Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنمنٹ انجینئرز کا قلم چھوڑ ہڑتال گیارویں روز میں داخل، بنی گالہ میں دھرنا دینگے۔ پریس کانفرنس

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا ایسوسی ایشن آف گورنمنٹ انجنیٸرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوباٸی اور وفاقی حکومت نے بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز کے کوٹہ بارے منٹس کو عملی طور نافذ کیا اور اصل انجنیٸرز کی حق تلفی کی جانب پیش قدمی جاری رکھی تو پھر بنی گالہ میں دمادم مست قلندر ہوگا جسکے بعد حالات کی تمام تر ذمہ داری موجوہ حکمرانوں پر عاٸد ہوگی۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا ایسوسی ایشن آف گورنمنٹ انجنیٸرز (KPAGE) کے کنوینیٸر انجنیٸر شاکر حبیب، انجنیٸر زرگُل خان، انجنیٸر علی خان ، انجنیٸر آفاق خالد اور دیگر نے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوۓ بتایا کہ گزشتہ 11 دن سے زاٸد ہوچکے کہ صوبے کے انجنیٸر جو مختلف اہم محکموں میں فراٸض سرانجام دیتے ہیں قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں لیکن حکومتی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ابھی تک کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ، نا ہی مزاکرات اور نا ہی مساٸل کے حل کے لیے کوشش کی گٸی۔

انہوں نے کہا کہ اے ڈی پی اور ترقیاتی کاموں سمیت اہم امور ہماری قلم چھوڑ ہڑتال کے باعث رکے ہوۓ ہیں تاہم حکومتی ذمہ داران کو اس نقصان کی پرواہ تک نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ مساٸل کو لے کر متعلقہ ذمہ داران تک رساٸی بھی کی اور انہیں آگاہ بھی کیا گیا لیکن بیوروکریسی نہیں چاہتی کہ یہ مساٸل حل ہوں اور حالات بہتر ہو سکیں۔ مساٸل بارے بات کرتے ہوۓ مقررین کا کہنا تھا کہ ہم باقاٸدہ قانون کے تحت محنت کرکے پاکستان انجنیٸرنگ کونسل ایکٹ کو فالو کرتے ہوۓ میرٹ کے مطابق عہدوں پر آۓ تاہم اب بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے غیر قانونی طریقے سے راستے ہموار کیے جارہے ہیں جو قوم کے مستقبل کے ساتھ بھیانک مزاق ہے۔ PEC Act 1976 وفاقی قانون کا اطلاق حقیقی معنوں میں کیا جانا چاہیے تھا لیکن اب اسکے خلاف اقدامات کرنے کی پلاننگ ہورہی ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں۔

جو انجنیٸر نہیں ہے اُسے قانون کے تحت اس آسامی پر تعینات نہیں کیا جاسکتا، لیکن افسوس ہے کہ عرصہ دراز سے قانون اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی میں سروسز رولز میں تبدیلی کرکے نان انجنیٸرز کو ایگزیکٹیو انجنیٸر کی آسامی پر تعینات کرنے راستہ ہموار کیا جارہا ہے جسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹیکنیکل محکموں پر نان ٹیکنیکل افراد کی تعیناتیاں کی جاتی ہیں۔تمام ورکس محکموں کی سربراہی آسامی پر صرف اور صرف انجنیٸرز کو تعینات کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ مطالبات کی منظوری تک قلم چھوڑ ہڑتال جاری رہے گی اور اگر حکومت نے فوری طور پر ٹیبل ٹاک نہ کی اور مساٸل حل نہ کیے تو پھر ہم سب بنی گالہ کا رُخ کرینگے جہاں مطالبات کی منظوری ہونے تک دھرنا دیا جاٸیگا۔


شیئر کریں: