Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی – تلخ و شیریں، نثار احمد

شیئر کریں:

ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی – تلخ و شیریں، نثار احمد

جب بھی علمی حوالے سے ملک گیر یا عالم گیر شہرت یافتہ عالم دین کی دنیا سے رخصتی کی جان گسل خبر پھیل جاتی ہے تو علمی حلقوں اور اصحابِ علم میں “موت العالِم موت العالم” ، “ناقابلِ تلافی نقصان” اور “خلا تادیر پُر نہیں ہو گا” جیسے جملوں کا تذکرہ و تبادلہ رسما ً ہوتا ہے لیکن بعض علمی ہستیاں فی الواقع ایسی ہوتی ہیں جن کے بچھڑنے پر مذکورہ جملے انتہائی گہرے معانی و مفاہیم کے ساتھ دماغ کی اسکرین پر قیامت ڈھاتے ہیں۔


کل علی الصبح عزیز و اقارب کو الوادع کہہ کر سفر آخرت پر روانہ ہونے والے مفتی فیض الرحمن عثمانی بھی انہی جلیل القدر علماء کرام میں سے تھے جن کی وفات سے پیدا ہونے والا علمی خلا تادیر پر نہیں ہو سکے گا۔ کل جیسے ہی مولانا صاحب کے وفات کی خبر موبائل پر سنی بخدا دل و دماغ کو سخت قسم کی یاسیت نے جکڑ لیا۔ ایسا لگا کہ کاش مولانا صاحب کو چند سال اور ملتے تو مولانا صاحب اپنے مزید منصوبوں کی تکمیل کرتے۔ بہرحال تقدیر کے آگے پہلے کس کی چلی ہے؟ جو اب چلتی۔

ا گرچہ مفتی فیض الرحمن عثمانی رحمہ اللّٰہ مذہبیات پر دقیق نظر رکھنے والے ایک مایا ناز عالم دین تھے اور ان گنت کمالات سے متصف ایک عظیم انسان بھی۔ لیکن ان کی اصل وجہ ِ شہرت ان کا قائم کردہ مدرسہ “ادارہ علوم اسلامی” بنا۔ اس مدرسے کو باقی روایتی دینی مدارس سے الگ تعارف و شناخت اور منفرد اہمیت اس لیے حاصل رہی کہ اس میں ایک ہی چھت تلے مکمل درس نظامی بھی پڑھایا جاتا ہے اور بی اے تک باقاعدہ طریقے سے سکول و کالج کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ یوں یہ عدیم النظیر علمی ادارہ گزشتہ دو ڈھائی عشروں سے معاشرے کی ضرورت کے مطابق افراد سازی کے عالی مشن پر عمل پیرا ہے۔


یہ مولانا فیض عثمانی رح کا حددرجہ اخلاص اور اپنے مشن کے ساتھ کمال کی وابستگی تھی کہ آپ دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کے ساتھ اس وقت میدانِ عمل میں اترے جب ہمارے روایتی مدارس میں عصری علوم کا نام لینا بھی گناہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب درس نظامی کے ساتھ ضمناً عصری علوم پڑھانے کی خواہش کو “مرعوبیت” ، “سازش” اور گمراہی جیسے الفاظ کے طعنے سننے اور سہنے کو ملتے تھے۔ باقی مدارس کو چھوڑیے، کافی جدید اور وسیع الفکر سمجھے جانے والے دارالعلوم کراچی کورنگی جیسے عظیم ادارے میں بھی ہم ظہر کے وقت پرچے کا گتا سفید رومال میں لپیٹے چھپکے سے کھسک جاتے تھے انٹر کے پیپرز میں شریک ہونے کے لیے۔ کہ مبادا کس کو پتہ چلے اور ہماری سرزنش ہو۔ بعد ازاں انہی دنوں دارالعلوم کراچی میں اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا جو طالب علم گزشتہ درجے میں ستر فی صد نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوا ہو گا اسے امتحان دینے کی اجازت بھی ملے گی اور پرچوں کے لیے چھٹی بھی۔ یوں دارلعلوم میں امتحان دینے کے لیے اجازت ملنے کا محمود سلسلہ شروع ہوا۔باقی مدارس میں تب صورت حال انتہائی پتلی تھی اب اللہ جانے۔


یہ مولانا رح کا پہاڑ جیسا عزم اور چٹان جیسا ارادہ ہی تھا کہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے آپ نے اسلام آباد میں ایسے ادارے کی داغ بیل ڈالی جس میں قدیم و جدید علوم کو کسی نہ کسی حد تک یکجا کرنے کی کوشش کی۔ اس نئی سمت میں علمی سفر کا آغاز کرنے کے بعد آپ کے قائم کردہ ادارے نے پے در پے علمی فتوحات کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ مخالفت کرنے والے بھی ان کی کامیابیوں پر رشک کرنے لگے۔ ورنہ ناقدین کی طرف سے عام طور پر ایسی صورت حال میں ایک رٹی رٹائی جملے کی جگالی ہوتی تھی کہ دو کشتیوں پر پاؤں رکھنے والا ادھر کا رہتا ہے نہ ادھر کا۔


ادارہ علومِ اسلامی میں جہاں ایک طرف پورا درس نظامی پڑھایا جاتا ہے وہاں دوسری طرف بی اے تک کی عصری تعلیم بھی باقاعدہ دی جاتی ہے درس نظامی کے امتحانات وفاق المدارس العربیہ، جبکہ میٹرک اور ایف اے کے امتحانات فیڈرل بورڈ لیتا ہے۔ بی اے کے لیے ادارے کا انسلاک پنجاب یونیورسٹی سے ہے۔


بورڈ میں پیپر دینے والے یہ طلبا دوسرے سکول و کالج والوں سے ہر گز پیچھے نہیں ہیں۔ بلکہ فیڈرل بورڈ کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں زیادہ تر پوزیشنز ادارہ علومِ اسلامی کے طلبا کی آتی ہیں۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ شروع کی پندرہ پوزیشن اسی ادارے کے طلبا کے حصے میں آئیں۔ یقیناً یہ ناقابلِ فراموش ریکارڈ اور قابلِ ستائش کارنامہ ہے۔ اسی طرح علمی رسوخ اور تعلیمی قابلیت میں بھی ادارہ علومِ اسلامی کے طالب علم دیگر روایتی مدارس کے طالب علموں سے اگر اگے نہیں ہیں، تو پیچھے بھی نہیں ہیں۔
مجھے مولانا رح سے عقیدت کی حد محبت تھی یہ محبت اس لیے بھی تھی مولانا ایک زمانہ ساز انسان تھے۔

آپ پہلے سے تراشیدہ لکیروں پر چلنے کی بجائے خود سے لکیریں تراشنے پر یقین رکھتے تھے۔ ایسے زمانہ ساز شخصیات کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہوتا ہے کہ خود زمانہ ان کی قدر نہیں کرتا۔ ایسے نابغوں کو روایتی علمی حلقوں میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے یہ مستحق ہوتے ہیں ان کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ان کے ویژن کا تمسخر کیا جاتا ہے اگر چہ بعد ازاں پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہنے کے بعد لوگوں کو بہت کچھ سمجھ بھی آتا ہے۔ ان سے عقیدت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ ان مہتممن میں سے تھے جو اپنی جیب سے مدرسے میں لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔


کیا ہی اچھا ہوتا جب کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے مولانا رح اپنے سمدھی مولانا خلیق الزمان صاحب کے ہاں تشریف لائے تھے تو ان سے تفصیلی ملاقات ہو جاتی۔ ہماری حرمان نصیبی ہی سمجھئے کہ حاضر ِ خدمت نہیں ہو سکے۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔


شیئر کریں: