Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے قدیم مذاہب – (ایک مختصر جائزہ) – تحریر: علی اکبرقاضی

شیئر کریں:

یہ ایک عقلی دلیل ہے کہ جہاں تاریخ کے حوالے سے تحریری ماخذات کی کمی ہو وہاں تاریخی زبانی روایات، قدیم نقشہ نگاری اور آثار قدیمہ جیسے تحقیقی میدانوں سے ذیادہ سے ذیادہ فائدہ لینے کی کوششیں کی جاتی ہے اور اگر کوئی مذکورہ ماخذات کو بنیاد بناکر اپنا تجزیہ کرتا ہے اور خصوصا زندہ روایات کو تحریری شکل دیتا ہے تو کل کے ریسرچرز کے لئے یہ ایک تحریری تاریخی سند اور تحقیقی مواد تصور کیا جاتا ہے۔

چترال میں دین اسلام سے پہلے کے مذاہب کے بارے میں اکثر محققین اور مصنفیں مثلاََڈاکٹر عزیز اللہ نجیب (۲۰۰۰)، ڈاکٹر فیضی (۲۰۰۵) رحمت کریم بیگ (۲۰۰۴) میرزہ محمد غفران (۱۹۶۲) وغیرہ کے تحقیق کے حساب سے تین مذاہب کا یکے بعد دیگر اس خطے میں ہونے پر اتفاق ہے یعنی زرتشت، بدھ مت اور کلاشہ۔ جبکہ جان بڈلف (۱۹۸۱) اور کارل جیٹمار (۱۹۹۶)کے ہاں چترال اسلام کے آمدسے پہلے ہندو مذہب کے زیر اثر بھی رہا ہے۔ زرتشت اور بدھ مت کا چترال میں ہونا عین ممکن اس لئے بھی ہے کہ قدیم فارس، سمرقند، بلخ و بخارا تاریخی طور پر ان مذاہب کے لئے مرکز یت کا کردار ادا کرتے رہے ہیں لہذامیری نظر میں اِن مذاہب کا چترال تک رسائی ایک تاریخی حقیقت ہے۔ فارس کے جیوگرافی پر لکھی ہوئی سب سے قدیم کتاب حدود العالم ہے جو کہ ۹۲۲/۳۷۲ عیسوی میں لکھی گئی ہے اور اسکا کا ترجمہ Minorsky نے ۱۹۳۰ میں کیا ہے۔ اس کتاب میں دو راہ (شاہ سلیم) اور بروغل کے راستوں کو تجارتی راستے Business Routs قرار دیے گئے ہیں اور ان راستوں سے گھریلو استعمال کے برتن، شہد وغیرہ کی تجارت وسط ایشیا سے چین تک ہوتی تھیں۔ لہذا تاریخی حقائق اور عقلی تجزیے کی بنیاد پر وسط ایشیا اور ایران میں زرتشتوں اور بدھ مت کی حکومت و مرکزیت کی وجہ سے اُن کا قدیم چترال میں اپنے عقائد کو پھیلانا منطقی عمل ہے۔


تاریخی اعتبار سے چترال میں سب سے پہلا مذہب زرتشت ہے جس کے پیروکار آگ سے مذہبی عقیدت رکھتے تھے۔ میرزہ محمد غفران اس حوالے سے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اُس دور میں بلخ زرتشتیوں کا مرکزِ تبلیغ ہوا کرتا تھا جبکہ پامیر اس کا ایک ضلع تھا اور یہاں سے لوگ ہر سال زیارت کے لئے بلخ جایا کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری روایات اور ادب میں (بلخو زیارت) کا تصور پایا جا تا ہے اور آگ و لنگر کو ایک مقدس مقام تصور کرنے کا رواج اور اُس پر قسم کھانے کا رسم ہماری روایات کے حصے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں نوروز کی تہوار جو کہ در حقیقت زرتشتوں کی تہوار تھی آج بھی چترال سمیت وسط اشیا

اور ایران میں مذہبی و ثقافتی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ لٹکوہ خصوصا انجگان تک محدود ہوکر اگر اس حوالے سے سے
بات کی جائے تو ایک حیران کُن نتیجہ اُس وقت میرے سامنے آیا جب میں مختلف دیہات کے ناموں پر ریسرچ کر رہا تھا تاکہ کوئی تاریخی مدد مل سکے۔ برزینBirzin جوکہ انجگان کا ایک گاوں ہے درحقیقت (برزینِ مھر) زرتشتوں کے اُس مقدس اتشکدہ کا نام ہے جہاں وہ اپنے عقیدت کا اظہار کیا کرتے تھے اور وسط ایشیا میں اس نام سے کئی مقامات اور افراد موجود ہیں جو زرتشتیوں کی موجودگی کے واضح اثبات ہیں۔ شاہنامہ فردوسی میں کچھ اس طرح کے اشعار بھی درج ہیں۔


شبِ تار جوئیندہ کین منم۔ ہماں اَتشِ تیز برزین منم


جدید دور کے ایک مشہور ریسرچر کارل جیٹمار (۱۹۹۶) چترال اور ناردرن ایریاز میں بدھ مت مذہب کی موجودگی کے حوالے سے آثار قدیمہ، سٹوپا Stupa کے تقشے جو کہ چترال کے مختلف مقامات پر لکڑی اور پتھروں پر بنائے گئے ہیں کو بنیاد بناکر اس علاقے میں بدھ مت کی موجودگی کو یقینی مانتے ہیں۔ رحمت کریم بیگ کے مطابق تیسری صدی میں کنیشکا جو کہ کُوشان کا بدھ مت عقیدہ رکھنے والا راجا تھا چترال پر قبضہ کرلیا تھا اور اس علاقے میں بدھ مت کی ترویج کروائی۔


چترال کا تیسر ا مذہب کلاشہ رہا ہے جس کا واضح اثر آج تک چترال میں موجودہے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب سمیت کئی اور سکالرز کے ہاں جنوبی چترال میں دسویں صدی سے لیکر رئیسہ کے آمد تک ایک دور کیلاش حکمرانی کا گزرا ہے جو کہ نورستان سے چترال میں واردہوئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب برنس سے اگے یعنی بالائی چترال میں ُسومالک کی حکومت تھی۔


اس مخصوص دورانیے میں اس پورے علاقے میں کیلاشہ عقیدے کی ترویج ہوئی ہے۔ کلاشہ حکومت کی اخری حکمران بال سنگھ تھا جس کو ۱۳۲۰ ء میں شاہ نادر رئیس نے شکست دی اورر ئیسہ حکومت کی ابتدا کی۔ آج انجگان سمیت پوری چترال کے مختلف علاقوں میں کلاش تہذیب کے واضح اثرات موجود ہیں۔ کچھ مقامات آج بھی با قائدہ طور پر کلاشان دُور، کلاشان دہ ، کلاشان شال وغیرہ کے نام سے پائے جاتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں ایسے قبریں بھی دریافت ہوتے ہیں جہاں مُردوں کے ساماں بھی دفنائے ہوئے ہوئے ہیں مثلا انجگان کے اخری علاقہ گبور میں گُبت کے مقام پر ایسے قبروں کے بارے میں معلومات ہیں جہاں قبرستان میں بہت سارے سامان ملتے ہیں جو تدفیں کئے گئے ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ الہامی مذاہب سے پہلے دنیا کے تقریبا تمام تہذیبوں کے اندر لاشوں کے ساتھ اُن کے سامان دفن کرنے کا سلسلہ عام تھا۔ لہذا آج کیلاش قوم کی چترال میں موجودگی ہی اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ نہ صرف اُن کی حکومت رہی ہے بلک اُن کے ثقاتی و مذہبی اثرات بھی رہی ہیں۔

جہاں تک ہندو تہذیب کے اثرات کی بات ہے کارل جیٹمار اور جان بڈلف کے اُس دلیل کہ ہندو مذہب بھی چترال میں رہا ہے کی توثیق فارسی جیو گرافی پر لکھی ہوئی کتاب حدود العالم سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ بلور (چترال اور ناردرن ایریاز کا پرانا نام) کا بادشاہ اپنے آپ کو سورج کا بیٹا مانتا ہے جو کارل جیٹمار کے ہاں یہ ہندو مذہب میں (سورا) کا تصور ہے جو ہندو سماج کے اندر سورج سے ایک مذہبی عقیدے کی بنیاد پر ہوتا ہے اور سورج کو اہم مذہبی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہندو تہذیب یا مذہب سطورِ بالا میں ذکر شدہ مذاہب کی طرح اس علاقے میں کوئی ایک مخصوص دور کی نمائندگی نہیں کرتا البتہ ہندو اور سکھ تاجروں کا تاریخی طور پر اس خطے میں آمدورفت رہی ہے جن کی وجہ سے کچھ ثقافتی اثرات ہوسکتے ہیں جن کے اُپر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا چترال میں درجہ بالا ذکر شدہ تین مذاہب بلترتیب زرتشت، بدھ مت اور کلاشہ کے زیر اثر رہا ہے اور اُن کے کئی اوراہم ثقافتی و مذہبی اثرات بھی ہیں جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: