Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاحوں کے لئے ہوم سٹے پراجیکٹ ۔ محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے صوبے میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر نئے سیاحتی مقامات کی آباد کاری اور کیمپنگ پاڈز کے پراجیکٹ کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے موجودہ سیاحتی مقامات پر مقامی افراد کو روزگار کے مواقع کی فراہمی اور سیاحوں کوگھر جیسا ماحول فراہم کرنے کیلئے ہوم سٹے پراجیکٹ کیلئے قرضہ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کا کہنا ہے کہ محکمہ سیاحت کے زیر اہتمام صوبے میں پانچ مقامات پر کیمپنگ پاڈز کا پراجیکٹ توقع سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔سیاحوں کا رش بڑھنے کی وجہ سے پانچ نئے سیاحتی مقامات پر کیمپنگ پاڈز نصب کئے گئے ہیں جن میں بمبوریت وادی کالاش چترال، الائی بٹگرام، مہابن اور مالکہ بونیراور شہید سر شامل ہیں.

صوبے میں دس نئے سیاحتی مقامات کا بھی تعین کیا گیا ہے جہاں پر جلد کیمپنگ پاڈز نصب کئے جائینگے جن میں جاروگو واٹر فال اور صولاتنڑ سوات، لشکرگاز بروغل چترال، سورلاسپور چترال، کمراٹ دیر اپر، کالام سوات، الپوری شانگلہ، ثما نا ٹاپ ہنگو، لڑم ٹاپ دیرلوئراور بن شاہی دیر لوئر شامل ہیں۔سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ہوم سٹے پراجیکٹ ایک منفرد اور اچھوتا آئیڈیا ہے۔ جس کے تحت خیبر بینک کے تعاون سے سیاحتی مقامات کے لوگوں کو قرضہ فراہم کیا جائے گا۔مقامی لوگ اس قرضے سے اپنے گھروں میں ایک کمرہ حکومتی ڈیزائن کے مطابق تعمیر کریں گے اس کمرے میں سیاحوں کو تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ رہائش فراہم کی جائے گی۔

گھر میں رہائش پذیر سیاحوں کو روایتی اور ان کی پسند کے کھانے فراہم کئے جائیں گے جن کے لئے وہ ادائیگی کریں گے۔ اپنے گھر کا ایک کمرہ سیاحوں کو کرائے پر دینے اور انہیں قیام کے ساتھ طعام کی سہولت دینے سے جہاں مقامی لوگوں کے لئے آمدن کے ذرائع پیدا ہوں گے اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوگا وہیں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں خصوصاً فیملی کے ساتھ سیاحت کے لئے آنے والوں کو رہائش کی معیاری سہولیات میسر آئیں گی جس سے سیاحت میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

قدرت نے اس صوبے کو حسن فطرت سے مالامال کیا ہے۔ یہاں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے سیاحتی مقامات ہیں جن کے بارے میں صرف مقامی لوگ جانتے ہیں ان پوشیدہ سیاحتی مقامات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔جہاں قدرتی ماحول کا نظارہ کرنے والوں کی دلچسپی کا ہر سامان موجود ہے۔ یہاں گلیشئیر بھی ہیں ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے بھی ہیں۔ بہت سے پہاڑی مقامات پر گرم پانی کے چشمے بھی بہتے ہیں۔ گھنے جنگلات اور انواع و اقسام کی نایاب جنگلی حیات بھی یہاں پائی جاتی ہے۔ یہاں بلند و بالا آبشار، گنگناتی ندیاں اور سرسبز لہلہاتے کھیت کھلیان بھی ہیں۔ نئے سیاحتی مقامات کا کھوج لگانے کے ساتھ صوبائی حکومت اگر مقامی تہواروں کو سپانسر کرے تو ہزاروں سیاحوں کو ان تہواروں میں شرکت پر مائل کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے مقامی تہوار متروک بھی ہوچکے ہیں محکمہ سیاحت ان کی بحالی پراگر توجہ مرکوز کرے تو اس خطے کی ثقافت کی احیاء کے ساتھ سیاحوں کو ان منفرد تقریبات میں شرکت پر راغب کیا جاسکتا ہے۔

محکمہ سیاحت نے عالمی بینک کے تعاون سے کائیٹ پراجیکٹ کے تحت چترال،ایبٹ آباد،مانسہرہ اور دیر اپر میں کنٹینر بیس سہولت سنٹربھی تعمیر کرر ہا ہے جہاں سیاحوں کوہنگامی امداد کی سہولیات میسر ہونگی۔عید الاضحی کے دوران لاکھوں افراد نے ملک کے مختلف علاقوں سے خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کی سیرکی۔ ان سیاحوں نے ٹرانسپورٹ، رہائش اور قیام و طعام کے علاوہ مقامی مصنوعات کی خریداری پر چار دنوں میں 66ارب روپے خرچ کئے جن سے صوبائی حکومت کو 26ارب روپے کی آمدنی ہوئی۔ مزید سیاحتی مقامات کھولنے اور وہاں سیاحوں کو بنیادی سہولیات اور سیکورٹی فراہم کرنے سے صوبے کو اربوں کی آمدنی ہو سکتی ہے۔

یہ بات طے ہے کہ صوبائی حکومت سیاحت پر جتنی بھی سرمایہ کاری کرے گی۔ وہ رقم ایک سال کے اندرریکور ہوسکتی ہے۔ اس سے بہتر سرمایہ کاری کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔یہ حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا کا خوشحال مستقبل سیاحت سے وابستہ ہے۔ جس کا ادراک موجودہ صوبائی حکومت کو بھی ہے۔ حکومت نے سیاحتی مقامات تک سڑکوں کی تعمیر، چیئرلفٹس کی تنصیب اور کیمپنگ پاڈز لگانے کے جو اعلانات کئے ہیں ان پر فوری عمل درآمدضروری ہے تاکہ حکومت جو فصل بو رہی ہے اس کے ثمرات بھی موجودہ حکومت کے دور میں ہی عوام تک پہنچ سکیں۔


شیئر کریں: