Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کشمیر پریمئیر لیگ اور مسئلہ کشمیر – پروفیسر عبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

کھیلوں نے مجھے اہداف طے کرنا سکھایا ہے، یقینا کھیل نے مجھے ایک آواز اور شناخت دی ہے۔ مایا ہیم۔ تمام تر مشکلات کے باوجود کشمیر پریمیئرلیگ کے انعقادسے ملک میں خوشی کی ایک لہر دوڑ چکی ہے۔ خاص طور پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کا جوش و ولولہ دیدنی ہے۔ شکریہ کے احساسات کا اظہار نہ کرنا ایسے تحفے کی طرح ہے جسے ہم انتہائی خوبصورت گفٹ پیپر میں لپیٹ کر دینے کے بجائے رکھ لیتے ہیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کی اہمیت کا اندازہ اس کی مخالفت، اس کے خلاف سازشوں اور اس کے انعقاد پرموجود خوف اور خوشی سے لگایا جا سکتا ہے۔

یہ لیگ پوری کشمیری قوم کے لیے ظلم کی تاریک رات میں ا مید کرن ہے جو کھیل کے پرامن زریعے سے پوری دنیا میں کشمیریوں کی آزادی، شناخت اور حقوق کا پیغام سنا رہی ہے۔اس لیگ سے خوفزدہ ہو کر، اسے رکوانے کے لیے کشمیریوں کے ازلی دشمن بھارت نے بین الاقوامی کر کٹ کونسل سے بھی رابطے کیے اور اسے تسلیم نہ کرنے کی درخواست کی۔ صرف یہی نہیں، بھارت نے اپنا مکرہ چہرہ انگلش اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کو خط لکھ کر بھی بے نقاب کر لیا ہے۔

کے پی ایل کے خلاف سازشوں پر ہرشل گبز پھٹ پڑے اور بھارتی دھکمیوں کا انکشاف کر کے بین الاقومی سطح پر بھارت کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کر دیا۔ گبزکو بھارتی کرکٹ بورڈ نے کے پی ایل میں شرکت کرنے پربھارت میں داخلے پر پابندی اوردیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔دیگر کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو بھی کے پی ایل میں شمولیت سے دور رکھنے کے لیے بھارت کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جار ہے ہیں۔ بی سی سی آئی نے ایک بار پھر آئی سی سی کے ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ کھیل کے جذبوں اور دنیا میں امن کے پیغا م کو روکنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

بھارت کی جانب سے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کے پی ایل میں شرکت سے زبردستی روکنا اور دھمکیوں نے عالمی سطح پر کھیل کے جذبے اور فروغ کو شدید ٹھیس پہنچانے کے علاوہ ا پنی نازی سوچ کا اظہار کیا ہے۔ کشمیریوں کے خون کے پیاسے ڈریکولا بھارت کو یہ ہر گز برداشت نہیں کہ کشمیریوں کی شاخت اور آواز دنیا بھر میں دیکھی اور سنی جائے۔ کشمیری نوجوانو ں کا قاتل بھارت یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ کشمیری نوجوان عالمی سطح کے بڑے ناموں کے ساتھ بیٹھیں۔کے پی ایل سے نہ صرف کشمیری ثقافت اجاگر ہو گی بلکہ سیاست کو بھی فروغ ملے گا۔

بھارت اس لیگ سے اتنا خائف ہے کہ اس نے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ کمنٹیٹرز اور براڈ کاسٹرز کو بھی طاقت کے زریعے روک دیا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں کے پی ایل کی مخالفت کر کے پوری دنیا کو اپنی حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے۔انتہا پسند بھارت پرامن کھیل سے بھی خوفزدہ ہے کیونکہ اسے اس بات کا یقین ہے یہ لیگ کشمیریوں کی پرامن آزادی کی جدوجہد میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔ کے پی ایل میں شامل بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت سے مسلہ کشمیر دنیا بھر میں اجاگر ہو گا۔کشمیر پریمیئر لیگ سے کشمیری نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقعہ ملے گا اور انہیں ملکی اور عالمی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا تجربہ بھی ہو گا۔ اس لیگ سے نوجوانوں کو کھیل کے میدان میں آگے نکلنے کے بیشمار مواقع ملیں گے۔

کے پی ایل کے انعقاد سے کشمیریوں کے جذبہ جدوجہد آزادی کو تقویت ملے گی۔ اس لیگ کے زریعے کشمیری عالمی سطح پر یہ پیغام دینے میں کامیاب ہونگے کہ وہ پرامن قوم ہیں اور عالمی قرادادوں کے مطابق اپنی آزادی کے حصول کے متمنی ہیں۔ کے پی ایل کے انعقاد سے نہ صرف علاقائی، ملکی او ر بین الاقوامی کھیلوں کو فروغ ملے گا بلکے اس کے زریعے کھیلوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ کشمیر پریمئیر لیگ صحافت کے میدان میں سپورٹس جرنلزم کو پروان چڑھانے میں مدد دے گی۔ حکومت آزادکشمیر، پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی سرکاری سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ لیگ خطے میں امن کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مواقع کی وسعت کے اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

کشمیر پریمئیر لیگ کے زریعے مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ایک نئی جہت اور سمت ملے گی۔کشمیر پریمیئر لیگ کانام دراصل کشمیریوں کی شناخت،ثقافت ان کی پرامن جدوجہد آزادی اور ان کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم جنگ نہیں امن چاہتے، ہم گولی کا جواب گیند سے دینا چاہتے ہیں۔ اس لیگ سے عالمی دنیا کو یہ پیغام بھی دیا جائے گا کہ ایک طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر ہے جہاں لاشیں گرتی ہیں،بھارت نے کشمیر کودنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے، جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جہاں بچوں کی بینائی چھینی جاتی ہے، جہاں عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے، جہاں والدین کو ان کے بچوں کے سامنے گولیاں ماد دی جاتی ہیں، جہاں گھر راکھ بنا دیے جاتے ہیں، جہاں ننے پھول مسل دیے جاتے ہیں، جہاں بوڑھوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، جہاں لاشوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کھیلوں کو فروغ دیا جاتا ہے، نوجوانوں کے لیے گولی کے بجائے گیند کا انتخاب کیا جاتا ہے، ظلم کے بجائے امن کا پیغام دیا جاتا ہے۔

کشمیر پریمیئر لیگ مستقبل میں کشمیری کرکٹ ٹیم کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو پوری دنیا میں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرے گی۔ کشمیر پریمیئرلیگ پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر مسلہ کشمیر کی طرف گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کر ے گی۔ عام آدمی ا س لیگ کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھتا ہے جبکہ ایسا ہے نہیں۔ یہ لیگ کسی بھی کھیل سے بڑا کھیل ہے جس کے نتائج ہمیں مستقبل قریب میں ملیں گے۔ یہ کھیل کرکٹ سٹیڈیم کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی کھیلا جارہا ہے۔ ہارجیت کھیل کا حصہ ہے مگر اس لیگ کے کے مقاصد میں ہار نہیں بلکہ جیت ہی جیت ہے۔ اس لیے اس لیگ کو محض ایک کھیل تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔کے پی ایل بین الاقوامی میڈیا میں بھر پور پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کے پی ایل کو سیاسی رنگ دینے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ہمیں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلہ کشمیر پر کشمیریوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو محض کرکٹ کے زریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر صوبے کی طرح پاکستانی بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں میں کشمیر کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔ یہ ہمارا حق ہے اگر پاکستان کے باقی صوبوں کے کھلاڑی پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں تو پھر کشمیر اور گلگت بلتستان کے کھلاڑیوں کو بھی یکساں مواقع ملنے چاہیے تاکہ وہ بھی اپنے خطے کی شناخت اور پہچان کا زریعہ بن سکیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کا تسلسل جاری رہنا چاہیے تاکہ خطے میں کھیل، سیاحت، سرمایہ کاری اور امن کو فروغ ملے۔

کھیل کی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی میں کشمیریوں کو نمائندگی دی جائے تاکہ ہم ملکی، علاقائی اور عالمی سطح پر اپنا مقدمہ لڑسکیں۔ پاکستان کو دوست ممالک کے ساتھ ملکر بین الاقوامی سطح کی تنظیموں میں کشمیریوں کو نمائندگی دلانے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کشمیری کھیل کے میدان کے ساتھ ہر میدان میں اپنی شناخت چاہتے ہیں۔ کرکٹ کی طرح زبان وادب، تاریخ و ثقافت اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کے متقاضی ہیں۔ کشمیر پریمئیر لیگ کی طرح دیگر شعبہ جات کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ مسلہ کشمیر کو نئی جہت اور جدید تقاضوں کے مطابق اجاگر کرنے پر ہم کے پی ایل کے منتظمین کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں اگلی مرتبہ کے پی ایل پہلے سے کہیں زیادہ تناور پودے کی شکل اختیار کر چکا ہو گا اور ماضی کی کوتاہیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ہم آئیندہ کے لیے زیادہ بہتر اقدامات اور انتظامات کو یقینی بنائیں گے۔ ہم ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور آزادی کشمیر کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔


شیئر کریں: