Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ جمع اور تفریق ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

پچاس اور ساٹھ کی دہا ئیوں میں ریا ضی کو حساب کہتے تھے پلس اور ما ئنس کو جمع تفریق کہتے تھے طلباء یس سر کی جگہ حا ضر جناب کہہ کر حا ضری لگواتے تھے اب یہ باتیں بھلا دی گئی ہیں 5اگست کو یو م استحصال کشمیر منا نے کی خبروں کو دیکھ اور سُن یا پڑھ کر پہلا سوال ذہن میں یہ ابھر ا کہ گذشتہ 3سالوں میں حکومت کی کا ر کر دگی جمع کے خا نے میں لکھی جا ئیگی یا تفریق کے خا نے میں ڈال دی جائیگی.

2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت آئی مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر خا ر جہ بنے تو بھارت سلا متی کونسل کا غیر مستقل ممبر نہیں تھا نو مبر 2018ء میں غیر مستقل ممبر کے لئے ووٹنگ ہوئی تو پا کستان نے چار اسلا می مما لک کو مستر د کر کے بھارت کو ووٹ دیکر سلا متی کونسل کا غیر مستقل رکن بنا یا 9ما ہ بعد بھار ت 5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصو صی حیثیت کو ختم کر نے کے لئے آئین کے دفعہ 370اور 35اے کو ختم کیا پا کستان سلا متی کو نسل میں بھارت کے خلا ف قرار داد لا نے میں نا کام ہوا ہیو من رائٹ کو نسل میں بھارت کے خلاف قرار داد پا س نہ ہو سکی

چنا نچہ مقبو ضہ کشمیر سر ی نگر، جموں اور لداخ سمیت بھارت کا صو بہ قرار دیا گیا 2021ء میں اس واقعے کو دوسال پو رے ہو گئے تو بھارت نے اس اہم مو قع پر ایک سال کے لئے سلا متی کو نسل کی صدارت سنبھا ل لی گویا ہمارے لئے سلا متی کو نسل کے دروازے پر تا لہ لگا دیا گیا ہماری حکومت کہتی ہے کہ یہ سب کچھ ہماری کا میاب خا رجہ پا لیسی کا نتیجہ ہے ملک میں حزب اختلا ف کی آواز کو نیب اور ایف آئی اے کی پے درپے کاروائیوں نے کچل کر رکھ دیا ہے ٹیلی وژن اور اخبارات پر سنسر شپ عائد کی گئی ہے جرء ت اور ہمت کر کے حقائق پر سے پر دہ ہٹا نے والے صحا فیوں کو قو می دھا رے کے میڈیا سے بے دخل کیا گیا ہے اس لئے حکومت کی کار کر دگی پر سوال اٹھا نے کا کوئی فورم نہیں بچا ہے لے دے کے گرین سٹیزن میڈیا ہے جو مظلوموں کی آواز ہے.

خا رجہ محا ذ پر حکومت کی حیران کن کار کر دگی اس بات سے بھی عیا ں ہو چکی ہے کہ قو می سلا متی کے امریکی مشیر ڈاکٹر معید یو سف نے امریکی تھنک ٹینک میں اپنے دیرینہ تعلقات کا سہا را لیتے ہوئے دو دن پہلے شکوہ کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈ ن نے افغا نستا ن مسئلے کے حل کے لئے ہمارے وزیر اعظم عمران خا ن کو فون تک نہیں کیا آخر وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟ قو می سلا متی کے امریکی مشیر کے تازہ ترین بیان سے اخبار نو یسوں کے خا مو ش گروہ کو وزیر اعظم عمران خا ن کا دو سال پرا نا بیاں یا د آیا وزیر اعظم نے اپنے ”پر مغز“ بیاں میں ارشاد فر ما یا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر ا مو دی کو بار بار فون کر تا ہوں وہ میرا فو ن نہیں اُٹھا تا اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے؟

گویا دفاعی لحا ظ سے ہمارا واسطہ جن دو مما لک کے ساتھ ہے ان میں سے ایک کا صدر ہمارے وزیر اعظم کو فو ن نہیں کر تا دوسرے ملک کا وزیر اعظم ہمارے ہر دلعزیز لیڈر کا فو ن نہیں اٹھا تا یہ ہمارے دفتر خا ر جہ کی شاندار کا ر کر دگی ہے ایک اور خبر یہ ہے کہ سعو دی عرب نے کویڈ 19-سے نجا ت کے بعد 57میں سے 48اسلا می ملکوں کے زائرین کو عمرے کی اجا زت دی ہے 9بلیک لسٹ مما لک کے زائرین کو اجا زت نہیں دی اور ہماری کا میاب خا ر جہ پا لیسی کی بدولت پا کستان اُنہی نا پسندیدہ یا بلیک لسٹ مما لک میں شا مل ہوا ہے اب اس کو جمع کے خا نے میں ڈال دیا جا ئے یا تفریق کے زمرے میں رکھا جائے؟

5۔اگست کا یو م استحصال بہت زبردست تھا سول سو سائیٹی اور قو می نما ئیند وں کا ذکر آنے سے پہلے خبر دی گئی کہ وزیر خا ر جہ نے دفتر خا ر جہ کے افسروں کی ریلی نکا لی افیسروں نے کتبے اٹھا ئے ہوئے تھے اور وزیر خا ر جہ نے بینر کا ایک سرا پکڑا ہوا تھا ریلی کے شر کا ء دو سال پہلے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کو صو بہ بنا نے کے خلا ف احتجا ج کر رہے تھے

وزیر خا ر جہ پُر جو ش نعرے لگا رہے تھے 5۔ اگست کے ظالما نہ اقدام کے خلا ف دفتر خا ر جہ نے ایک قو می نغمہ بھی ریلیز کیا اور قوم سے ایک منٹ خا مو شی کی استد عا کی قوم ایک منٹ کی خا مو شی کے دوران سوچ میں پڑ گئی کہ ہماری حکومت نے دو سال خا مو شی اختیار کی بھارت پر اس کا اثر نہیں ہوا دو سال پورے ہونے پر مراد بیک اور صمد یا زید اور بکر کی ایک منٹ خا مو شی کا دشمن پرکیا اثر ہو گا؟

قوم کو یا د ہے 5۔اگست 2019کی چلچلا تی دھوپ میں حکومت کے کہنے پر ہم نے 10منٹ دھوپ میں کھڑے ہو کر زبر دست احتجا ج کیا تھا،5۔ اگست 2020کو ہم نے گا نا بھی ریلیز کیا تھا مگر دشمن کے کا نوں پر جوں تک نہیں رینگی اب پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ سر کار کی اس کا رکر دگی کو مثبت لکھا جا ئے یا منفی قرار دیا جا ئے نا طقہ سر بہ گریباں ہے کیا کہئیے خا مہ انگشت بہ دنداں ہے کیا کہیے۔


شیئر کریں: