Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تعلیمی میدان میں حوصلہ افزائی کی اہمیت – علی مراد خان

شیئر کریں:

 لعت کی رو سے حوصلہ افزائی کی معنی ہمت بڑھانا یا شاباش دینا ہے۔ اس کا متضاد لفظ حوصلہ شکنی ہے جس کی معنی ہمت توڑنا یا بے ہمت کرنا لیا جا سکتا ہے۔ ہمت بڑھانا یا بے ہمت کرنا ایسے دو عوامل ہیں جن کا بچوں کی زندگیوں پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ بچے جن کو گھر یا سکول یا دونوں جگہوں سے حوصلہ افزائی ملتی ہے وہ بہتر تعلیمی کارکردگی دیکھاتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بچے جن کو کم حوصلہ افزائی ملتی ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگرہم تھوڑا کچھ لکھے پڑھے لوگ خود اپنی تعلیمی سفر کے بارے میں سوچیں گے تو یہ بات ضرور ذہن میں آئےگی کہ اس سفر کو جاری رکھنے اور تعلیم کے ساتھ دلچسپی برقرار رکھنےمیں خاندان یا معاشرے کے کسی فرد یا افراد کی طرف سےحوصلہ افزائی کا عمل دخل ضرور یاد آئےگا۔ جس کے لئے ہمیں ان لوگوں کا مشکور ہونا چاہیے۔


تعلیمی میدان میں حوصلہ افزائی یا حوصلہ شکنی کی بات ہو تو عام طور پر مشہور سائنسدان ایڈیسن کی مثال دی جاتی ہے۔ جس کو سکول سے نکال کر ایک خط کے ساتھ گھر بھیجا گیا تھا جس میں لکھا گیا تھا کہ آپ کا بچہ کمزور ہے لہٰذا ہم اس کو اپنے سکول میں نہیں رکھ سکتے۔ ماں نے وہ خط پڑھی اور جب بیٹے نے خط میں موجود پیغام کے بارے میں پوچھا تو اس نے یہ کہ کر اس کو مطمیؑن کیا کہ اس میں لکھا ہے کہ ان کے سکول میں آپ کے قابل انتظامات نہیں ہیں۔ سکول سے اس قدر سخت خبر آنے کے بعد بھی ماں نے بیٹے کی ذرا برابر حوصلہ شکنی نہیں کی۔بلکہ گھر میں پڑھائی کا بندوبست کیا۔ ایک دن یہی بچہ ایک سائنسدان بن کے سامنے آیا جس کا ایجاد کردہ بلب ہم آج بھی روشنی جیسی نعمت کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں۔


ہمارے ہاں حوصلہ افزائی ایسے طالب علموں کی ہوتی ہے جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی ہو۔ جبکہ ایسے طالب علم جن کی تعلیمی حالت قدرے کمزور ہو حوصلہ افزائی کے حقدار نہیں پاتے۔ کیونکہ ان کے لئےاس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ ۔حالانکہ حوصلہ افزائی کے ذریعے آگے لانے کی زیادہ ضرورت دوسری صورت میں ہوتی ہے۔ نیزاکثر گھروں میں ایسے بچوں کے لئے ماحول خوش آئند نہیں ہوتا ۔ مثلاً ہم اکثر یہ الفاظ والدین سے سنتے ہین کہ فلاں بچہ کمزور ہے، فلاں بچہ نالائق ہے ، وہ کچھ نہیں کر سکتا وغیرہ۔ ایسے الفاظ بچوں کی زہنی نشونما کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم سے بھی دوری کی طرف لے جاتے ہیں۔ کچھ والدین بچوں کو ایک دوسرے سے بے جا موازنہ کرتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہرانسان کی اپنی خوبیان اور خامیاں ہوتی ہیں۔ وہ بار بار کمزور پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے وہ بچوں میں مثبت تبدیلی لائینگے۔حالانکہ اس سے ان کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ اور وہ تعلیم سے دور ہٹ جاتے ہیں۔


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک بچہ تعلیمی میدان میں کچھ کمزور ہے تو اس کی حوصلہ افرائی کس لئے کی جائے۔ یقیناً اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہ اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے کی جائے۔ اور اس بات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے کہ ہر انسان بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے جن کو ابھارنا والدین اور اساتذہ کی زمہ داری ہوتی ہے۔ لہٰذا بچوں کو نصیحت وصیت کے ساتھ ساتھ پیار اوحوصلہ بھی ملنا چاہیے تاکہ ان کا تعلیمی سفر کامیاب رہے۔


شیئر کریں: