Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کھوار زبان وادب کی تاریخ ۔ تبصرہ : ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

کھوار زبان وادب کی تاریخ ۔ تبصرہ : ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

زبان و ادب کی تاریخ ایک پیچیدہ مضمون ہے رام با بو سکسینہ سے لیکر ڈاکٹر سلیم اختر تک کئی نا بغہ روز گار مورخوں اور نقادوں نے اس پر کا م کیا ہے لیکن پرو فیسر محمد نقیب اللہ رازی صاحب کا تحقیقی اور تنقیدی کام سب سے الگ ہے آپ نے ایسی زبان پر کام کیا ہے جس کا لسا نیاتی اور ادبی ذخیرہ بہت مختصر ہے یہ ایسے دریا کی ما نند ہے جس کی تہہ میں غو طہ لگا ئے بغیر مو تی کا ہاتھ آنا ممکن نہیں اور شکر کا مقا م ہے کہ رازی صاحب نے غو طہ لگا یا اور ہمارے دامن کو کھوار ادب کے مو تیوں سے بھر دیا 473صفحات کی خو بصورت کتاب ”تاریخ زبان وادب کھوار“ رازی صاحب کی نئی کتاب ہے جس کو ادارہ فروغ قو می زبان نے خصو صی اہتمام سے شا ئع کیا ہے

مصنف نے 1997میں ”کھوار زبان و ادب“ کے نا م سے تاریخ ادبیات پر 176صفحات کی مختصر کتاب شائع کی تھی جو اب تک حوالے کی کتاب کے طور پر کا م آرہی ہے زیر نظر کتاب اپنے نقش اول والے اجما ل کی تفصیل ہے اس میں مو ضوع کے ساتھ پورا انصاف کیا گیا ہے اور اس کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا 110شعرائے کرام کا تذکرہ نمو نہ کلا م کے ساتھ دیا گیا ہے جبکہ 370شعرائے کرا م کے اسمائے گرامی حروف تہجی کی تر تیب سے ریکارڈ کے لئے کتاب میں درج کئے گئے ہیں یو ں کم و بیش 500نا موں کے ساتھ کھوار زبان کے سابقہ اور مو جو دہ شعرا ء کی اچھی خا صی تعداد سا منے آگئی ہے اور خو شی کی بات یہ ہے کہ گلگت،کراچی اور لا ہور میں مو جود شعراء کو بھی شا مل کیا جا ئے تو یہ فہر ست 600سے اوپر تک جا تی ہے جو کھوار کی ثروت مندی کی نشا نی ہے مصنف نے کتاب کو 15ابواب میں تقسیم کیا ہے

پہلا بات کھوار کی تاریخ پر ہے جو 2000قبل از مسیح سے مو جو د ہ حال تک کا احا طہ کر تا ہے دوسرا باب کھوار کے لسا نیاتی مطا لعے پر ہے اس میں صو تیات کا تفصیلی ذکر ہے تیسرے باب میں کھوار کے لسا نی اسلو ب، ضر ب لامثا ل اور محا ورات پر بحث کی گئی ہے چو تھے باب کا عنوان ہے کھوار پر اثر انداز ہو نے والے عوامل یا عنا صر، اس باب میں عر بی، فارسی، انگریزی، پشتو اور اردو کے اثرات کا ذکر ہے پا نچویں باب میں کھوار کے حروف تہجی، رسم الخط اور املا پر بحث کی گئی ہے چھٹا باب کھوار ادب کے ارتقا پر ہے اس میں فروری 1957کے پہلے مشا عرے سے بات شروع کی گئی ہے پھر انجمن تر قی کھوار، ریڈیو پا کستان، مجلہ جمہور اسلا م کھوار، سکولوں کے لئے کھوار نصاب کی تیاری، ایف ایم ریڈیو اور سو شل میڈیا کے ساتھ ساتھ کھوار کے مختلف رسائل اور جرا ئد کا ذکر ہے سا تواں باب کھوار زبان کی خصو صیات اور ادبی ثروت مندی کا بیان ہے

آٹھواں باب کھوار پر ہو نے والے تحقیقی کا موں سے بحث کرتا ہے یہ بحث ڈاکٹر لیٹنرسے شروع ہو کر دور حا ضر تک سوا سو سال کے کا موں کا احا طہ کر تا ہے نویں باب میں اس تسلسل کو شہزادہ حسام الملک سے شروع کر کے قاری نصیر اللہ منصور تک لا یا گیا ہے دسواں باب کھوار اصنا ف شاعری اور مو سیقی پر ہے گیا رھویں باب میں شعرائے قدیم کا ذکر ہے جو اتا لیق محمد شکور غریب سے لیکر جبیں تک آیا ہے بارھواں باب عصر حا ضر کے شعراء کا تذکرہ ہے اس حصے میں محسوس ہوتا ہے کہ 1880سے لیکر 1960تک کھوار گیتوں کے حوا لے سے جو اہم شعرا ء گزرے تھے ان کا ذکر نہیں ہوا گل اعظم خا ن، امان، زیا رت خان، شیرین، یسا ول، حبیب گل اور ان کے ہم عصر شعراء پر گل نواز خا کی نے جو کام کیا ہے وہ رازی صاحب سے مخفی رہا ہو گا تیرھواں باب شاعرات کے تذکرے کے لئے مخصوص ہے

اس میں نا ن دوشی، ڈوک یخدیذننو بیگال، ننو ژان کی شاعرات کے ساتھ ساتھ دور حا ضر کی شاعرات میں فریدہ سلطا نہ فری اور سیدہ حیات بیگم نسیم،ثاقیہ کوثر بلقیس اور بشارت جبیں سمیت درجن بھر شاعرات کا ذکر آیا ہے بات نمبر 14میں کھوار شاعری اور کلا سیکی مو سیقی کا بیان آیا ہے کتاب کا آخری باب کھوار نثر پر ہے اس میں نقد و جرح، تحقیق، افسانہ، انشا ئیہ، ناول، ڈرامہ، خواتین قلم کا ر، بچوں کا ادب وغیرہ آگئے ہیں.

کتاب کا دیباچہ ادارہ فروغ قومی زبان کے صدر نشین ڈاکٹر راشد حمید نے لکھا ہے اپنے دیباچے میں آپ لکھتے ہیں ”ادارہ مولا نا نقیب اللہ رازی کا احسان مند ہے کہ انہوں نے انتہا ئی احسن طریقے سے کھوار زبان و ادب کے بنیا د ی خدو خال اجا گر کر تے ہوئے ایک تاریخ قلمبند کی ہے پا کستانی زبا نوں اور ان کے ادب کے اجتما عی دھا رے کا مطا لعہ کر تے وقت یہ کتاب یقینا ممدو معاون ہو گی“ الغرض ”تاریخ زبان وا دب کھوار“کی اشاعت کے ذریعے مصنف نے خود اپنا ریکارڈ توڑ دیا ہے جس کے لئے آپ مبارک باد کے مستحق ہیں۔


شیئر کریں: