Chitral Times

May 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیرموٹروے ودیگرمیگاترقیاتی منصوبوں بارے وزیراعلی کے زیر صدارت اجلاس

شیئر کریں:

دیرموٹروے ودیگرمیگاترقیاتی منصوبوں بارے وزیراعلی کے زیر صدارت اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے میں مواصلات کے شعبے میں میگا ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا، جس میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے کے علاوہ دیگر منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کو ان منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 365 کلومیٹر طویل پشاور ڈی آئی خان موٹروے کے پی سی ون کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے منظوری ہو چکی ہے اور اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے کیلئے آئندہ جے سی سی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرلیا گیا ہے ۔

مزید بتایا گیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بھی اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے کمرشل اور فنانشل فیزیبلیٹی کی منظوری ہو چکی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری مواصلات اعجاز انصاری،ایم ڈی پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو دیر موٹروے پر پیشرفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس منصوبے کے پی سی ون کی منظوری بھی سنٹر ل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی سے ہو چکی ہے ، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبے پر عملدرآمد کے لئے کمرشل اور فنانشل فیزبیلیٹی پر کام جاری ہے۔

سوات موٹروے فیزٹو کے حوالے سے بتایا گیا کہ منصوبے کیلئے زمین کی خریداری کے ساتھ ساتھ منصوبے کے دیگر پہلوﺅں پر بھی پیشرفت جاری ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ان تمام منصوبوں کو صوبے کی مستقل بنیادوں پر ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ان منصوبوں کو بروقت شروع کرنے کیلئے سنجیدہ ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف لوگوں کومعیاری سفری سہولیات میسر ہونگی بلکہ صوبے میں تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی یہ منصوبے معاون ثابت ہو ں گے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مواصلات کے شعبے کے ان اہم مجوزہ منصوبوں پر مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان منصوبوں پر بروقت عملی کام کا آغاز کیا جاسکے۔

نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ملکی تعمیر وترقی میں نوجوان طبقے کا کردار اورا ہمیت مسلمہ ہے ۔وزیراعلی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نوجوانوں کو قوم کا سرمایہ اور قوم کے روشن مستقبل کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ملکی تعمیر وترقی میں نوجوان طبقے کا کردار اورا ہمیت مسلمہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں نوجوان طبقے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اُن کی فلاح و بہبود ہماری حکومت کے منشور کا ایک ہم حصہ ہے ۔


نوجوانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے ایک پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ عالمی سطح پر آج کا دن نوجوانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد قومی زندگی اور ملکی تعمیرو ترقی میں نوجوانوں کی اہمیت کا اعتراف کرنا اور اس حوالے سے شعور اُجاگر کرنا ہے ۔ محمود خان نے کہاہے ہمارے ملک کی آدھی سے بھی زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اعتبار سے نوجوان طبقے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان بھر پور صلاحیتوں کے مالک ہیں اور اُن کی صلاحیتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ کرکے پاکستان کو دنیا کا ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک بنایا جاسکتا ہے۔


انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ملکی سطح پر وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے نوجوانوں کی اس اہمیت کے پیش نظر اُنہیں قومی دہارے میں آگے لانے اور اُن کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نوجوانوں کو مکمل طور پر بااختیار بنانے کیلئے نہ صرف پر عزم ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اُٹھارہی ہے ۔

نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے اُنہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت شروع دن سے نوجوانوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور پارٹی قائد عمران خان کے وژن کے مطابق نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے عملی طور پر گامزن ہے ۔ صوبائی حکومت کی طرف سے نوجوانوں کوبا اختیار بنانے کیلئے خیبرپختونخوا کی پہلی یوتھ پالیسی تشکیل دی گئی جس کا مقصد نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے ایک سازگار ماحول اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے ۔

صوبے میں جوان مراکز کا قیام عمل میں لایاجا رہا ہے تاکہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے ۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے نہ صرف نصاب تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں بلکہ نوجوانوں کی فنی اور پیشہ وارانہ تربیت کیلئے ادارے بھی قائم کئے گئے ۔ نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانے کیلئے معالی معاونت کے پروگرام کا اجراءکیا گیا جس کے تحت بلاسود قرضے فراہم کئے گئے ۔


شیئر کریں: