Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کا لیکچرزاورپروفیسرز کی دیگرمحکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس، واپس بھیجنے کی ہدایت

شیئر کریں:

وزیراعلیٰ کا لیکچرزاورپروفیسرز کی دیگرمحکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس، واپس بھیجنے کی ہدایت


 پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے لیکچرز اور پروفیسرز کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایسے تمام لیکچرز اور پروفیسرز کو فوری طور پر محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں محکمہ اعلیٰ تعلیم اور اسٹیبلشمنٹ کو مراسلہ جاری کر دیا جس میں دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعینات لیکچرز اور پروفیسرز کو تین دنوں کے اندر محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیج کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روزوزیر اعلیٰ کی زیر صدارت جنوبی اضلاع کے عوامی مسائل کے حل کے سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی نے کالجوں میں اساتذہ کی عدم دستیابی کا مسئلہ اٹھایا تھا جس پر وزیر اعلیٰ نے موقع پر ہی دیگر محکموں میں ڈیپیوٹیشن پر تعینات محکمہ اعلیٰ تعلیم کے تدریسی عملے کو فوری طور پر واپس محکمہ اعلیٰ تعلیم واپس بھیجنے اور انہیں کالجوں میں تعینات کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ لیکچرز اور پروفیسرز درس و تدریس کے لئے بھرتی کئے گئے ہیں، انتظامی عہدے چلانے کے لئے نہیں، ان سے وہی کام لیا جائے جس کے لئے وہ بھرتی کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ لیکچرز اور پروفیسرز کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی سے کالجوں میں درس و تدریس کا عمل متاثر ہو رہا ہے اس لئے ان کی دیگر محکموں میں انتظامی عہدوں پر تعیناتی کا عمل مستقل طور پر بند کیا جائے۔
<><><><><><><>

وزیراعلیٰ کا پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی کے سارے عمل کوصاف اور شفاف بنانے کے لئے بھرتیاں ایٹا کے ذریعے کروانے کی ہدایت


پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی کے سارے عمل کوصاف اور شفاف بنانے کے لئے بھرتیاں ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالویشن ایجنسی (ایٹا) کے ذریعے کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے پی ڈی اے کو اس سلسلے میں ایٹا کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے پی ڈی اے حکام کو مجوزہ بلڈنگ بائی لاز اور ہائی رائز ریگولیشنز کو سرمایہ کاروں کے لئے آسان سے آسان بنانے اور انہیں ایک مہینے کے اندر حتمی شکل دے کر منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبے کی طرف نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئیے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا موجودہ حکومت کا وژن ہے جس کے لئے تعمیراتی شعبے کے قواعد و ضوابط میں پیچیدگیوں کو دور کرکے انہیں سرمایہ کاروں کے لئے سہل بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وہ گزشتہ روز پی ڈی اے کے چھٹے بورڈ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، ممبران صوبائی اسمبلی ملک آصف، فضل الہٰی، پیر فدا محمد، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، پی ڈی اے کے اعلیٰ حکام اور دیگر بورڈ ممبرا ن نے اجلاس میں شرکت کی۔


اجلاس میں بورڈ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور متعدد نئے امور کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں حیات آباد فیز تھری اور سیکٹر اے ون فیز فائیو میں دستیاب اراضی کی کمرشل پلاٹنگ کے حوالے سے مجوزہ پلان کی منظوری دی گئی ہے۔ پلان کے مطابق دو کنال سے لیکر آٹھ کنال تک مختلف سائز کے پلاٹس کمرشل مقاصدکیلئے تجویز کئے گئے ہیں جن میں کارپارکنگ کی سہولت بھی رکھی گئی ہے۔


اجلاس میں ناردرن بائی پاس اور موٹر وے کے سنگھم پر نیا جنرل بس سٹینڈ پی ڈی اے کے اپنے وسائل سے تعمیر کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ موٹر وے ، جی ٹی روڈ اور بی آر ٹی سے منسلک ہونے کی وجہ سے مجوزہ جنرل بس سٹینڈتک عوام کی رسائی آسان ہوگی۔ پشاور کے تمام بس ٹرمینل، اڈے اور سٹینڈز مجوزہ جنرل بس سٹینڈ میں منتقل کردئیے جائیں گے۔ یہ بس سٹینڈ، ٹرمینل کے جدید ترین تصور کو سامنے رکھ کر تعمیر کیا جائے گا جس میں سولر پلاننگ ، گرے واٹرری سائیکلنگ سسٹم ، کمرشل شاپس ، کیفے ٹیریا، مسجد، ٹائلٹس، پٹرول پمپ، سروس سٹیشن، ورکشاپ، ڈرائیورز کیلئے ریسٹ ایریاز، کارپارکنگ، رکشوں اور ٹیکسیوں کے لئے سٹینڈز سمیت دیگر تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو خیبرپختونخوا ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز 2018 اختیار کرنے کی منظوری دی گئی۔


علاوہ ازیں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنی ٹیکنیکل اور نان ٹیکنیکل آسامیوں پر بھرتی ایٹا کے ذریعے عمل میں لانے کے لئے ایٹا کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ اسی طرح گندھارا ویلی سٹی کے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے پراجیکٹ منیجمنٹ یونٹ کی تخلیق اور اس مقصد کیلئے مجوزہ آرگنوگرام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مجوزہ یونٹ کیلئے ماڈیلیٹیز کو حتمی شکل دے گی۔ مزید برآں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترامیم کے مطابق لینڈ شیئرنگ کی بنیاد پر زمین کے حصول کے سلسلے میں مجوزہ ریگولیشنز کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پی ڈی اے کیلئے سروس ڈیلیوری یونٹ قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح اجلاس میں حیات آباد فیز ٹو میں 41 کنال اراضی پر پارک بنانے کی منظوری دی گئی۔ بورڈ نے ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں تجاوزات کرنے اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر جرمانوں کی نئی شرح کی بھی منظوری دیدی۔
<><><><><><>


شیئر کریں: