Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کا سرکاری منصوبوں کے پی سی ونز میں شجرکاری کو لازمی جز کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت

شیئر کریں:

وزیراعلیٰ کا سرکاری منصوبوں کے پی سی ونز میں شجرکاری کو لازمی جز کے طور پر شامل کرنے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے میںشجرکاری کے فروغ کیلئے ایک اور اہم قدم کے طور پر سرکاری منصوبوں کے پی سی ونز میں شجرکاری کو لازمی جزکے طور پر شامل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ تعمیراتی منصوبوں میں مناسب پیمانے پر شجرکاری کا بندوبست بھی یقینی بنایا جائے ۔ اُنہوں نے مون سون شجرکاری مہم 2021 کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مہم کے سو فیصد اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت کا بھی موثر انتظام کیا جائے ۔

وہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں مون سون شجرکاری مہم سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔قائم مقام چیف سیکرٹری ظفر علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز ، ڈویژنل کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں مون سون شجرکاری مہم 2021کے تحت اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاءکوبتایا گیا کہ رواں شجرکاری مہم کے تحت مجموعی طور پر 58 ملین پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔یکم اگست سے شروع ہونے والی شجرکاری مہم کے پہلے دو ہفتوں کے اندر صوبے میںعوامی سطح پر شجرکاری کی 774 سرگرمیاں منعقد کی گئی ہیں اور مجموعی طور پر ان دو ہفتوں کے دوران تقریباً80 لاکھ پودے لگائے جا چکے ہیں ۔

علاوہ ازیں مہم کے دوران جنگلات میں اُگنے والے 112 ملین پودوں کے تحفظ کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے اور اب تک 56 ملین پودوں کا تحفظ یقینی بنایا جا چکا ہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مہم کے دوران عوام اور منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے 11 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں جبکہ نجی سطح پر شجرکاری کیلئے لوگوں میں 15 لاکھ سے زائد پودے تقسیم کئے گئے ہیں۔ مہم کے تحت سو فیصد اہداف کا حصول یقینی بنانے کیلئے بلدیاتی اداروں کیلئے شجرکاری کے الگ اہداف مقرر کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے شہری علاقوں میں شجرکاری پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ڈویژنل، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں وسیع پیمانے پر شجرکاری یقینی بنائی جائے ۔ اُنہوںنے کہاکہ دیگر منتخب مقامات کے علاوہ نہروں ، دریاﺅں اور شاہراہوں کے کناروں پر بھی کثرت سے پودے لگائے جائیں۔

علاوہ ازیں تجاوزات سے واگزارکرائی جانے والی سرکاری اراضی پر بھی شجرکاری کی جائے ۔ محمود خان نے شجرکاری کے ساتھ ساتھ پودوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بلدیاتی اداروں کو اپنی حدود میں لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کا پابند بنایا جائے ۔ اُنہوںنے واضح کیا کہ صرف پودا لگا لینا کافی نہیں ہے بلکہ اُس پودے کو تناور درخت بننے تک محفوظ رکھنا اور اُس کی دیکھ بھال کرنا بھی ذمہ داری ہونی چاہیئے ۔ محمود خان نے کہاکہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے 10 بلین ٹری پراجیکٹ کی کامیابی کیلئے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں صوبے کی سطح پر ایک ارب پودے لگانے کا ہدف حاصل کرنے کیلئے کامیابی کے ساتھ گامزن ہے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام اداروں اور محکموں پر زور دیا کہ وہ صوبے اور ملک کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنانے پر پولیس کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ محرم کے لئے بہترین سکیورٹی انتظامات کرنے اور امن و امان کو یقینی بنانے پر پولیس کے اعلیٰ حکام ، افسران اور جوان شاباش کے مستحق ہیں۔
یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ محرم کی سکیورٹی کے حوالے سے سکیورٹی فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار بھی قابل تعریف رہا ہے جبکہ سول انتظامیہ نے بھی اس سلسلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ اُنہوںنے کہاکہ نامساعد حالات کے باوجود بھی صوبے میں محرم کے حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور محرم کے تمام جلوس اور مجالس پرامن ماحول میں منعقد ہوئے ۔ وزیراعلیٰ نے محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں علمائے کرام کے کردار کو بھی سراہا ہے اور انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرنے پر تاجر برادری اور شہریوں کے کردار کی بھی تعریف کی ہے ۔ اُنہوںنے کہاہے کہ محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔


شیئر کریں: