Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے ! – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

 افغان طالبان سے  پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش، افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ کریں،امریکہ کا کہنا ہے کہ داعش کی کمر ٹوٹ گئی اور پاکستانی سیکورٹی فورس کسی بھی شر پسندی کا جواب دینے کے لئے مکمل تیار ہے۔  افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے پس پشت بھارت اور این ڈی ایس کا ہاتھ رہا اورریاست نے ناقابل تردید ثبوت بھی عالمی برادری کو دیئے، اس لئے حکومت کاحکمراں جماعت امارات اسلامی کو بار بار یاد دہانی کرانا ضروری خیال کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی ناخوشگواری کا اندیشہ پیدا نہ ہو۔ افغان طالبان کے کابل داخلے اور امریکی انخلا کے بعد امارات اسلامی کو کئی اہم داخلی مسائل کا سامنا ہے، بہرحال یہ ان کا اپنا مسئلہ ہے، وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ درپیش مسائل سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے، ماضی میں افغان طالبان کی حکومت دنیا بھر میں تنہائی کا شکار تھی اور عالمی برداری سے سیاسی روابط نہ ہونے کی وجہ سے ناتجربہ کاری نے افغانستان کو کافی نقصان پہنچایا لیکن اب ماضی کے مقابلے میں امارات اسلامی دفاعی، سیاسی اور داخلی سمیت امور خارجہ میں ٹھوس تجربہ رکھتے ہیں۔


سلامتی کونسل میں حالیہ اجلاس  کے بعد میں انہیں دو اہم ممالک روس اور چین کی قریباََ مکمل حمایت حاصل ہوچکی، اس لئے گمان کیا جاسکتا ہے کہ اب سلامتی کونسل کو امریکی خواہشات کے مطابق ا فغانستان کے خلاف ماضی کی طرح استعمال کرنا آسان نہیں ہوگا، روس اور چین کو افغانوں کے لئے کمک کا درجہ  حاصل ہوسکتا ہے، دوسری جانب پاکستان، ایران سمیت وسط ایشائی ممالک کی کوشش و خواہش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو، تاکہ انہیں اپنی سرحدوں پر حفاظت کے لئے اربوں روپے جو خرچ کرنے پڑتے ہیں، اس میں کمی آئے اور ان کی پوری توجہ اپنے اصل دشمن کی شر انگیزی پر ہو۔ ایران کا دشمن، اسرائیل تو پاکستان کا دیرینہ دشمن بھارت ہے لیکن عالمی قوتوں کے مفادات نے کچھ ایسا گھن چکر بنایا کہ بالخصوص پاکستان کے لئے مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ شمال مغربی سرحدوں پر بھی دشمنوں سے ملک کو بچانا ضروری ہوگیا۔

اب حالات قدرے تبدیل ہیں، گو کہ افغان طالبان نے ڈیورنڈ لائن، ٹی ٹی پی کے حوالے سے جو بیانات دیئے اس سے کچھ پاکستانی حلقوں میں مایوسی پھیلی لیکن اہمیت اس امر کی زیادہ ہے کہ افغانستان میں آنے والے دنوں میں ایک ایسی حکومت بننے جا رہی ہے، جس کا کوئی ملک بادی ئ النظر دشمن نہیں اور وہ کسی بھی ملک کے مخالف نہیں، تاہم وطن عزیز کو افغان سرزمین سے دہشت گردی کے سدباب کے لئے کچھ وقت لگے گا لیکن توقعات یہی ہیں کہ ماضی کی غلطیوں سے تمام فریقین نے سبق حاصل کیا ہوگا اور کسی نئی مہم جوئی کا مقصد دنیا میں اپنے امیج کو نقصان پہنچانا ہوگا۔


افغانستان کی نئی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک میں سے100 ممالک انتظار کررہے ہیں کہ افغان طالبان کی پالیسی میں قول و فعل کا تضاد تو نہیں، چین اور روس کی جانب سے افغانستان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے بس چند ٹھوس معاملات میں پیش رفت کی ضرروت ہے اور دو سپرپاورز کے تسلیم کئے جانے کے بعد پڑوسی ممالک کوبھی افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے میں کوئی مشکلات حائل نہیں ہوں گی۔ امارات اسلامی کا بھارت، امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی ملک سے سفارتی رابطہ کرنا اور افغانستان کی تعمیر نو کے لئے تعاون طلب کرنا، اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ افغان طالبان نہیں چاہتے کہ دنیا کے سامنے یہ تاثر جائے کہ وہ کسی بھی ”خاص ملک“کے فیورٹ ہیں،یہ کڑوی گولی ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ افغانستان کو کوئی ایک ملک درپیش چیلنجز سے باہر نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتا، لہذا کسی بھی ملک کو افغان طالبان کو اپنے دائرہ اختیار میں سمجھنا یا پھر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنا، خطے میں  خلفشارکے لئے نیک شگون نہیں ہوگا، یورپی ممالک اور امریکہ بھی اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ اگر افغانستان کی تعمیر نو میں تعاون کے بجائے افغانستان کو معاشی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی تو ان کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔


ذرائع کے مطابق چین  اور روس سے امارات اسلامی کو کافی توقعات وابستہ ہیں، خاص طور پر چین تباہ حال افغانستان کی بحالی و تعمیر نو کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، بیجنگ اگر افغان عبوری حکومت سے کچھ مطمئن ہوجاتا ہے تو خطے میں کئی معاملات میں امارات اسلامی کو درپیش دشواریوں میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ چین ون بیلٹ ون روڈ  جیسے منصوبے کے تحت افغان حکومت کی مالی امداد سمیت انفرا اسٹرکچر کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، افغانستان کو پڑوسی ممالک سے جنگ کا کوئی خطرہ نہیں اس لئے بھاری جنگی ساز و سامان خریدنے کے لئے انہیں اپنے آپ کو گروی نہیں رکھنا ہوگا، خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں انہیں بھاری سود پر قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی، داعش خراساں ہوں یا شمالی مزاحمتی گروپ کے ساتھ جھڑپیں، اس کے لئے انہیں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں، کیونکہ امریکہ کے ساتھ مسلسل بیس برس کی جنگ نے انہیں دنیا کی سب سے تجربہ کار فوجی قوت بنادیا ہے، انہیں خود کش حملوں کی اسٹریجی کا بھی بخوبی علم ہے اس لئے اس قسم کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔


امریکہ جاتے جاتے، سوا لاکھ کا مرا ہوا ہاتھی چھوڑ  گیا ہے، اب اس اسکریپ کا فائدہ کوئی بھی با آسانی اٹھا سکتا ہے، چین اور روس جیسے ممالک کباڑ سے جہاز بنانے میں کامل مہارت رکھتے ہیں، ان کے لئے چنداں مشکل نہیں کہ وہ جنگی جہاز وں ہیلی کاپٹر ز کو قابل استعمال نہ بنا سکیں، بالفرض چین اور روس نئی افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرلیتے ہیں تو امارات اسلامی کو ایسی چھوٹی موٹی پیشہ وارانہ تربیت دینے کے لئے  پڑوس ممالک  کو بھی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جب ماضی میں بھارت افغان فوجیوں کی تربیت کرسکتا ہے تو پڑوس ممالک  کیوں نہیں، تاہم ایسے کئی مفروضات ہیں جن پر عملی طور پر اُس وقت ہی کار آمد ہوسکے گا جب افغان طالبان اپنے کئے گئے وعدوں کو ”خلوص دل“ یا عبوری دور کے اجتہاد ی مصلحت سے پورا کرنے کی کوشش کریں، ہمیں افغان طالبان اور دیگر اتحادیوں کی متفقہ عبوری حکومت اور ان کی عملی پالیسیوں کے مثبت اقدامات تک دنیا کے ساتھ چلنا ہوگا، جلد بازی یا اپنی مرضی تھوپنے کی پالیسی سے ہم جتنا دور رہنے پر کاربند رہیں تو یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔ 


شیئر کریں: