Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنمنٹ کالجوں کو پرائیویٹائز کرنے کے خلاف تدریسی عملہ کا چترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

شیئر کریں:

گورنمنٹ کالجوں کو پرائیویٹائز کرنے کے خلاف تدریسی عملہ کا چترال پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنمنٹ کالج چترال، گورنمنٹ کالج بونی اور گورنمنٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز چترال کے تدریسی اسٹاف نے صوبائی حکومت کی طرف سے پبلک سیکٹر کے کالجوں کو پرائیویٹائز کرنے کے لئے بورڈ آف گورنرز قائم کرنے کے فیصلے کے خلاف پیر کے روزچترال پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیاجوکہ فیصلے کے خلاف نعروں پر مشتمل کتبے اٹھارکھے تھے۔

اس موقع پر لیکچررز کی مقامی تنظیم کے صدر نوید اقبال اور منیجمنٹ سائنسز کی طرف سے عبدالفتاح نے کہاکہ گورنمنٹ کالجز کی کارکردگی میں نمایان اضافہ ہونے،والدین کا ان کالجوں پر اعتماد بڑھ جانے کی وجہ سے میٹرک کے بعد اپنے بچوں اور بچیوں کو یہاں ذیادہ سے ذیادہ تعداد میں داخل کرنے اور یہاں بہترین امتحانی نتائج آنے کے باوجود حکومت نے ان کو پرائیویٹائز کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جوکہ انتہائی قابل مذمت قدم ہے جس سے غریبوں پر اعلیٰ تعلیم کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ جہانزیب کالج سیدوشریف میں بورڈ آف گورنرز قائم کرکے اس عمل کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں فنانس اور اکیڈیمک میں خود مختاری دی جائے گی اور کالجوں کو اپنے اخراجات خود ہی پیدا کرنے کے لئے طلباء وطالبات پر فیسوں کا ناجائز بوجھ ڈالنا پڑے گا۔انہو ں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ اس وقت بی۔ ایس پروگرام میں ایک سیمسٹر میں ڈھائی ہزار روپے لئے جاتے ہیں جوکہ پرائیویٹائز ہونے کے بعد 70ہزار روپے تک بڑھ سکتی ہے جوکہ ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہاکہ جہانزیب کالج کو پرائیویٹائز کرنے کا مقصد اس کے 900کنال زمین پر قبضہ جمانا ہے جس کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے سرمایہ کاروں کو تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے پیر کے روز احتجاج کے طور پر کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے وہ صوبائی قیادت کی کال کا انتظار کریں گے۔

گورنمنٹ کالجوں

شیئر کریں: