Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ – (29اگست یوم شہادت پرخصوصی تحریر) – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

شیئر کریں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ – (29اگست یوم شہادت پرخصوصی تحریر) – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

                دور غلامی کے بدترین اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قوموں کو ماضی کے صفحات میں دفن کر کے تو اس دنیاسے ان کا وجود نابود کر دیتاہے۔لیکن امت مسلمہ تاریخ انسانی وہ محترم و متبرک گروہ ہے جس کی کوکھ دور غلامی میں بھی علمیت و قیادت کے بارآورثمرات سے سرسبزو شاداب رہی ہے۔سیدقطب شہیداس امت وسط کے وہ مایہ ناز سپوت ہیں جنہوں نے دورغلامی کے پروردہ استعمار کے سامنے سپرڈالنے کی نسبت شہادت کے اعلی ترین منصب کو پسند کیااور پھانسی کے پھندے پر جھول کرابدی حیات جاوداں کے راستے پر ہمیشہ کے لیے کامیاب و کامران ہو گئے۔سیدقطب شہید،مصر کے ایک نامور ماہر تعلیم،مسلمان دانشوراورعربی کے معروف شاعر تھے۔”اخوان الملمون“سے وابستگی ان کے لیے جہاں باشعورمسلمان حلقوں میں تعارف کا باعث بنی وہاں امت مسلمہ کو ذہنی طور پردورغلامی سے نکالنے کے لیے انہوں نے قلم کے ہتھیارکو بھی استعمال کرنا شروع کر دیا۔مصر کے غلامی زدہ سامراج کوسیدقطب کی قلمی کاوشوں کے نتیجے میں مسلمانوں کاباشعورہونا پسند نہ آیااوروقت کے طاغوت نے اس بطل حریت کو راہی ملک عدم کردیا۔

                ”سید قطب“9اکتوبر1906ء کو مصرکے ”موشا“نامی گاؤں میں پیداہوئے،یہ جگہ بالائی مصر کے ”اسیوط“نامی صوبے کاایک نواحی مقام ہے۔یہ ایک زمیندار گھرانہ تھااورآپ کے والد محترم کاشماراپنے خاندان اورعلاقے کے بڑے  بزرگوں میں ہوتاتھا۔علاقے کے جملہ سیاسی وسماجی و انتظامی مسائل میں آپ کے والدبزرگوار کی رائے کوایک طرح سے فیصلہ کن مقام حاصل تھا۔گویاقیادت کی صلاحیت سیدقطب کوخاندانی وراثت سے ہی ملی تھی۔آپ کے والد محترم کی ایک خاص بات ہفتہ وار مجالس ہیں جن میں اس وقت کے سیاسی وقومی معاملات کوقرآن کی روشنی میں سمجھاجاتاتھا۔اس طرح گویاقرآن فہمی بھی آپ کو اپنے باباجان کی طرف سے علمی وراثت میں ملی۔شاید اسی کے باعث لڑکپن سے ہی روایتی ملائیت کے خلاف ان کے اندر شدید نفرت کی آگ بھڑک اٹھی تھی،کیونکہ روایتی مذہبی تعلیم کے مدارس قرآن مجید کی انقلابی تعبیر سے بہت بعیدہوتے ہیں الا ماشاء اللہ۔وہ بچپن سے ہی کتب کے بہت شوقین تھے،اپنی جیب خرچ سے پیسے بچاتے ہوئے اپنے ہی گاؤں کے کتب فروش ”امصالح“سے کتابیں خرید لیتے تھے اور بعض اوقات شوق مطالعہ انہیں ادھار پر بھی مجبور کر دیتاتھا۔بارہ سال کی عمرمیں ان کے پاس پچیس کتابوں کی لائبریری مرتب ہو چکی تھی،گویا امت مسلمہ کا یہ یکے از مشاہیر اپنی جسمانی عمر سے دوہری نوعیت کی ذہنی و فکری عمرکا حامل تھا۔اس چھوٹی عمر میں بھی لوگ ان سے اپنے سوالات کیاکرتے تھے اور بعض اوقات بڑی عمرکے لوگوں کی ایک مناسب تعدادان سے اجتماعی طورپرکسب فیض بھی کرتی تھی تاہم خواتین کوان کے اسکول کی چھٹی کا انتظارکرناپڑتاتھااور خواتین سے خطاب کے دوران ان پر شرم غالب رہتی تھی۔

                ابتدائے شباب میں وہ قاہرہ سدھارگئے اور 1929سے1933کے دوران برطانوی تعلیمی اداروں سے عصری تعلیم حاصل کی۔اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک معلم کی حیثیت سے کیا،اور پیشہ ورانہ زندگی کی ابتدامیں ہی ادیب اور نقاد ہونا آپ کی پہچان بن گئی۔اگرچہ کچھ ناول بھی لکھے لیکن زیادہ تر ادیبوں،شاعروں اور عربی ناول نگاروں کی مددکرتے رہے۔علوم و معارف میں ترقی آپ کی پیشہ ورانہ ترقی کا باعث بھی بنی اور1939ء میں مصر کی وزارت تعلیم جس کا مقامی نام ”وزارت معارف“ہے،میں انتظامی عہدوں پر تعینات ہو کراعلی افسر بن گئے۔1948تا1950ء آپ نے امریکہ میں قیام کیاجس کا مقصد وہاں کے تعلیمی نظام سے آگاہی حاصل کرنا تھا۔سیدقطب شہیدکاکسی بھی مغربی ملک میں یہ پہلا دورہ تھا۔سیکولرمعاشرے کی قباحتیں آپ نے بہت گہرائی سے محسوس کیں اور خاص طورپر مغربی دنیاکا جوروشن چہرہ سارے عالم کے سامنے ہے اس کے اندرون میں چنگیزسے تاریک تر تاریکی آپ نے بنظر خود مشاہدہ کی۔دل میں موجود ایمان بھڑک اٹھااور اسی دورے کے دوران آپ کی پہلی  شہرہ آفاق تصنیف”العدل الاجتماعیہ فی الاسلام“1949میں شائع ہوگئی۔امریکہ میں دوسالہ قیام کے دوران کے تاثرات اور مشاہدات بھی”امریکہ،جو میں نے دیکھا“کے عنوان سے کتاب میں شائع ہوئے۔حضرت علامہ اقبال ؒکی طرح انتہائی دیانتداری سے سیدقطب شہیدؒ نے امریکی معاشرے کا تجزیہ پیش کیا،جہاں خامیوں اور کمزوریوں پر نقد کیاوہاں اس معاشرے کی خوبیوں کوبھی بیان کیا۔

                1950ء کے آغاز سے ہی اس ذہین انسان کو مذہب نے اپنی طرف کھینچ لیااورسید قطب شہیدؒنے ”اخوان المسلمین“میں شمولیت اختیارکرلی۔ابتداََآپ کی علمی  استعدادکے باعث  کے ”اخوان المسلمین“کے ہفتہ وار رسالے کامدیرمقررکیاگیا،بعد میں وہ ”اخوان المسلمین“کے مرکزی ذمہ دار برائے نشرواشاعت بنادیے گئے اورپھرا ن کاخلوص اور تقویت ایمان انہیں ”اخوان المسلمین“کے اعلی ترین مشاورتی ادارے کی رکنیت تک لے آئے۔ان دنوں جمال عبدالناصرنے حکومت کے خلاف تحریک چلارکھی تھی ابتداََ”اخوان المسلمین“اور جمال عبدالناصر کے تعلقات بہت اچھے رہے تھے اور ایک بار تو جمال عبدالناصرخود چل کرسیدقطب شہید کے گھربھی گئے تاکہ انقلاب کی کامیابی کے لیے تفصیلی منصوبہ تیارکیاجائے،بعد میں بارہ بارہ گھنٹے طویل نشستوں میں جزیات پر بھی بحث کی جاتی رہی اوراس دوران سیدقطب شہیدکو آنے والی حکومت میں وزارتوں کی پیشکش بھی کی جاتی تھی۔

جمال عبدالناصرکے ان اقدامات کے باعث ”اخوان المسلمین“کی اکثریت بہت خوش ہو گئی کہ شاید اب نفاذاسلام کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔1952ء میں جمال عبدالناصرنے ایک بغاوت کے ذریعے مصری حکومت کو چلتاکردیااورخود اقتدارکے ایوانوں پرقابض ہوگئے اورنفاذ شریعت کے کئے گئے تمام وعدوں سے منحرف بھی ہو گئے۔ پس بہت جلد جمال عبدالناصر کو سیکولرازم کی روایتی بدعہدی نے ”اخوان المسلمین“سے بہت دور کردیاکہ مسلمانوں کو پہلے دن سے ہی ”لکم دینکم ولی دین“کا سبق پڑھادیاگیاتھااور اسلام اورسیکولرازم اکٹھے نہ چل سکے۔اس کے باوجود بھی ”اخوان المسلمین“عوام کے اندر نظریاتی اور خدمت خلق کاکام کرتی رہی اور عوام الناس میں مقبول تر ہوتی رہی۔بہت جلدمصر کے سیکولرحکمرانوں کے لیے ”اخوان المسلمین“کاوجودہی ناقابل برداشت ہوگیاااور1954ء میں بغاوت کے جھوٹے الزامات کے تحت سیدقطب شہید سمیت ”اخوان المسلمین“کے ہزارہاکارکنوں اور مقتدرراہنماؤں کو قیدوبندمیں ڈال دیاگیااور انہیں بدترین تشدداور انتہائی غیراخلاقی اور غیرانسانی بہیمانہ مارپیٹ کانشانہ بنایا گیاکہ سیکولرازم کویہی رویہ ہی زیب دیتاتھا۔

                تین سالوں کی طویل مدت تک جب طاغوت اپنی پوری کوشش کے باوجود ”اخوان المسلمین“کے پائے استقامت میں لغزش پیدانہ کرسکاتو استعمار کی رگیں ڈھیلی پڑ گئیں اور سیدقطب شہیدؒکومحدود نقل و حرکت اور لکھنے کی اجازت مل گئی۔جس طرح پاکستان میں ”تفہیم القرآن“کا بیشتر حصہ دارورسن میں ضبط تحریرمیں آیااسی طرح مصر میں ”فی ظلال القرآن“بھی پس دیوار زنداں سے منظر عام پر آئی۔آہنی سلاخون کا دوسراعرق ”معالم الطریق“کے عنوان سے امت کو میسرآیا۔اب تک ان کتب کے بے شمار طباعتیں اور کتنی ہی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔1964ء میں انہیں عراق کے صدرعبدالسلام عارف کی سفارش پر رہاکردیاگیا۔یہ ایک اورامر تعجب ہے کہ پاکستان اور مصر کے مشاہیرکو عالمی حمایت تو حاصل ہوتی ہے لیکن اپنے ہی وطن کے حکمران ان کی نہایت بے قدری پر ہی کمربستہ رہتے ہیں۔

محض آٹھ ماہ کی مختصرمدت کے بعد ہی انہیں ”معالم الطریق“جیسی کتاب لکھنے کے جرم میں دھر لیاگیا۔آفرین ہے اس مرد مجاہد پرجس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرعدالت میں اپنی تحریرکردہ کتاب پرکسی طرح کامعذرت خواہانہ رویہ اختیارکرنے کی بجائے ڈنکے کی چوٹ پراپنے موقف کے حق میں پرزوردلائل دیے۔انسانی تاریخ میں انبیاء علیھم السلام کے بعد یہ آسمان شاید پہلی مرتبہ دیکھ رہاتھا کہ ملزم کس شان سے نہ صرف اعتراف جرم کررہاہے بلکہ اپنے جرم کے حق میں مضبوط ترین دلائل بھی بیان کررہا ہے۔”معالم الطریق“بارہ ابواب پر مشتمل ایک سوساٹھ صفحات کی مختصرسی کتاب ہے،لیکن محققین کے مطابق گزشتہ صدی میں عربی زبان میں اس سے عمدہ کتاب شاید نہیں لکھی گئی۔اس کتاب میں امت کو جھنجوڑاگیاہے کہ قرآن مجیدکی فراہم کردہ بنیادوں پرایک نئی فکراور نئے معاشرے کاقیام عمل میں لایا جائے۔

اس کتاب کے مضامین کافی حد تک علامہ محمداقبال کے خطبات ”فکراسلامی کی تجدیدنو“سے ملتے جلتے ہیں۔سیدقطب شہید کی بنیادی اٹھان توادیب اور شاعرکی حیثیت سے ہی تھی اور قرآن مجیدجیسی الہامی کتاب میں بھی صرف ایک چیلنج ہے اور ادیبوں اور شاعروں کوہے کہ اس جیسی کوئی کتاب یاسورۃ یاآیت ہی بناکردکھاؤ،پس جب ادب و نقد اورقرآن مجیدیک جا ہوگئے تو مصر کی تاریخ گواہ ہے کہ”معالم الطریق“جیسی مختصر کتاب سے ہی باطل شکست کھاگیا۔سیکولرازم جیسے انسان دشمن نظریے کی عدالتوں سے انصاف کی توقع رکھناگویااپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے،چنانچہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے مطابق سیدقطب شہیدؒسمیت چھ اور اسلامیان مصرکو سزائے موت سنا دی گئی۔پاکستان میں یہی کھیل مولانا مودودی کے خلاف ”ختم نبوت“جیسی کتاب لکھنے کے ”جرم“ میں کھیلا گیا۔29اگست1964ء کوسیدقطب شہیدکوابدی حیات جوداں میں پہنچادیاگیا۔

[email protected]


شیئر کریں: