Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موسیقی کلچر ، تہذیب اور مذہب کے تناظر میں ۔ تحریر: محمدپرویزبونیری

شیئر کریں:

موسیقی یاناچ گانا دنیاکی ہرقوم اور ہردورمیں کسی نہ کسی شکل میں موجودرہاہے۔ایک طرف لوگ تفنن طبع اورتفریح کے لئے موسیقی سے محظوظ ہوتے ہیں اوردوسری طرف اس شعبے سے وابستہ افراد اسے شغل یا ذریعہ معاش کے طورپر اپناتے ہیں۔دنیاکی ترقی کے ساتھ ساتھ موسیقی اورآلات موسیقی میں بھی بہت جدت آگئی ہے جبکہ کیمرے کی ترقی نے موسیقی اورناچ گانے کے فروغ اورجدت میں بہت اہم کردار اداکردیاہے۔اس شعبے سے وابستہ مرداورخواتین شادی، بیاہ اوردوسری مختلف قسم کی تقریبات میں باقاعدہ مدعوکئے جاتے ہیں اورانہیں اس شُغل کے بدلے میں اجرت دی جاتی ہے، جس سے انکے گھروں کاچولھاجلتاہے۔موسیقی اورناچ گانے سے وابستہ افرادمختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔اردومیں انکے لئے موسیقار، گلوکار،گویا،طوائف، ڈومنی اوررقاصہ جیسی اصطلاحات مستعمل ہیں مگر جب موسیقی اورناچ گانا فنون لطیفہ، شائستگی اورشرافت کی حدود سے تجاوزکرکے حسن پرستی، عیاشی،بے حیائی، ابتذال اورپھکڑپن کی شکل اختیارکرلے اوررقص ونغمہ کی محفلیں تسکین نفس کاسامان بنے توپھر انکے لئے رکیک اورمتبذل قسم کی اصطلاحات بھی استعمال ہوتی ہیں۔

بہرحال موسیقی شرافت وشائستگی، اخلاق واخلاص اورآدابِ محفل کی رعائت کے ساتھ اس قدر مذموم عمل نہیں سمجھاگیاہے، بہرحال اسے کسی بھی قوم نے اپنی ثقافت، تہذیب اورمذہب کے اعلیٰ قدروں میں شمارنہیں کیاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس شعبے سے وابستہ مرد اورخواتین ہرقوم اورہر دور میں معاشی تنگدستی کے ساتھ ساتھ قدرومنزلت اورعظمت والے مرتبے سے محروم رہتے ہیں۔گوکہ موسیقی یاناچ گانا بحیثیت فنون لطیفہ کسی بھی قوم یاخطے کی تہذیب اورثقافت کاجزو ہوسکتاہے مگریہ کسی قوم یاخطے کی ثقافت یاتہذیب نہیں ہوسکتی۔ اگرکوئی انسان بہ بانگ دہل یہ دعویٰ کرتاہے کہ موسیقی ہماری تہذیب یاثقافت ہے توانکی یہ بات انتہائی احمقانہ اورجہالت پر مبنی ہوگی۔جزو کی حیثیت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے اوراس پر کُل کااطلاق نہیں ہوتا، اس لئے کسی ایک جزو کو پوری تہذیب یاثقافت کہنا درست نہ ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے تہذیب اورثقافت کی تعریف جان لینا بہت ضروری ہے۔


بقو ل سرسید”جب ایک گروہ انسانوں کاکسی جگہ اکھٹابستاہے تواکثران کی ضرورتیں اوران کی حاجتیں، غذائیں اورپوشاکیں، انکی معلومات اورخیالات، مسرت کی باتیں، نفرت کی چیزیں سب یکساں ہوتی ہیں اوربرائی اوراچھائی کے خیالات بھی یکساں ہوتے ہیں اوریہی ایک قوم یاگروہ کاسیولائزیشن ہے۔“


علامہ اقبال کے خیال میں تمدن کاتعلق ظاہری آداب اوررسوم سے ہے جبکہ تہذیب کاتعلق انسان کی باطنی اورذہنی کیفیتوں سے ہے۔ اس سلسلے میں کلچر کی سب سے جامع تعریف ڈاکٹرجمیل جالبی نے کی ہے، جن کے مطابق،”کلچرایک ایسالفظ ہے جوزندگی کی ساری سرگرمیوں کا خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی، خارجی ہویاداخلی احاطہ کرلیتاہے۔کلچراس کل کانام ہے جس میں مذہب وعقائد، علوم واخلاقیات، معاملات اورمعاشرت، فنون وہنر، رسم ورواج، افعال ارادی اورقانون، صَرفِ اوقات اوروہ ساری عادتیں شامل ہیں جن کاانسان معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے اکتساب کرتاہے اورجن کے برتنے سے معاشرے کے متضاد اورمختلف افراد اورطبقوں میں اشتراک ومماثلت، وحدت اوریکجہتی پیداہوجاتی ہے۔کلچرمیں زندگی کے مختلف مشاغل، ہنر اورعلوم وفنون کو اعلیٰ درجے میں پہچاننا، بری چیزوں کی اصلاح کرنا، تنگ نظری اورتعصب کو دورکرنا، غیرت وخودداری، ایثارووفاداری،اخلاق میں تہذیب اورشائستگی اوراپنی اعلیٰ روایات کی پاسداری، یہ ساری چیزیں شامل ہیں“۔ڈاکٹرغلام جیلانی برق نے مختصرالفاظ میں کہاہے کہ کلچرصرف ذہنی جلا، دانش اوراس نقطہ نگاہ کانام ہے جوعمل، مطالعہ اورایمان سے پیداہوتاہے۔


کلچر کی ان جامع تعریفوں میں کہیں بھی یہ بات نہیں ہے کہ موسیقی اورناچ گانا کسی قسم قوم کاکلچرہے بلکہ یہ کسی قوم کے کلچر کاادنیٰ جزو ہے، جسے اس قوم کے کچھ افراد تفریح اورتفنن طبع کی خاطر استعمال کرتے ہیں جبکہ اکثرافراد اسے معاشرتی، تہذیبی اورمذہبی لحاظ سے مذموم قراردیتے ہیں۔ بادشاہ اکبر ایک سیکولرانسان تھے اورجن کے عقیدے میں ہندؤازم کو مرکزی اہمیت حاصل تھا،مگرمبینہ طورپر انہوں نے اپنے اکلوتے اورتاج وتخت کے وارث فرزند کو صرف اس وجہ سے عتاب کانشانابنایاکہ اس نے ایک طوائف سے محبت کی تھی۔دنیاکی مختلف تہذیبوں اورمذاہب میں اہل علم،مذہبی لوگ اوراشرافیہ موسیقی اورناچ گانااپنانے کو معیوب سمجھتے ہیں اوراپنی اولادکے لئے بھی اسے ناپسند قراردیتے ہیں۔

ہمارااشرافیہ اپنی اولاد کے لئے رقاصہ، ڈومنی اورموسیقار جیسے القاب کبھی پسند نہیں کرتے۔ جہاں تک مذہب کاتعلق ہے تو اسلام میں کہیں بھی موسیقی کوجائز قرارنہیں دیاگیاہے بلکہ جتنے بھی مذہبی لوگ ہیں، وہ سب متفقہ طورپر موسیقی کو حرام قراردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کاواضح حکم ہے کہ خبردار اللہ تعالیٰ کے ذکرسے اپنے دلوں کو مطمئن کرو۔یعنی دل اورروح کی اصل غذا ذکرالٰہی ہے نہ کہ موسیقی اورناچ گانا۔اب جو لوگ کسی نہ کسی شکل میں موسیقی کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملاکر بے بنیاد دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ موسیقی ہمارا کلچرہے، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ موسیقی کبھی کسی قوم کاکلچر، تہذیب یامذہب نہیں ہوتابلکہ یہ کلچریاتہذیب کاادنیٰ جز وہوسکتاہے، جسے کبھی قبول عام حاصل نہیں ہواہے بلکہ مذموم اورمعیوب سمجھی جاتی ہے۔


شیئر کریں: