Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اظہارِ تشکر ۔ (بھائی کے گردوں کی کامیاب پیوندکاری) ۔ افضل ولی بدخشؔ موردیر

شیئر کریں:

اظہارِ تشکر ۔ (بھائی کے گردوں کی کامیاب پیوندکاری) ۔ افضل ولی بدخشؔ موردیر

میں اپنی اور اپنے خاندان کی جانب سے تمام عزیزان، احباب اور انسان دوست خواتین و حضرات کیلئے اپنی قدردانی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ہمارے مشکل وقت میں ہمارا سہارا بنے اور ایک لمحے کے لئے بھی ہمیں اکیلا نہیں چھوڑے۔ ان کی دلجوئی، ہمدردی، مالی اور اخلاقی مدد کی بدولت ہم اپنے اوپر  آئے اس بڑی آزمائش سے نبردآزما ہو سکے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال سے میرا بڑا بھائی گردوں کی بیماری میں مبتلا ہو کر  وطنِ عزیز کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج رہے۔ اِن کے معالجوں  کے مطابق اس بیماری کا واحد حل متبادل گردوں سے پیوندکاری قرار پایا تھا۔  وطنِ عزیز میں کرونا کی صورتحال اور گردوں کی غیر دستیابی کے پیشِ نظر آپریشن میں تاخیر ہوئی۔ اس دوران  Dialysis کے ذریعے پشاور اور پھر کراچی کے

مختلف  ہسپتالوں میں  زیرِعلاج  رہا۔  اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اتنے عرصے کی انتظار کے بعد گردے کی دستیابی ہمارے لئے ممکن بنا دی اور کامیاب آپریشن کے بعد میرے بھائی کو ایک نئی زندگی میسر آئی۔

اس پورے عرصے کے دوران علاقے کے تمام معتبرات، خواتین و حضرات اور احباب ہمارے شانہ بہ شانہ رہے اور آزمائش کی اس گھڑی  میں اپنی ہر ممکن کوشش سے ہماری دلجوئی اور مدد کی۔ اِن کی  کاوش   سے امید اور حوصلے کا گزر ہمارے دہلیز پر سے ہونا ممکن ہوا۔ ہم اپنے پورے خاندان کی جانب سے اس مدد اور ہمدردی پر اپنی قدردانی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک کامرانی اور خوشحالی کی نعمت سے انہیں مالامال کرے۔ مسرت اور شادمانی کا گزر ہمیشہ ان کے دہلیز سے ہو کر گزرے۔ آمین

ہم تمام خاندان وزیراعظم پاکستان کا بھی  تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جسکی مدد صحت سہولت کارڈ پروگرام کی صورت میں میسر ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت ہسپتال کے تمام اخراجات (جن کی مجموعی لاگت 1.5 ملین روپے تھی)  حکومتِ پاکستان نے  ہماری  جانب سے ہسپتال کو ادا کی۔ ویلفیر اسٹیٹ کا جو خواب وزیر اعظم پاکستان نے ہمیں دیکھائی تھی اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھنے کو مِلا۔

گردوں کی پیوندکاری کا  عمل  قانونی حیثیت سے نہایت پیچدہ عمل تھا۔  انسانی اعضا کی سمگلنگ کے پیشِ نظر بین الاقوامی سطح پر اس عمل کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ لیکن حکومتِ پاکستان نے ہمارے معاملے کو چھان بین کے بعد انسانی ہمدردی  کی بنا  پرNOC  فراہم کی   جس سے یہ آپریشن ممکن ہوا۔ ہم حکومتِ پاکستان اور خاص کر عمران خان  صاحب کا اس کرم نوازش پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

اس کے علاوہ REHMAN MEDICAL INSTITUTE HAYATABAD کے ڈاکٹر صاحبان، ہسپتال کے ایڈمن اور ان کا عملہ، اس میں موجود  نرسنگ اسٹاف جن میں ہمارے چترالی بہن بھائی بھی ہیں جن کی خدمت کے ہم متعارف ہیں۔ پشاور کے ہسپتالوں میں موجود ہماری بہنیں جو نرسنگ کے شعبے سے منسلک ہیں اور جن کی خدمت کسی تعارف کا محتاج نہیں، ان تمام کی خدمت کے عوض اپنی قدرردانی کا  اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ ہماری نرس بہنیں اپنی بہترین اخلاق اور رویّے سے جو خدمت ہماری کی اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

                                                نیک دعاوں کیساتھ

  افضل ولی بدخشؔ موردیر


شیئر کریں: