Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی پر ایک نظر! – قادر خان یوسف زئی

شیئر کریں:

افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی پر ایک نظر! – قادر خان یوسف زئی

افغانستان میں افغان طالبان کی تیزی سے بڑھتی پیش قدمی اور قریباََ پورے افغانستان کا کنٹرول بظاہر’چند ہفتوں‘  میں حاصل کرلینا، دنیا کے لئے باعث حیرت ہے کہ یہ کس طرح ہوگیا ، امریکی صدر بھی شدید تنقید کی زد میں اور انہیں فوجی انخلا کو عجلت کا موجب قرار دے کر موجودہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔ مغرب میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جنگ تو اربوں ڈالر ز خرچ کئے بغیر نہیں لڑی جاسکتی، تو اس پر مختلف آرا ء اور تھیوریوں سامنے آرہی ہیں کہ افغان طالبان، مبینہ طور پر  افیون کی پیداوار، اسمگلنگ، کان کنی، اغوا برائے تاوان سمیت روس، ایران اور پاکستان سے مالی امداد حاصل کرتے ہوں گے۔ امریکہ تو باقاعدہ روس پر الزام عائد کرچکا کہ مبینہ طور پر افغان طالبان کو جنگی ساز و سامان سمیت مالی مدد بھی دے رہا ہے۔سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ نے بھی اپنے خزانے کھولے تھے بالفرض مبینہ الزام کو مان لیتے ہیں تو جیسی کرنی ویسی بھرنی والا معاملہ ہی سمجھ لیں، ویسے بھی یہ کوئی انہونی بات نہیں، تاہم یقینی طور پر اس حوالے سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں۔


یہاں ایک نہیں بلکہ کئی سوال اٹھتے ہیں کہ یہ جو امریکی ٹینک و بھاری جنگی ساز و سامان افغان طالبان استعمال کررہے ہیں، ان کے قبضے میں کیسے آئے؟۔ جنگی پوسٹوں پر بھاری ہتھیاروں کے ذخائر غنی انتظامیہ نے دیئے یا ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ نے، اب جو  مکمل افغانستان پر افغان طالبان کی عمل داری کو دنیا تسلیم کرچکی تو وہاں موجود اربوں ڈالر و سونے کی شکل میں ملنے والی بلیک منی و کرپشن سے حاصل، مال غنیمت کیا افغان طالبان کے لئے کافی نہیں۔ اس نکتے کو یہیں تک محدود رکھ دیں کہ افغان طالبان کے لئے رقوم کا حاصل کرنا مشکل کام نہیں تھا اور نہ ہے۔ اب آتے ہیں کہ اتنے جلدی افغانستان ان کے کنٹرول میں کیسے آگیا، یہاں تک کہ ماضی میں سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والے علاقوں میں بھی انہیں جنگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور افغان سیکورٹی فورسز سمیت کابل انتظامیہ کے ہمراہ جنگجو گروپوں نے بھی ہتھیار ڈال دیئے، افغانستان کی صورت حال کا مستقل جائزہ لینے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغان طالبان نے اپنی گوریلا وار اسٹریجی ایک مہینے قبل نہیں بلکہ 20 برسوں سے اختیار کی ہوئی ہے، انہوں نے غیر ملکی افواج و افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ جنگجو گروپوں کے ساتھ سخت جھڑپوں کے بعد افغانستان کے پچاس فیصد سے زائد علاقوں پر کئی برس قبل ہی قبضہ کرلیا تھا، یہ باقی ماندہ وعلاقے صرف اس لئے محفوظ تھے کہ امریکہ و نیٹو افواج زمینی جنگ کے بجائے فضائی حملوں میں اندھا دھند بمباریاں کرتے تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے مدر آف آل بمز کا بھیانک تجربہ کسی کے ذہن سے محو نہیں ہوا ہوگا۔ گوریلا  وار دنیا کی سب سے سخت اور دقت آمیزقرار دی جاتی ہے، ویت نام میں امریکہ کو ناکوں چنے چبانے میں گوریلا وار نے ہی اہم کردار ادا کیا تھا۔


اب کچھ حلقوں کے اُن مفروضوں کی جانب بڑھ جاتے ہیں جیسے ہضم کرنے کے لئے اس الزام کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا کہ افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی کی تشریح کرنے والے ان کے حامی ہوسکتے ہیں، تاہم اسے ایک مفروضہ ہی سمجھ لیں کہ اگر افغان طالبان کی جنگی حکمت عملی سمجھ میں نہ آرہی ہو تو تاریخ میں ایسے ان گنت واقعات درج ہیں کہ ہفتو ں کے اندر اندر کئی حکمرانوں نے فتوحات حاصل کی، ایک ہی مثال سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ الیگزینڈرسکندر اعظم نے آرگنائز آرمی کے ساتھ 10 برسوں میں 17لاکھ مربع میل کا علاقہ قبضہ کیا تھا، جب کہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالہ عنہ نے صرف دس برسوں میں دنیا کی دو سپر پاور روم اور ایران کے ساتھ آرگنائز آرمی کے بغیر 22لاکھ مربع میل کے علاقے کو فتح کیا۔  الیگزینڈر کا نام صرف کتابوں میں سمٹ کر رہ گیا جب کہ حضر ت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے بنائے  نظام دنیا کے 245 ممالک میں آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔  یقین کیجئے کہ صرف جنگی حکمت کے عزم  و جذبے کے حوالے سے موازنہ کرانے کے لئے صرف اُن حقائق کو سامنے رکھنے کی جسارت کی،جس سے سمجھنے میں مدد ملے گی کہ  افغانستان کا کل رقبہ تو صرف 652230   مربع کلو میٹر پر محیط ہے، یہاں تو چار دہائیوں سے جنگ جاری ہے،20برس پنجہ آزمائی کرنے کے بعد امریکہ نے 52ممالک کے ساتھ واپسی کی راہ لی،کیا دنیا دیکھ نہیں رہی کہ پہلے گھوڑے ہوتے تھے جس پر سوار ہوکر فتوحات حاصل کی جاتی تھی آج صرف موٹر سائیکل سواربھاری جنگی ہتھیاروں کے ساتھ اضلاع و دارلحکومتوں پر قبضہ کررہے ہیں۔ امریکہ کے خوف کا یہ عالم کہ پہلے تو اپنی تمام فوج کو واپس بلا لیا، لیکن چند افراد کے لئے تین ہزار سے زائد فوجی دستے دوبارہ کابل بھیج دیئے، کویت میں ڈیرے جما لئے، سمندر میں بحری جنگی بیڑوں کو الرٹ کردیا۔


افغان طالبان کی  جنگی حکمت عملیمیں بادی ئ النظر یہی اسٹریجی نظر آتی ہے کہ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد افغان سیکورٹی فورس میں شامل ہوئے،”بلیو و گرین وار“  اس حکمت عملی کی توثیق کرتی ہے۔ جھڑپوں میں سیکورٹی فورسز پر حملوں اور پھر 52ممالک اور سپر پاور امریکہ کی شکست کے بعد واپسی نے افغان عوام سمیت افغان فوجیوں کے دل و دماغ میں افغان طالبان کو تسلیم کرنے کا رجحان کو بڑھایا۔ افغان طالبان نے معروف جنگجوؤں کو عام معافی کے اعلان میں عزت کے ساتھ جان کی امان دے کر اپنی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ کابل انتظامیہ نے افغان عوام کو نسلی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر خانہ جنگی کروانے کی کوشش کی، لیکن مزار شریف جیسے شہروں اور تمام بارڈر کراسنگز  پر قبضے نے ثابت کردیا کہ افغان عوام اب طویل جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
 کیا دنیا یہ نظارے نہیں دیکھ رہی کہ جہاں جہاں افغان طالبان جاتے ہیں عوام اُن سے گھل مل جاتے ہیں، ان کے ساتھ بنا خوف و ڈر سیلفی بناتے ہیں، امریکی ٹینکوں پر جشن مناتے ہیں، کیا یہ افغان طالبان کے خلاف مزاحمت نہیں کرسکتے تھے، کیا یہ افغانی نہیں ، ایسا نہیں ہے، افغانی صرف امن چاہتے ہیں، جو انہیں ایک مضبوط اور طاقت ور قیادت کی صورت میں مل سکے، فی الوقت تو افغان جنگ میں بھرپور مسلح مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ ضرور ہے کہ کابل انتظامیہ اور ان کے جنگجوؤں نے عوام میں اس قدر خوف و ہراس پیدا کیا کہ وہ بعض علاقوں سے نقل مکانی  کرچکے، اور خود بھی فرار ہوگئے، لیکن ان کی جلد واپسی ہوگی کیونکہ وہاں تو افغان سیکورٹی فورسز نے بنا لڑے ہتھیار ڈال دیئے، جسے عوامی ریفرنڈم بھی کہا جاسکتا ہے،  اب کسیبڑی جنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اس لئے دنیا کو بھی دیکھنا چاہے کہ جن جن علاقوں میں افغان طالبان گئے وہاں عوام نے ان کا استقبال کرکے انہیں تسلیم کیا۔ پھر جبر کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔افغان عوام کے فیصلوں کو دنیا کو بالاآخر تسلیم کرنا ہوگا کیونکہ یہی سب کے حق میں بہتر ہے۔ ( با شکریہ جہان پاکستان  )


شیئر کریں: