Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مستوج خاص وملحقہ علاقوں کے ڈاکخانوں میں پڑے سیونگ ڈپازٹس واپس کئے جائیں۔عزیز

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) مستوج خاص ضلع اپر چترال کے سماجی شخصیت الحاج شیر عزیز نے پاکستان پوسٹ کی مستوج برانچ میں 300سے ذیادہ سیونگ اکاونٹ کے مالکان کو اپنی ڈپازٹ کی واپسی کے لئے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور چترال کا بار بار سفر کر کے نیشنل سیونگ سنٹر میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرنے پر وفاقی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یارخون سے لے کر مستوج خاص اور لاسپور تک کے غریب اکاونٹ ہولڈروں کے ساتھ یہ سنگین مذاق بند کیا جائے۔

ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ مستوج پوسٹ آفس میں مجموعی طور پر پانچ کروڑ روپے بچت اکاونٹ میں پڑے ہوئے ہیں جن کے اکاونٹ ہولڈر وں نے پاکستان پوسٹ کو بزنس دیتے رہے لیکن حکومت کی غلط اور تباہ کن پالیسی کی وجہ سے انہیں اب اپنے کئے کی سز ا دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ پورے ملک میں پاکستان پوسٹ نے بچت اسکیموں کو ختم کرکے انہیں نیشنل سیونگ سنٹروں میں منتقل کردی ہے لیکن اپر چترال کے یارخون سے لے کر مستوج خاص اور لاسپور تک کے عوام پر یہ ظلم کے مترادف ہے کیونکہ انہیں قریب ترین نیشنل سیونگ سنٹر برانچ چترال آنے جانے میں کم ازکم دو دن اور دس ہزار روپے خر چ ہوں گے جوکہ مہنگائی وگرانی کے اس دورمیں ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہاکہ کار سرکارمیں کاہلی، سستی اور کم چوری کی روایت کے پیش نظر ہر اکاونٹ ہولڈر کو چار سے چھ مرتبہ چترال شہر کا سفر کرکے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کا ایک حصہ ضائع کرنا پڑے گا۔

حاجی شیر عزیز نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لئے خود مداخلت کرتے ہوئے وزارت مواصلات کو احکامات جاری کرے کہ مستوج خاص برانچ میں اکاونٹ ہولڈروں کو ان کے ڈپازٹ نقد شکل میں ادا کرکے حسابات بے باق کیا جائے بصورت دیگر سینکڑوں غریب اور ضعیف العمر اکاونٹ ہولڈر اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو لے کر ڈاک خانے کے سامنے تادم مرگ دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔


شیئر کریں: