Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گفتگو شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے ۔ ۔!! – تحریر: گل عدن

شیئر کریں:

گفتگو شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے یہ بات بلکل درست ہے ۔ہم آئے روز بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں ۔جن میں بہت سوں کے شخصیت کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بہت سے لوگ بلا وجہ بنا جانے پہلی نظر میں ہمیں برے لگتے ہیں ۔ایسا اسلئے کہ بلا شبہ انسان کا پہلا تعارف اسکا چہرہ ہوتا ہے۔کچھ لوگ اپنے چہرے سے کرخت مزاج کا تاثر دیتے ہیں ۔اور کچھ لوگوں کو اللہ نے خوبصورت چہرہ ‘ خوبصورت آواز انداز اور سحر انگیز شخصیت عطاء کی ہوتی ہے جو کہ صرف اللہ کی دین ہے جس میں بندے کا کوئی کمال نہیں ۔

لیکن ہماری اولین ترجیحات صورت ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے ۔لیکن اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ صورت کا حسن کسی کو بھی وقتی طور پر متاثر تو کرسکتا ہے لیکن آپ صرف ظاہری صورت کو لیکر کسی کو ہمیشہ کے لئے اپنا گرویدہ نیہں بناسکتے۔اور مسئلہ یہ ہے کے کوئی بھی خوبصورت انسان اپنے اندر کی بدصورتی کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتا۔ جیسا کہ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ زبان ایک تالا ہے۔تالا کھولنے پے پتہ چلتا ہے کہ دکان سونے کی ہے یا کوئلے کی۔ اسلئے میرا یہ تجربہ ہے کہ اگر کسی کی اصلیت جاننی ہو تو اسے بولنے کا موقع ضرور دیں۔باوجود اسکے کہ کسی کی اصلیت آپکا دل دکھا سکتی ہے ۔آپ اس دکھ سے گزر جائیں۔اور خود کو شخصیات کی سحر سے آزاد کردیں۔


شخصیت پرستی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔کیونکہ بعض اوقات ہم کسی کی محبت اور عقیدت میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ ہمارے آئیڈل شخصیات کہ منہ سے جو نکلتا ہے وہی ہمیں حرف آخر لگنے لگتا ہے ہم صیح اور غلط کا فیصلہ نیہں کر پاتے ۔ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔خاندان میں ایسے افراد ضرور ہوتے ہیں جنکو ہم ایکدوسرے کی دیکھا دیکھی آئیڈل سمجھنے لگتے ہیں ۔اور ہم اپنے معاملات انکے مطابق حل کرنے لگتے ہیں۔دراصل شخصیت پرستی کچے زہنیت کی پیداوار ہے۔اور ان کچے ذہنیت کا بڑا نقصان کرتے ہیں یہ آئڈیئل لوگ۔ مثال کہ طور پر اگر خاندان کا ایسا فرد آپکا آئیڈئل بن چکا ہے جسکی محفل میں گفتگو کے نام پر غیبت’ دوسروں کی عیب جوئی’ کردار کشی’ الزام تراشی دوسروں پر ہنسی مذاق ‘استہزاء’چاپلوسی اور اپنی منہ میاں مٹھو بننے پر مشتمل ہو تو یاد رکھیں آپ انہی چیزوں کو آگے لیکر جائیں گے۔ جب آپکا آیڈئیل غیبت کرنے والا ہو تو آپ بھی ساری زندگی غیبت کی محفل سجائیں گی۔کیونکہ پسندیدہ شخصیت کے الفاظ میں بڑا تاثیر ہوتا ہے.اور ایسی شخصیات کی گفتگو زہن سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ الفاظ ہی ہیں جو دلوں کو توڑ بھی دیتے ہیں اور جوڑ بھی سکتے ہیں ۔

یہ الفاظ ہی ہیں جو کسی کی راہنمائی بھی کرسکتے ہیں اور کسی کو گمراہ بھی کرسکتے ہیں ۔ زبان اور قوت گویائی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔یی زبان ہی ہے جسکی بدولت آپکو کھانے پینے کی لذت محسوس ہوتی ہے اور اسی کی بدولت آپ بات کرتے ہیں۔تصور کریں انکا جو بول نیہں سکتے صرف تصور کرنا ہی محال ہے لگتا ہے ہم بول نہیں سکیں گے تو ہمارا دل پھٹ جائے گا ۔ اسلئے اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کریں اور اسکا صحیح استعمال کرکے اسکا حق ادا کریں۔اسے پاکیزہ رکھیں غیبت سے’ الزام تراشی سے’چغلی سے’جھوٹ سے’گالی سے’ خوشامد سے اور جھوٹی قسموں سے۔زرا سی دیر کے لئے سوچیں کیہں آپ مسلسل کسی کی دل آزاری کا سبب تو نہیں بن رہے ہیں؟؟ کھبی غور کریں مذاق کے نام پر آپ کسی کا تمسخر تو نیہں اڑاتے رہے ہیں؟؟ ۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک منٹ کے لئے سوچیں آج آپکی زبان نے آج کی تاریخ تک حق کا کتنا ساتھ دیا ہے اور کتنے فساد ڈالے ہیں؟ اس دن سے ڈریں جب آپکی زبان خود آپکے خلاف گواہی دے گی۔اور آپکے دنیاوی سامعین آپکے کسی کام نیہں آئیں گے ۔


شیئر کریں: