Chitral Times

May 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تربیت اولاد – گل عدن چترال

شیئر کریں:

تربیت اولاد – گل عدن چترال

اس میں شک نہیں کہ تربیت اولاد ہر وقت کی اہم ضروت ہے ۔میں اس پر تو بات نہیں کر سکتی کہ اولاد کی تربیت کس طرح کی جائے۔کہ یہ چھوٹی منہ بڑی بات ہوگی۔مگر میں اتنا ضرور کہنا چاہتی ہوں کہ تربیت ہی ہر ایک اولاد کی بنیادی حق ہے ۔اور دینی تعلیم اولاد کی اولین ضرورت بھی ہے اور حق بھی ۔جو والدین اپنی نادانی کے سبب اپنی اولین ذمہ داری یعنی اولاد کی تربیت کو چھوڑ کر اولاد کو آسائشات دینے کو اہمیت دیتے ہیں ۔وقت ثابت کرتا ہے کہ ایسے والدین نے نہ صرف اپنی جانوں پر ظلم کیا بلکہ اپنے اولاد پر بھی ظلم کیا ۔کیونکہ یہ وہ عظیم نقصان ہے (اولاد اور والدین دونوں کا مشترکہ نقصان ) کہ جسکا ازالہ پھر وقت گزرنے کے بعد نہیں کیا جاسکتا۔

اولاد جو اللہ رب العزت کی طرف سے انسان کے لئے تحفہ اور نعمت ہے وہیں اولاد کو اللہ نے آزمائش بھی قرار دیا ہے ۔ کہا گیا ہے کے تین چیزیں انسان کے لئے دنیا اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتی ہیں ۔وہ زمین جس پر کوئی شخص نا حق قابض ہو جائے۔ ایسا مال جسے اللہ کہ راہ میں خرچ نہ کیا جائے۔اور ایسی اولاد جسے دین نہ سکھایا گیا ہو ۔اور یہی حقیقت ہے کہ جب اولاد کی تربیت نیہں کی جاتی تو ایسی اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بلکہ دل کا بوجھ بن جاتی ہے ۔تربیت کے سلسلے میں جو دو بڑی غلطیاں والدین سے سرزد ہوتی ہیں وہ ایک تو اولاد میں تفریق کرنا ہے ۔

دوسرا دینی تعلیم کو معمولی سمجھنا ہے ۔جب بات تفریق کی ہو تو زمانہ شاہد ہے کے جب معاشرے سے انصاف ختم ہوجا تا ہے تو بگاڑ شروع ہوجاتا ہے ۔نا انصافی کی وجہ سے معاشرہ ظلم و زیادتی کا گہوارہ بنتا ہے اور ایسا معاشرہ امن اور سکون کو ترستا ہے ۔یہی حال گھر کا ہے ۔والدین کو اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جسطرح باپ کی موت کہ بعد جب میراث کی تقسیم ہوتی ہے تو جائیداد میں اس اولاد کو بھی حصہ ملتا ہے جسے والدین نے اپنی زندگی میں (بےشک) عاق کیا ہو۔

یہ اللہ کا انصاف ہے جسکا صاف اور واضح مقصد یہ ہے کہ اولاد چاہے جیسی بھی ہو ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد میں تفریق سے گریز کریں ان کے درمیان مساوات عدل اور انصاف قائم رکھیں ۔اولاد میں اپنی محبت ‘توجہ ‘ شفقت برابر تقسیم کریں بلکل ایسے جیسے ایک دن عدالت نے میراث تقسیم کرنی ہے ۔ورنہ جو بچہ ماں باپ کی بے توجہی اور نا انصافی کا شکار ہو۔پھر میراث میں ملنے والی زمین اس بچہ کی نقصان کا مداوا نہیں کرسکتی۔کیونکہ جن بچوں کی تربیت نیہں ہوتی ان بے چاروں کو زندگی برتنے کا سلیقہ نیہں ہوتا۔انکی زندگی جنگلی پودوں کی مانند ہوتی ہے الجھتی بگڑتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ۔ جسے سلجھانے والا کوئی نہیں ہوتا۔


دوسری غلطی جو والدین سے سرزد ہوتی ہے وہ دینی تعلیم میں لاپرواہی ہے۔جتنا نقصان کسی بھی فرد کا (کسی بھی مذہب کا) دین سے دوری پر ہوتا ہے اتنا نقصان دوسری کسی چیز نے انسان کو نہیں پہنچایا۔اپنی اور اپنی اولاد کی کامیابی کے لئے اسلامی ماحول ہر گھر کی اولین ضرورت ہے ۔اسلامی لباس اور اسلامی زبان گھر کے تہذیب کی بنیاد ہے ۔جس گھر کے مرد گالم گلوچ کرتے ہوں اس گھر کی بیٹیوں کو حیا ء اور عزت داری کے سبق نہیں پڑھائے جاسکتے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب کوئی تربیت کی بات کرتا ہے تو ہم میں اکثر لوگ تربیت کے معنی صرف بیٹی کی تربیت سمجھتا ہے کیونکہ اسے دوسرے گھر جانا ہوتا ہے ۔

اس خیال کے تحت لوگ بیٹیوں کی تربیت پر زور دیتے ہیں ۔ہم بیٹی کی لباس پر کڑی تنقید سے باز نیہں آتے۔لیکن کیا آپکا بیٹا اسلامی لباس پہنتاہے؟ ۔بیٹیوں کو کہتے ہیں ہماری عزت خراب مت کرنا مگر اپنے بیٹوں کو کالج بیجھتے وقت ہاسٹل میں ڈالتے وقت گھر سے نکلتے وقت کھبی نہیں کہتے کہ ہماری عزت خراب مت کرنا۔کسی کی بیٹی پر گندی نگاہ مت ڈالنا۔کسی کی بیٹی کے دل سے اسکے جذبات سے محبت کے نام پر مت کھیلنا ۔شادی کا جھانسا دے کر کسی بیٹی کے مجبور بے بس ماں باپ کی آہیں مت لینا۔کسی کی گمراہی کا زریعہ مت بننا۔کسی ماں کی بد دعائیں نہ لینا ۔کسی باپ کا سر مت جھکانا ۔کھبی آپ میں سے کسی نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کی ہیں؟؟۔


مختصرا یہ کے تربیت پر بیٹی ہو بیٹا دونوں کا یکساں حق ہے ۔دنیاوی تعلیم تو ہماری ضرورت ہے سو ہے لیکن ضروت اس بات کی ہے کہ جو سختی سکول بیجھنے کے لئے آپ بچوں پر کرتے ہیں وہی سخت رویہ نماز اور قرآن پاک پڑھنے کے لئے بھی رکھی جائے۔سکول سے اچھی پوزیشن نہ لانے پر جو سزا آپ اپنے بچے کے لئے مقرر کرتے ہیں نماز قضاء کرنے پر بھی بچے کو سزا دی جائے۔دینی اور دنیاوی تعلیم ملکر ہی انسان کو زندگی کا سلیقہ سکھا سکتے ہیں۔ ورنہ بے تعلیم اولاد عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار اپنے ان والدین کو ٹھراتی جاتی ہے جن کے قبروں کے نشان تک دنیا سے مٹ چکے ہوں۔آپکو شاید حیرت ہو مگر دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو عمر کے چالیس پچاس بہاریں دیکھ چکیں ہیں لیکن جب بھی کوئی غلطی کرتے ہیں تو اسکا ذمہ دار اپنی بوڑھی والدین کو ٹھرا کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

یہ تحریر ان لوگوں کو تقویت دینے کے لئے بلکل نہیں لکھی گئی ۔اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے۔کہ جن لوگوں کو اولاد کی نعمت حاصل ہے اور وہ تربیت کے قابل ہیں کمسن ہیں تو ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی تمام تر توجہ انکی تربیت پر لگادیں۔اور انہیں اپنی دنیا میں راحت اور آخرت میں نجات کا زریعہ بنادیں۔باقی پچاس سالہ جاہل بچوں کو میں اتنا کہوںگی کہ حقوق کی جنگ کا اتنا فائدہ نہ اٹھائیں کہ بوڑھے والدین کو تمام عمر کٹہرے پر ہی کھڑا کردیں۔اللہ نے اولاد کو اتنے حقوق نہیں دئیے جتنا حق والدین کو دیا ہے ۔ اگر آپکے والدین آپکا حق ادا نہیں کرسکے تو اللہ نے آپکو علم عقل اور دماغ سے محروم تو نہیں رکھا ؟اللہ تمام والدین کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانیاں پیدا فرمائے۔آمین


شیئر کریں: