور وہ نو مختلف ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ اور وسطی ایشیائی مسلم ریاستوں تاجکستان، قازقستان، ازبکستان، آذربائیجان اور ترکمانستان کو بھی افغان جنگ کی بدولت آزادی مل گئی۔ بائی پولر سسٹم کا خاتمہ ہوگیا اوردنیا میں یونی پولر سسٹم قائم ہوگیا اور امریکہ دنیا کا واحد سپر پاور بن گیا۔

اپنے معاشی اور فوجی طاقت کے زغم میں امریکہ نے ویت نام میں فوجی مداخلت کی۔ مگر وہاں سے ناکام لوٹ گیا۔ پھر عراق پر لشکر کشی کی اور بغداد سے بھی کچھ حاصل کئے بغیر نکلنا پڑا۔ 2001میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں افغانستان پر یلغار کی۔اور بیس سالوں میں کھربوں ڈالر کا معاشی اور ہزاروں فوجیوں کا جانی نقصان اٹھانے کے بعد کابل سے بھی رات کی تاریکی میں فرار ہوگیا۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک جس کے پاس جدید ترین فوج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید ترین فضائیہ اور بحری بیڑے ہیں وہ طالبان کو شکست کیوں نہیں دے سکا؟ دنیا بھر کے دانشور اس بات پر حیران ہیں کہ امریکہ دورِ جدید میں جنگیں کیوں نہیں جیت پاتا؟ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کو افغانستان اور عراق میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں۔

امریکی فوج نے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ کر مارا ڈالا، القاعدہ کے کئی سرکردہ رہنما یا تو مارے گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔ ’افغانستان میں انفراسٹرکچر کو فروغ ملا، خواتین کو تعلیم کے مواقع فراہم کئے گئے۔ ایک تعلیم یافتہ متوسط طبقہ ابھر کر سامنے آیا۔ عراق میں دولت اسلامیہ جیسے خطرناک دہشت گرد وں کوتباہ کیاگیا، لیبیا میں صدام حسین اور کرنل قذافی جیسے آمروں کا تختہ الٹ کر وہاں کے عوام کو بدترین آمریت سے نجات دلائی گئی۔امریکہ کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو امریکہ 1945 تک تقریباً تمام بڑی جنگیں جیت چکا تھا، لیکن 1945 کے بعد سے امریکہ کوکسی جنگ میں قابل ذکر کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ جن میں کوریا، ویت نام، خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگیں شامل ہیں۔”دی امریکن وار ان افغانستان اے ہسٹری“ نامی کتاب کے مصنف کارٹر ملکاسین کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے لڑی جانے والی جنگیں ممالک کے درمیان تھیں اور امریکہ کو ان جنگوں میں کامیابی ملی۔

نئے زمانے کی جنگوں میں امریکہ کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے یہ جنگیں ریگولر افواج کے درمیان نہیں لڑی گئیں بلکہ جنگجووں کے ساتھ تھیں جو اگرچہ فوجی طاقت میں کمزور ہیں مگروہ امریکی فوج کے مقابلے میں زیادہ حوصلہ مند اور پرعزم ہیں۔جس طرح سے امریکی فوجی بن غازی، صومالیہ، سائیگون اور اب کابل سے بے بسی کی حالت میں واپس آئے ہیں اس نے امریکی شکست کو مزید شرمناک بنا دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں امریکی فوج کی شکست کی کئی وجوہات ہیں، جن میں مقامی ثقافت کو نہ سمجھنا سب سے اہم ہے۔افغانستان، عراق، شام اور لیبیا جیسی جنگیں بڑی خانہ جنگیاں ہیں۔ فوجی یا مادی طاقت ان جنگوں میں فتح کی ضمانت نہیں۔خاص طور پر جب امریکہ جیسا ملک مقامی ثقافت سے ناواقف ہو اور ایسے دشمن سے لڑے جو زیادہ باخبر اور زیادہ پرعزم ہو۔ایسی جنگ میں قابض فوج کی ناکامی فطری امر ہے۔


شیئر کریں: