Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری – علی مراد خان

شیئر کریں:

ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری – علی مراد خان

 ایک ریاست کی یہ اہم زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور جہاں کہیں انصاف کی فراہمی کی ضرورت ہو وہاں سستا انصاف مہیا کرے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بات اس کی الٹ ہے۔ ہہاں انتظام چلانے والے خود دانستہ طور پر قانون کی دھجیان اڑاتے ہیں۔


ٹھٹھہ میں میں فلمائی گئی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ایک غریب شہری کے سینے میں بیٹھ کر گلا دباتا ہے۔ دم گھٹنے سے شہری کا برا حال ہوتا ہے۔ پاس بیٹھی ماں آہ و فریاد کرتی ہے کہ کوئی اس کے بیٹے کو بچائے۔ اس کی پکار کی طرف کوئی کان نہیں دھرتا۔ پولیس اہلکار نوجوان پر تشدد یوں جاری رکھتا ہے جیسا کہ کسی شکاری بھڑیئے نے جنگل میں شکار پکڑا ہو۔ نام نہاد یہ خادم اور قانون کا عملدار دوسروں کی کیا مدد کر سکتا ہے جس کو خود قانون کا کچھ پتہ نہں۔ اردگرد کھڑی ہجوم یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے۔ لیکن ان میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ پولیس اہلکار کو یہ سمجھائیں کہ وہ مجرمانہ فعل کر رہا ہے۔


اوپر بیاں کئے گئے واقعے کی طرز کے واقعات ملک کے طول و عرض میں روز وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ کہیں پولیس کی فائرنگ سے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہےتو کہیں بے جا شیلنگ سے پر امن شہری لہولہاں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ گزشتہ برس یہ خبر بھی میڈیا میں گردش کرتی رہی کہ شہر لاہور میں ایک پولیس افسر کی ہدایت پر مظاہرین پر کیمیکل ملا پانی پھینکا گیا جس سے ایک غریب شہری کی جان چلی گئی۔


ڈرائیوروں، ریڑھی بانوں اور معاشرے کے دوسرے غریب طبقات کو بے جا تنگ کرنا، خواہ مخواہ میں چالان کاٹنا، دھمکانا اور قانون کی پاسداری کے بجائے قانون کو ذاتی مفاد اور پسند یا ناپسند کی بنیاد پر استعمال کرنا تو عام سی بات بن گئی ہے۔


سب سے گھناؤنا کام اس وقت ہوتا ہے جب کوئی انتظامی عہدیدار یا اہلکار اپنی رشتہ داری، برادری، دوستی،ذاتی فائدے وغیرہ کی خاطر مجرموں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہےیا مدد کرتا ہے تاکہ وہ قانون کے شکنجے میں نہ آسکے۔ یہ ایک طرح سے ان کی سرپرستی ہوتی ہے۔ جس سے نہ صرف انصاف کی فراہمی رک جاتی ہے بلکہ مجرم کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ اور وہ دوبارہ جرم کرنے، کسی کا حق چھیننے، یا امن و امان خراب کرنے میں خوف محسوس نہیں کرتا۔ اور یوں قانوں کے رکھوالے قانون اور انصاف کی پرچار کرنےکے بجائے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں میں عدم اعتماد جنم لیتی ہے۔ لوگ اپنے اپ کو غیر محفوظ پاتے ہیں۔ نتیجتا کئی دوسرے معاشرتی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ سب ایسے عملداروں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی اہمیت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ اور جو اپنی منصب کو ریاست کی امانت نہیں سمجھتے۔ یہی


لوگ معاشرتی برائیوں کی اصل جڑ ہوتی ہیں۔ انہی کی وجہ سے قانون کے نظام پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔
صحتمند معاشرے کا قیام صرف اور صرف قانون کی حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔ اس کے لئے قانون کو ایسے رکھوالوں کی ضرورت ہوتی ہے جو خود اعلٰی اخلاقی اقدار کے مالک ہو۔ ساتھ ساتھ ملک و قوم کی
ترقی کے لئے ان کے دل میں درد اور خدمت خلق کا جذبہ ہو۔ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران تعصب، اقرباء پروری، اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر تمام انسانون سے برابری کا برتاؤ کریں۔


کیونکہ صداقت پر مبنی برتاؤ اور فیصلوں سے معشرے میں روشنی پھیلتی ہے۔ سچائی اپنے ساتھ ہمیشہ امن اور آشتی لاتی ہے۔ لوگوں کے درمیاں برادرانہ سوچ کو پروان چڑھاتی ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی اقدار ترقی پاتے ہیں اور یوں پورا معاشرہ تہذیب یافتہ بن جاتا ہے۔


شیئر کریں: