Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کراچی کی حساسیت! ۔ قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

کراچی کی حساسیت!

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کراچی کی حساسیت کو سمجھیں، لیکن جب تک کراچی کے اصل حالات اور زمینی حقائق سے صرف نظرکیا جاتا رہے گا ہم کراچی کے مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہیں گے۔ ایک عام انسان سے اگر پوچھا جاتا تو اس کی بس یہی دہائی ہوتی کہ کراچی میں امن قائم ہوجائے، اب امن تو قائم ہے لیکن ایک اسے سوچی سمجھی سازش کے تحت شہر قائد کو آئسولیٹ کیا جارہا ہے، سیاسی تنہائی میں دھکا دینے سے اہل کراچی میں احساس محرومی بڑھتا جارہا ہے۔مستقل علاج نہ نکالنے کی وجہ سے جس طرح شوگر کے مریض کو بد قسمتی سے اگر کوئی زخم لگ جائے تو جوں جوں وہ دوا کرتا ہے،اس کا مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شوگر کے مریض کا سب سے بڑا اور اہم علاج احتیاط کرنا ہے۔ شاید کراچی کو اب علاج سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ کراچی کے مسئلے کو جس  قدر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی ایک انگلی کا زخم آہستہ آہستہ پورے جسم میں پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ ایک انگلی کاٹی جاتی ہے تو پھر دوسری تو پھر پیر، تو اس کے بعد بھی آپریشن کا نتیجہ سوائے زخم دینے کے کچھ نہیں نکلتا۔


 کراچی  شیطان کی آنت کی طرح اتنا طویل تر بھی نہیں کہ اس  کے لیے مربوط پلاننگ نہ کی جاسکے،چھپنے کے لیے پہاڑ، غار تو نہیں لیکن نیلا، گدیلا سمندر ضرور ہے۔ اگر غار کے لیے پہاڑ ہونا ضروری ہیں تو پھر کراچی میں بلند وقامت عمارتوں کو پہاڑوں سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے اور ان بلند و بالا عمارات میں بنے فلیٹس کو غار کہا جا سکتا ہے۔بات دراصل یہی ہے کہ کراچی میں مزیدتجارب کا وقت گذر چکا، اب احتیاط کی ضرورت ہے،مشرقی پاکستان کے چھ نکات کو تسلیم نہیں کیا تو وہ بنگلہ دیش بن گیا، بلوچستان والوں نے بھی چھ نکات دیے تھے لیکن اس پر کماحقہ عمل نہ ہو پایا، سیاسی جماعتوں میں پھوٹ ڈالنے سے بھی حوصلہ افزا نتائج نہیں نکلتے، نئے اتحاد بنانے کے بھی فوائد حاصل نہیں ہوتے، سیاسی کوششیں بھی ناکام، تو پھر طاقت، مفاہمت اور مصلحت، سب ناکامی کا سامنا کر رہے ہوں  تو اس کا واضح مطلب ہے کہ اب ارباب اختیارکو احتیاط کی ضرورت ہے۔


طاقت کے استعمال سے کسی کے ہزاروں کارکنوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا تو  لاکھوں انسانوں پر کوئی سیاسی جماعت ہمیشہ کے لیے جبر سے اجارہ داری بھی قائم نہیں رکھ سکتی۔کچھ تو ایسا ہے جس کی پردہ داری کی جاتی ہے، لیکن عوام کے سامنے اصل حقیقت کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے اس لیے خاموش طبقہ، جو اکثریت میں ہے، وہ خاموش ہی رہتا ہے کیونکہ اس کے اعتماد کو بحال نہیں کیا جاتا،شاید اسی میں ان سب کی بھلائی ہے کہ خاموش طبقہ خاموش ہی رہے کیونکہ، جب کراچی بولے گا تو پاکستان بول اٹھے گا۔کراچی کی اکثریت خاموش رہنے کو ہی فوقیت دیتی ہے کیونکہ اسی میں عافیت نظر آتی ہے۔جب چند برسوں میں 8 ہزار انسانوں کو صرف کراچی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، لیکن سب ٹھیک ہے، روزانہ کراچی میں گیارہ بارہ  افراد ٹارگٹ کلنگ کرکے ہلاک کردیے جاتے، لیکن سب کچھ ٹھیک ہے۔مذہبی علما کو خون میں نہلا دیا جاتا لیکن پھر بھی سب کچھ ٹھیک ہے، علم کی روشنی پھیلانے والوں کی زندگیاں بجھا دی جاتی،لیکن پھر بھی سب کچھ ٹھیک ہے،انسانی زندگیوں کو بچانے والے موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی سب کچھ ٹھیک ہے،،قانون نافذ کرنے والے، اپنی حفاظت نہیں کر پاتے، لیکن پھر بھی سب کچھ ٹھیک ہے۔کراچی کے جسم ناتواں پر کتنے گہرے گہرے زخم ہیں، کتنے زخم کریددوں،لیکن دل پھر بھی نہیں دہلے گا، دھرنے کبھی کراچی والوں کے لیے نہیں ہونگے۔اس لیے احتیاط ضروری ہے۔


بات کی جاتی ہے کہ سندھ کی تقسیم کوئی مائی کالال نہیں کرسکتا، تو کیا ہندوستان جب تقسیم ہو رہا تھا تو دوسری جانب کے لوگ ماؤں کے لال نہ تھے،سندھ کا شہر کراچی، سندھ کا حصہ تھا تو، وفاق کے نام پر ایسے سندھ سے الگ کردیا گیا۔ کوٹہ سسٹم جب لاگو کرکے دیہی و شہری تفریق پیدا کی جارہی تھی تو سندھ کی تقسیم کی بنیاد تو خود سندھ کے وارثوں نے ہی رکھ دی۔ تو پھر گلہ کس سے کرتے ہو۔ مہمان نوازی کا پرفریب نعرہ ان لوگوں کو دیا جائے جو اس بہکاوے میں آجاتے ہونگے، یہاں اب کوئی میزبان نہیں اور کوئی مہمان نہیں، کیونکہ یہ پاکستان ہے، پاکستان کی شناخت رکھنے والا، پاکستانی ہے،اس کی شناختی علامت اس کا پاکستانی ہونا ہے۔سندھ کو تین انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے یا پاکستان کے بجائے سندھ کو بیس انتظامی یونٹس میں تقسیم کیاجائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ نئے یونٹس انتظامی بنیادوں کے نام پر نہیں بلکہ لسانی بنیادوں پر بنائے جا رہے ہیں، صوبہ سرائیکی، جنوبی پنجاب، ہزارہ صوبہ، بلوچستان پختونخوا،اور سندھ کے مشرقی، مغربی و شمالی صوبہ دراصل کوئی انتظامی یونٹس نہیں بلکہ، واضح طور پر لسانی بنیادوں پر بنائے جانے والے مطالبات ہیں۔


اگر کوئی جماعت خیبر پختونخوا کی تقسیم کی حامی ہے لیکن سندھ کی تقسیم کی مخالفت پر یکجا ہوجاتے ہیں تو یہ کھلی منافقت ہے، سیدھی سی بات ہے کہ، سب سے پہلے تو یہ طے کیا جائے کہ ہم سب پاکستانی ہیں یا نہیں؟۔ پھر یہ طے کیا جائے کہ بحیثیت پاکستانی، پاکستان کے کسی بھی حصے پر ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے پاکستانی کا تو بات تسلیم؟ تو ٹھیک ہے، لیکن اگر بات یہ ہو کہ ہم پہلے، سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان(پختون)، مہاجر ہیں اور پھر پاکستانی ہیں تو بیس کے بجائے دو سو یونٹس بنانے کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان کے پاس چار صوبوں کے لیے پہلے ہی وسائل نہیں ہیں، صوبائی خود مختاری کے باوجود صوبائی حکومتیں، مثالی نہ بن سکیں تو چاہے کتنے ہی یونٹس بنا لیں، جب وسائل ہی نہیں تو کیا نئے یونٹس اپنے عوام کے لیے آسمان سے من و سلویٰ کھلانے کی امید لیے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کے حالات بار بار کے آپریشن سے اس نہج پر جا پہنچیں ہیں کہ اب علاج کی نہیں احتیاط کی ضرورت ہے، یا تو صوبے بنا لیں یا پھر خاموش ہوکر بیٹھ جائیں۔


شیئر کریں: