Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر میں مسلسل تا خیر کے خلاف کالاش ویلی میں احتجاجی جلسہ

شیئر کریں:

ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر میں مسلسل تا خیر کے خلاف کالاش ویلی میں احتجاجی جلسہ

چترال ( محکم الدین ) ایون کالاش ویلیز روڈ کے تعمیری کام شروع کرنے میں مسلسل تا خیر کے خلاف ایک زبردست احتجاجی جلسہ بمبوریت کے مقام برون میں منعقد ہوا ۔ جس میں ایون ، رمبور ، بریر اور بمبوریت سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ جلسے میں کالاش خواتین کے علاوہ سیاحوں نے بھی شرکت کی ۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ۔ کہ صوبائی حکومت ایون کالاش ویلیز روڈ کیلئے دو ارب روپے منظور کرنے کا اعلان کر چکی ہے ۔ جس کی خوش خبری معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا وزیر زادہ دے چکے ہیں ۔ لیکن نہ جانے منصوبے پر کام مسلسل تاخیر کا شکار ہو چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے یونین کونسل ایون کے عوام میں ایک تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس لئے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے مزید تاخیر کئے بغیر کام شروع کیا جائے ۔

مقررین نے کہا ۔ کہ ایون کالاش ویلیز روڈ سٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ جبکہ سیاحت پر اس کی تعمیر کے مثبت اثرات علاقے کی معاشی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہوں گے ۔ موجودہ حالات میں اس روڈ کی وجہ سے مقامی لوگ اور سیاح انتہائی اذیت اور ذلت سے دوچار ہیں ۔ آدھے گھنٹے کے راستے میں جہاں مقامی لوگوں اور سیاحوں کے پانچ سے چھ گھنٹے ضائع ہوتے ہیں ۔ وہاں آسمان پر چڑھے کرایے برداشت کرنا لوگوں کیلئے ناممکن ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی طرف سے کالاش ویلیز کے کئی منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی قابل ستائش ہے ۔ مگر ایون کالاش ویلیز روڈ کی تعمیر علاقے کا بنیادی مسئلہ ہے ۔ اس لئے اس کو اولیت دی جانی چاہئیے ۔ دیگر منصوبے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس لئے موجودہ حکومت سے پر زور مطالبہ ہے ۔ کہ وقت ضائع کئے بغیر اس روڈ پر عملی کام کا آغاز کیا جائے ۔ اور تاخیری حربے استعمال کرکے ایون و کالاش وادیوں کے لوگوں کو ٹرخانے کی کوشش نہ کی جائے۔

مقررین نے کہا ۔ کہ اگر واقعی حکومت نے دو ارب روپے کی منظوری دی ہے ۔ تو سیکشن فور لگا کر سڑک کیلئے زمینات لینے کا کام کیوں شروع نہیں کیا جارہا ۔ جس کی وجہ سے عوام میں حکومت کے خلاف بد اعتمادی بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ پاکستان کے اعلی حکام اور آفیسران سب کالاش وادیوں کی سیر کرنے کیلئے آتے ہیں ۔ اور یہاں کے لوگ ہمیشہ ان پر گل پاشی اور گلدستے پیش کرکے ان کی عزت کرتے ہیں ۔ لیکن کسی کو بھی یہ احساس نہیں ہو رہا ۔ کہ تنگ اور خستہ حال سڑکوں پر جانوں کو خطرے میں ڈال کر یہ لوگ کیسے سفر کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت کی ترجیح مڈکلشٹ ہے ۔ کالاش ویلی روڈ ان کی ترجیح نہیں ہے ۔ ورنہ کالاش ویلیز کو نظر انداز کرکے مڈکلشٹ پر اربوں روپے خرچ کرنے کے منصوبے نہ بنائے جاتے ۔ جس میں چودہ ہزار فٹ بلند برف پوش پہاڑوں کے اوپر سے چئیر لفٹ کی تنصیب ایک ناکام منصوبے پر پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ۔


انہوں نے کہا ۔ کہ وزیر زادہ چترال کا ایک قابل فخر بیٹا ہے ۔ مگر یہ بات باعث تعجب ہے ۔ کہ کالاش ویلیز روڈ جس کی تعمیر میں وزیر زادہ کی عزت کا سوال ہے ۔ حکومت کی طرف سے کان نہیں دھرا جا رہا۔ اور مسلسل عوام سے جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پچھلی حکومت میں اس روڈ کی تعمیر کیلئے فنڈ منظور ہو چکے تھے۔ لیکن وہ فنڈ اب غائب ہیں ۔

احتجاجی جلسے سےگجرات سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح ڈاکٹر ساجد محمود نے خطاب کرتے ہوئے خدا کا واسطہ دے کر عمران خان سے اپیل کی ۔ کہ کالاش ویلی ایک جنت نظیر وادی ہے ۔ لیکن اس کو دیکھنے کیلئے جہنم کے راستے سے آنا پڑتا ہے ۔ سیاح اور مقامی لوگوں دونوں پر رحم کھا کر اسے تعمیر کیا جائے ۔

مقررین نے کہا ۔ کہ ضلعی انتظامیہ مختلف بہانوں سے تاخیری حربہ استعمال کر رہا ہے ۔ جو زیادہ دیر نہیں چلے گا ۔ اور لوگ احتجاج ، دھرنا اور روڈ بلاک کیلئے میدان میں نکل آنے پر مجبور ہوں گے ۔ اس لئے ضروری ہے ۔ کہ اس احتجاج کو سنجیدہ لیا جائے ۔ اس موقع پر سڑک کی تعمیر کیلئے متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی ۔ مقررین نے یہ بھی مطالبہ کیا ۔ کہ کالاش ویلیز روڈ کو اوٹک درے کے راستے نورستان کے ساتھ لنک کیا جائے ۔ جو نورستان ، بدخشان سے ہوتے ہوئے تاجکستان اور واسطی ایشیا ء تک کاروبار کیلئے اسان ترین اور محفوظ راستہ ہے ۔

مقررین نے ایم این اے مولانا عبد الاکبر اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا ۔ اور کہا کہ ان نمایندگان کا کام صرف اپنی تنخواہ کے حصول تک محدود ہو کے رہ گیا ہے ۔ عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ۔ اگر عوام کے مسائل ان سے حل نہیں ہو پاتے ہیں ۔ تو انہیں استعفی دے دینا چاہئیے ۔

مقررین نے چیتر آر سی سی پل فوری طور پر کھولنے ، سید آباد میں یونیورسٹی کی زمین پر تعمیرات کرنے ، گرلز ڈگری کالج ایون کے تعمیری کام میں تیزی لانے کے ساتھ ، ایون بروز گیس پلانٹ منصوبے کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا ۔ جبکہ ڈی ایف او فارسٹ کی طرف سے بے جاقانون چترال کے غریب عوام پر لاگو کرنے کی شدید مذمت کی گئی ۔ اور مطالبہ کیا گیا ۔ کہ جنگلوں میں پڑا ہوا صدیوں پرانا ملبہ صاف کرنے کی فوری اجازت دی جائے ۔ تاکہ لوگوں کی ایندھن و دیگر ضرورت پوری ہوں ۔ اور جنگل میں نئے پودوں کو افزائش کا موقع مل سکے ۔

احتجاجی جلسے سے رہنما پی پی پی نیاز احمد و وجیہہ الدین سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبدالمجید قریشی ، مسلم اینڈ کالاش جوائینٹ آرگنائزیشن کے صدر خلیل الرحمن ، سابق پروڈیو سر پی ٹی وی حبیب الرحمن ، کالاش رہنما عبدالخالق ، سابق ناظم رحمت الہی ، کالاش خاتون کونسلر ملت گل ، سماجی کارکن رحمن شہزادہ ، سکول کی طالبات گلشن بہار ، مینہ بی بی ، نذیر احمد خان ، رہنما پی ٹی آئی عبدالجبار ، سوشل ورکر آصف رضا ، سیاسی و سماجی ورکر انعام اللہ جان ، سیاح ڈاکٹر ساجد محمود (ر) صوبیدار محمد یوسف نے خطاب کیا ۔ جبکہ اس موقع پر معروف شخصیت جندولہ خان ، خیرالاعظم ، حاجی بہادر علی و معززین کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ جلسے کے دوران روڈ کے مطالبے کیلئے نعرے گونجتے رہے ۔

chitraltimes kalash valley protest against delay road construction1
chitraltimes kalash valley protest against delay road construction
chitraltimes kalash valley protest against delay road construction2
chitraltimes kalash valley protest against delay road construction3

شیئر کریں: