Chitral Times

Sep 23, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یوم دفاع پر ملک کو درپیش مسائل – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

یوم دفاع دراصل یوم ایفاء عہد ہے۔یوم دفاع اس بات کا تقاضہ کر تا ہے کہ ہم مملکت خداداد پاکستان کے تحفظ اور سالمیت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہم ہر سال اس دن اس عہد کو دہراتے ہیں کہ جب بھی قوم پہ مشکل گھڑی آئے گی1965کی جنگ کی طرح ساری قوم متحد ہو جائے گی۔یوم دفاع ہم سے اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ ہم پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی تمام مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے متحد ہو کر کوشش کریں۔ہمیں قائداعظم کے اس فرمان پر پختہ یقین ہونا چاہیے، کام کی شدت سے مت گھبراؤ، پاکستان رہنے کے لیے بنا ہے۔ یوم دفاع1965کے شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جا تا ہے۔6ستمبر 1965 وہ تاریخی دن، جب ہم نے اپنے ازلی دشمن ہندوستان کو نہ صرف ہر محاذ پر پسپا کیا بلکہ پوری دنیا میں ثابت کیا کہ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور اس مٹی کا بچہ بچہ اس پر جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

موجودہ تمام مشکلات اور مصائب کے باوجود، بطور قوم جب بھی ہمیں آزمائش میں ڈالا گیا ہم سرخرو ہو ئے۔ ہماری ہمت، بہادری اور جرات کا امتحان کئی بار لیا جا چکا ہے۔ہم قائد اعظم کے، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے سنہری اصول پر عمل پیرا ہو کر ہر مرتبہ جارہیت، ظلم، ناانصافی،فرقہ واریت، دہشت گردی، معاشی بدحالی اوردیگر بے شمار مشکلات کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ہم تو یو م دفاع پر اپنے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے فوج کو دفاع سے ہٹا کر مردم شماری، مساجد کی سیکورٹی، مظاہروں کو روکنے، احتجاجیوں سے مذاکرات کروانے،سیاسی محاذ آرائی کو روکنے،تعمیراتی منصوبوں اور ویلفیر کے کاموں میں لگا دیا ہے تو پولیس اور دیگرسول اداروں کو سرحدوں پر بھیج دینا چاہیے۔

زلزلہ آئے تو فوج،طوفان آئے تو فوج، آندھی آئے تو فوج، سیلاب آئے تو فوج،دھرنا ہو تو فوج،ادارے تباہ ہونے لگیں تو فوج باقی سول محکموں کی موج۔ہم عجیب نفسیات کے مالک ہیں،بجائے ادارے مضبوط کرنے اور انہیں تربیت فراہم کرنے کے ہر موقعہ پر فوج طلب کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے نظام کے کینسر کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑاآپریشن کرنا پڑے گا پھر جا کر کچھ بدلنے کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان کو بہت سے اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اندورنی مسائل میں معاشی تنزلی، معاشرتی اور اندرونی تحفظ کے مسائل سر فہرست ہیں۔عام آدمی کی خواہش ہے کہ وہ محفوظ زندگی گزارے، اسے جان،مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو۔پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں اور ملازم نوکریوں کا تحفظ چاہتے ہیں۔جب تک عوام تحفظ کی فضاء میں سانس نہیں لیتی، اس کو معاشی تحفظ حاصل نہیں ہوتا وہ یوم دفاع کو سمجھنے کے بجائے غیرملکی عناصر کے چنگل میں پھنس کر دفاع کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔

بدقستمی سے بااثربدعنوان حکمران، بیوروکریٹس، افسران اور مافیا نے اس ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ قوم بھی گونگی، بہری اور اندھی ہو کر اس ساری لوٹ کھسوٹ کاتماشہ دیکھ رہی ہے جس نے ملک کو دہایوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ حکومت ٹیکسوں کے نظا م کو شفاف بنانے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں ناکام ہو چکی ہے جو مستقبل میں مزید کرپشن اور لاقانونیت کو جنم دے گا۔ معاشی استحکام اور ملکی تحفظ لاز و ملزوم ہیں۔ معاشی طور پر کمزور اور قرضوں پر انحصار کرنے والی اقوام زیادہ عرصہ جنگ کے میدان میں سامنا نہیں کر پاتی۔ ملک کے مضبوط تحفظ کے لیے مضبوط معیشت اور اداروں کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے۔ کامیابی کے راستے کھٹن ضروری ہو تے ہیں مگر ناپید بالکل نہیں ہو تے۔ حکومت نیک نیتی، حب الوطنی اور خلوص کے ساتھ معیشت کو بہتر ی کی طرف گامزن کرنے کی کوشش کرے اور ان مسائل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے ورنہ ہر حکومت روتے پیٹتے پانچھ سال پورے کر کے چلی جائے گی اس ملک کا کون سوچے گا۔

معیشت کو پائیدار بنانے کے لیے ہمیں اپنے اضافی اخراجات کو کم اور غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔ہمارے پاس دنیا کا سب سے ناقص نظام ہے، ریلوے کی بدحالی، پی آئی اے کے خسارے، واپڈا کی لوڈشیڈنگ، واسا کی بری کارکردگی،پولیس کے مظالم، عدالتوں کی ناانصافیاں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاقانونیت، میرٹ کی پامالی، رشوت ستانی، اقربہ پروری، سفارشی کلچر اور اخلاقی بے راہ روی نے نہ صرف جینا حرام کر دیا ہے بلکہ عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ہم اپنے ملک میں محفوظ نہیں ہیں تو ہم یوم دفاع کس بات کا مناتے ہیں۔جرائم میں ہوش ربا اضافہ، چور ی اور ڈکیتیوں کی بڑھتی وارداتیں،موبائل اور گاڑیاں چھیننے کے ان گنت واقعات، قتل و غارت، بم دھماکے، مذہبی اور فرقہ وارانہ مسائل انتظامیہ کی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حکومت کی تسلیوں پر عوام اب کان نہیں دھرنے والی، اگر واقعی حکومت نے کچھ کیا ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنا چاہیے۔ عام آدمی تو روٹی اور چینی کو ترس گیا ہے۔

ہم کرکٹ کے بجائے آٹے اور چینی میں سنچریاں بنا رہے ہیں۔حکومت اختیارات کو چند خاندانوں کے محلات سے باہر نکال کر عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے اور بلدیاتی الیکشن کو لٹکانے کے بجائے ان کے انعقاد پر توجہ دے۔ جس ملک میں لوگ عدالت سے انصاف کے بجائے روز قیامت کو انصاف لینے کی بات کریں وہاں جینا کسی جہاد سے کم نہیں ہے۔ غیر ملکی عناصر مایوس، بدحال، نادار اور ظلم سے ستائے افراد کی تلاش میں سرگرداں  رہتے ہیں اور وہ انہیں ملکی دفاع کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد ان کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ یوم دفاع کے موقعہ پر ہمیں دشمن کی چالوں کے مطابق اپنا منصوبہ بنانا ہے۔ آزاد ی ہندوستان کے بعد دونوں ممالک مختصرالمیعاد جنگ کی منصوبہ بندیاں کر تے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک میں کوئی جنگ زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہی۔ چھوٹی لڑائیاں ہم کنڑول لائن کے ساتھ لڑسکتے ہیں مگر یوم دفاع کے موقعہ پر ہمیں یہ تہیہ کرنا ہے کہ ہم نے ریگولر آرمی کے ساتھ معاون رضاکار فوج اور مقامی نوجوانوں کو تربیت دینی ہے تا کہ اس ملک کا دفاع درست معانی میں مضبوط ہو سکے۔پاکستانی قوم کو محب وطن، مخلص اورایماندار قیادت کی ضرورت ہے، جس دن اسے ایسی قیادت مل گئی یہ قوم ترقی کے عروج پر پہنچ جائے گی۔

یوم دفاع پر ہم نے اپنے ازلی دشمن بھارت کے عزائم پر نہ صرف نظر رکھنی ہے بلکہ ان کو خاک میں ملانے کا عزم اور منصوبہ بندی بھی کرنی ہے۔ بھارت،امریکہ اور اسرائیل کے گھٹ جوڑ کا ایک مقصدپاکستان اور چین کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ بھارت نواز مغربی طاقتیں ایشیاء کے امن کو تباہ کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ بھارت خطے میں اجارہ داری قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے جو شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے۔ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے بھارت کو عالمی طاقتوں کی چھتری سے نکالناہے۔واشنگٹن اور اسلام آباد کے عرصہ دراز سے استوار تعلقات سے ملک کو فائدے کے بجائے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب ہمیں عالمی سطح پر امریکہ کے علاوہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ماسکو اور بیجینگ اس ضمن میں اہم آپشنز ہیں۔ہم نے جذبات کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھانے ہیں تا کہ ہم داخلی اور خارجی مسائل پر قابوپانے میں کامیاب ہو سکیں۔


شیئر کریں: