Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حب الوطنی ۔ تحریر:-صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

حب الوطنی ۔ تحریر:-صوفی محمد اسلم

 حب الوطنی کا مطلب ہے اپنے ملک کی حمایت کرنا اس سے محبت کرنا یہاں تک کہ جب وہ مشکل وقت سے گزر رہا ہو۔حب الوطنی میں ملک سے لگاؤ ​​اور محبت کا احساس ہے۔ اس میں قوم کی عقیدت ہے ۔ حب الوطنی ہی وہ جذبہ ہے جو ملک کا جھنڈا بلند رکھتا ہے ۔کسی ملک سے محبت اور لگن قوم کی ترقی کا لازمی جز ہے۔ محب وطن ملک کی عزت کی حفاظت کے لیے قربانی کا مجسمہ ہے۔ حب الوطنی کا مطلب کسی خاص سیاسی جماعت یا رہنما کی حمایت نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ہے نظام حکومت کا احترام و قوانین کی پاسداری اوراحساس ذمہ داری درحقیقت حب الوطنی ہے۔


کسی کی کمتری کو عزت و وقار کا نشہکسی کو زور و زر کسی کو اقتدار کا نشہنشے میں دھت تمام ہیں، نشے تو سب حرام ہیں
چند ماہ پہلے کی بات ہے میں اپنی بائیک پر لوئیر چترال جارہا تھا۔ ڈی سی پارک کے پاس پہنچا تو میرے اگے جانے والی ایک تیز رفتار گاڑی اچانک سے سائیڈ کی طرف جانے لگی جب میں قریب پہنچا تو وہ گاڑی روک چکی تھی۔ میں بھی بریک لگاکر کچھ فاصلے پر یہ سوچ کر روکا کہ شاہد اس گاڑی میں کوئ مسلہ ہوا ہے۔گاڑی سے ایک فارنر اترا اور میرے طرف انے لگا۔ میں سمجھا کہ شاہد مجھ سے کوئ غلطی ہوگیا مگر وہ میرے پاس سے اداباً مسکراتے ہوئے گزرا اور کچھ فاصلے پر جاکر روڈ کے وسط میں پڑا اس پھتر کو اٹھایاجس کے پاس سے ابھی ابھی میں بڑی اسٹائیل کے ساتھ ٹرن کرکے گزرا تھا، روڈ سے باہر پھینک دیا اور واپس اگیا۔ میں بھی تیزی سے منہ چپاکر وہاں سے چلا گیا۔

دن بھر میں سوچتارہا کہ مجھے وہ پھتر دکھائ تو دیا تھا مگر میرے اور اس کے نگاہوں میں واضح فرق تھا ۔ جس نظر سے اس نے پھتر کو دیکھا اس نگاہ سے میں نہ دیکھ سکا۔ وہ پھتر روڈ کے بالکل وسط میں پڑا تھا نہ مجھے برا لگا نہ اس پھتر سے دوسروں کو ہونے والے تکالیف کا احساس تھا- مگر وہ مجھ جیسا نہ تھا اس لڑکے کے ضمیر کو تکلیف ہوئ تو گاڑی سے اتر کر باہر پھینک دیا۔  اس نے اپنے خاموش مسکراہٹ سے مجھے سکھانے کی کوشش کررہا تھا کہ حب الوطنی نہایت ضروری ہے اور اس کا درست اظہار یہی ہے کہ اپنے اندر احساس زمہ داری پیدا کی جائے نہ کہ بیجا زندہ باد کا نعرہ لگانا اور وگا بارڈر پر جاکر مونجھوں کو تاؤ دینا ہی حب الوطنی نہیں۔


 مزکورہ بالا واقعہ بظاہر بہت معمولی ہے مگر اس واقعہ میں ہمارے مزاج اور ہماری خصلت کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایسے واقعات ہمارے لاپرواہی،غیر زمہ داری، نالانی، خودغرضی، ناسمجھی اور مٹی سے محبت کے جھوٹے دعووں کی عکاسی ہوتی ہے۔ ازادی ہمیں نصیب ہوئ مگر اذادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر پابندی سے ازاد ہوگئے۔ قوانیں کی پاسداری اور اصولوں کی پابندی سے انسان اور انسانوں سے عظیم قوم بنتے ہیں۔ بے اصولی انسان کو یا تو غلام بنادیتی یا وحشی۔ مثبت اصولوں کی غلامی انسان کیلئے نہایت ضروری ہے۔ ازادی کے مفہوم بے راہروی اور بے لگامی  نہیں بالکہ قوانیں اور حب الوطنی کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ایک زمہ دار شہری کی طرح زندگی گزرنے کا نام ازادی ہے۔وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ



شیئر کریں: