Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ولنٹئیرخدمت کے نام پر تعلیم یافتہ بے روزگاروں اور ان کے والدین کے ساتھ بھونڈا مزاق؟ – شیرولی خان اسیر

شیئر کریں:

ولنٹئیرخدمت کے نام پر تعلیم یافتہ بے روزگاروں اور ان کے والدین کے ساتھ بھونڈا مزاق؟

آج کل ڈی ای او مردانہ اپر چترال کا کردار بسلسلہء “ولنٹئیر تقرریاں” گرما گرم زیر بحث ہے۔ ڈی ای او صاحب اب تک سینکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو مختلف سرکاری اسکولوں میں ولنٹئیر استاد مقرر کرنے کا “اعزاز” حاصل کرچکا ہے جن کے تقرر ناموں میں لکھا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کے مالی معاوضے اور تجربے اور آئیندہ کے لیے ریگولر تقرری میں رعایت کا حق نہیں رکھتے اور دعویٰ نہیں کرسکتے۔

یہ بات لفظ” رضاکار” سے خودبخود واضح ہے اور چترال میں ہر کوئی جانتا ہے کہ رضاکار کو کوئی مراعات نہیں مل سکتیں اور نہ وہ اس کی توقع رکھ سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اہل چترال رضاکارانہ خدمات انجام دینے کی اچھی روایت رکھتے ہیں اور یہ ان کا ایک بہترین سماجی کردار رہا ہے جس پر ہمیں فخر ہے اور اس کی حوصلہ آفزائی اور اس کا فروع بھی چاہتے ہیں نہ کہ اپنی جوان نسل کا استحصال اور رسوائی۔


ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس قسم کی سماجی سرگرمیوں کا ایک بڑا فایدہ یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے چند فارع التحصیل بچے بچیاں گھر میں پڑے پڑے بوریت اور ذہنی تناؤ کا شکار ہیں تو ان کی ذہنی صحت کے لیے ایک خوش گوار علمی ماحول یقیناً سودمند ہے۔ ایسے چند بچے ہی ہوں گے جو اپنے گھروں میں بھی مثبت مصروفیات نہیں رکھتے ورنہ ہم دیہاتی لوگ بہت کم بے کار بیٹھنے کے لیے وقت پاتے ہیں۔ خاص کرکے بچیاں تو اپنی والدین کی خدمت اور ہاتھ بٹانے اور اپنے چھوٹوں کی پی تعلیم و تربیت سے فرصت کہاں پاتی ہیں. پھر بھی اگر کسی تعلیم یافتہ بچی رضاکار خدمت کا جذبہ رکھتی ہے تو اس کے لیے اپنے گھر، پڑوس اور گاؤں میں بچوں کو پڑھانے کا موقع ہر وقت موجود رہتا ہے۔ وہ اپنے گاؤں کی مسجد یا جماعت خانے یا اپنے گھر کے مہمان خانے میں عصر کے وقت بچوں کی تدریسی مدد کر سکتی ہے جس کے لیے انٹرویو دینے اور لمبا چوڑا سفر کرنے اور اپنے غریب والدین کو مالی خسارے میں ڈالنے کی ضرورت پیش نہیں اتی۔ یہ ایک عظیم خدمت ہوگی جس کا بدلہ دونوں بہانوں میں ملے گا۔ ڈی ای او صاحب اسکولوں کی پیرینٹس ٹیچرز کونسلوں کو یہ مشورہ کیوں نہیں دیتے کہ وہ اپنے اپنے اسکوں کے احاطے میں فری ٹیوشن کا اہتمام کریں اور مقامی تعلیم یافتہ بچیوں اور بچوں کو رضاکار ٹیوٹر مقرر کریں تاکہ کرونا کی وجہ سے طلبہ کو جو تعلیمی خسارہ ہوا ہے اس کی تلافی ہوسکے۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ڈی ای او صاحب مذکور کو یہ سب کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی ہے؟ کیا وہ ہماری بچیوں کی ذہنی صحت کے معاملے میں مشوش ہے؟
اگر بعض /’سکولوں میں سٹاف کی کمی ہے تو اسے پورا کرنا حکومت کا فرض بنتا ہے۔ خالی آسامیوں کو پر کرنے سے نہ صرف اسٹاف کی کمی دور ہو جائے گی بلکہ چند نوجوانوں کو روزگار بھی مل جائے گا۔ اگر کسی انتظامی مجبوری کے تحت یہ ممکن نہیں ہے تو جہاں تدریسی اسٹاف کی کمی ہے ان اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز/ مسٹریسز/ ہرنسپلوں کو کیوں نہیں کہا جاتا کہ وہ اپنے اپنے اسکولوں کے اڑوس پڑوس کے نوجوانوں کو بطور رضا کار استاد مقرر کریں تاکہ وہ بچے غیر ضروری سفر اور اخراجات سے بچے رہیں ۔ سینکڑوں میل دور سے نوجوان لڑکیوں کو بونی بلاکر مردوں کے سامنے ان کا انٹرویو کرانا اور ان بے روزگاروں پر کرایہ اور خوردونوش کا مزید مالی بوجھ ڈالنا ، ان کا وقت برباد کرنا اور ان کا پردہ متاثر کرنا چہ معنی دارد؟؟؟

ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ بونی خاص کے ایک زنانہ مڈل اسکول میں طلبہ کی تعداد 12 ہے جب کہ اساتذہ 13 ہیں۔ کیا ڈی ای او صاحب ان بارہ بچیوں کو کسی قریبی اسکول میں شفٹ کرکے ان زائد اساتذہ کو دوسرے اسکولوں میں نہیں بھیج سکتے جہاں اسٹاف کی ضروت ہے؟


میں اس بات پر بھی حیران ہوں کہ مانیٹرنگ اسٹاف اس قسم کی بے قاعدگیوں کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟
ڈی ای او صاحب یقیناً بالائی حکام کے ایماء پر یہ سب کچھ کر رہا ہے لہذا ہم سیکرٹری تعلیم اور ڈائریکٹر سکولز اور ضلعی مانیٹرنگ افسر سے اس بابت وضاحت کی امید رکھتے ہیں۔

شیرولی خان اسیر
ڈی ای او/ پرنسپل(ر)
یارخون اپر چترال


شیئر کریں: