Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزادکشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت سازی اور مستقبل – پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

سیاسی جوڑ توڑ اور اتحادپارٹی سیاست کا حصہ ہے۔ پاکستان، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں سیاسی اتحادکا عروج و زوال سیاسی مقاصد کے حصول تک محدود ہے۔ متحدہ اپوزیشن پارٹیز (سی او پی (1964ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی (ڈی اے سی 1968، پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے)1977، تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی)1983،اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی)2002 اور موجودہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) پاکستان میں اقتدار کے لیے سیاسی اتحاد کے عروج و زوال کی زندہ مثالیں ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں اقتدارکے حصول کے لیے روائیتی اقتدار کی سیاست کی طرف گامزن ہو جاتی ہیں۔اگرچہ پی ڈی ایم میں شامل اکثر جماعتیں اقتدار کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہ اتحاد کچھ مختلف ضرور تھا مگر اقتدار میں شامل پارٹیاں استعفی دے کر خالص اپوزیشن کرنے کے لیے تیار نہ تھی اور نہ ہیں۔دراصل یہ اتحاد اقتدار میں اپنے حصے کی وسعت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے جو ماضی کی طرح مفادات کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی مفاہمتی سیاست کے نظریہ کے تحت مخلوط طرز کی پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کر چکی ہے اور دیگر پارٹیوں کا جوش و خروش بھی ماند پڑھ چکا ہے۔پاکستان میں چند ہی مثالیں ملتی ہیں جہاں احتجاج اور مظاہروں کے زریعے حکومت کو رخصت کیا گیا ہو۔اگرچہ پی ڈی ایم نے دو روائیتی حریفوں ن لیگ اور پی پی کو مختصر عرصے کے لیے اکھٹا کر لیا مگر یہ اتحاد زیادہ دیر نہ چل سکا۔ پی ڈی ایم نے اپنی بقاء کے علاوہ کوئی کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دیا۔ پی ٹی آئی حکومت کو سب سے بڑا خطرہ مہنگائی کے طوفان سے ہے جو آئے روز شدت اختیار کر تا جا رہا ہے۔پی ڈی ایم میں اختلافات کی وجہ سے گلگت بلتستان کے بعدآزادکشمیرانتخابات میں پی ڈی ایم طرز کی کشمیر ڈیموکریٹک مومنٹ(کے ڈی ایم) بنانے میں ناکام رہی۔اگر پی ڈی ایم متحد رہتی تو کشمیر میں ن لیگ، پی پی اور ایم سی مل کر پی ٹی آئی کا پتہ صاف کر سکتی تھی مگر ایسا ہوا نہیں۔

ن لیگ گلگت بلتستان کی طرح کشمیر میں بھی برسراقتدار تھی مگر پی ٹی آئی نے اس کا صفایا کر تے ہوئے محض چار سیٹوں تک محدود کر دیا ہے۔ن لیگ کی طرف سے حکومت مخالف تحریک چلانا خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں۔پیپلز پارٹی پاکستان میں پی ٹی آئی کے ساتھ خفیہ اتحاد کی بدولت گیارہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔یہ آزادکشمیر الیکشن سے پہلے ہی عیاں تھا کیونکہ پی ٹی آئی کی ساری بیٹنگ ن لیگ کے خلاف تھی۔ یہ بات بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ ن لیگ کے اسٹیبلشمنٹ مخالف نظریہ کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ڈیل کے بدلے ڈھیل ملی ہواور دوسال بعد اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی میں فاروڈ بلاک بنا کر آزادکشمیر کی حکومت پیپلز پارٹی کے حوالے کر دی جائے۔ ایم سی کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے پانچھ سال ایک سیٹ پر ہی گزارہ کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر کو فی لوقت کسی بڑے خطرے کا سامنا تو نہیں ہے تاہم محبت، جنگ اور سیاست میں کب کیا ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ کسی بڑی سیاسی پارٹی نے کشمیر ایشوپر الیکشن لڑنا تو درکنار کشمیر کو بطور سیاسی نعرے کے بھی استعمال نہیں کیا۔

اگر پی ٹی آئی کشمیر ایشو سے متعلق کوئی غلطی نہیں کرتی تو کم از کم مرکز میں اقتدار کی تبدیلی تک پی ٹی آئی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ ن لیگ اور پی پی نے کشمیر کو پاکستان میں ضم کرنے کے پروپگنڈے پر جو سیاست کی ہے اب وہ اس انتظار میں ہیں کہ پی ٹی آئی کشمیر کے حوالے سے کوئی ایسی غلطی کرے تاکہ انہیں کشمیر کی سالمیت اور شناخت کی ڈھال مل جائے۔ آزادکشمیر الیکشن نے انتخابات کے ناقص نظام کی بھی کلی کھول دی ہے۔ ابھی تک ہم کوئی ایسا انتخابی نظام لانے میں کامیاب نہیں ہوئے جس کے نتائج سب پارٹیوں کے لیے قابل قبول ہوں۔ ہارنے والی پارٹی ہمیشہ کی طرح دھاندلی کے الزامات کا سہار ا لیتی ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی خوش ہے16سیٹوں کے وعدے پر11ملی۔الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کو لاگو کروانے میں پوری طرح ناکام رہا۔ بعض حلقوں میں پارٹیوں نے اپنے عہدیداروں کے بیٹوں کو ضلعی الیکشن آفیسر تعینات کر وا رکھا تھا۔ رشوت، تشدد، بلیک میلنگ، سیاسی پیش کش، دھکمیاں، برادری ازم، نسل پرستی اور سیاسی ایڈجسٹمنٹ وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔

بلاول بھٹو اورمریم نواز کی محنت گلگت بلتستان کی طرح رائیگاں گئی۔اب پی ٹی آئی کا مستقبل مرکز میں حکومت کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی آزادکشمیر میں سیاسی تبدیلی آجانی ہے۔ پی ٹی آئی آزادکشمیر کو فی الوقت ایک بڑا چیلنج وزارتوں کے دانشمندانہ تقسیم کا ہے تاکہ مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود بھی پی ٹی آئی اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ پی ٹی آئی کو یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنی ہو گی کہ برادری کی بنیاد پر دیئے گئے ٹکٹ ان کے لیے مشکل کھڑی کر سکتے ہیں۔برادری اور سفارش کی بنیاد پر دیئے گئے ٹکٹس ہی پی ٹی آئی میں فاروڈ بلاک کی داغ بیل ڈالیں گے۔پی ٹی آئی آزادکشمیر قیادت کو مسٹر خان کی طرف سے ملنے والی تھپکی آزادکشمیر میں حکومت کے تسلسل کے لیے ناکافی ہے۔

آزادکشمیر الیکشن مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کا ایک بڑا زریعے بن سکتا تھا مگر تما م پارٹیوں نے کشمیر ایشو کوسیاست کا محور و مرکز بنانے کے بجائے برانڈیڈ سیاست کا سہارا لیتے ہوئے مسلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا۔تما م سیاسی پارٹیوں کو الیکشن اصلاحات کی طرف توجہ دیتے ہوئے الزام در الزام کی سیاست کو دفن کرنا چاہیے۔مگر نظام اور اصلاحات کی طرف یہ کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے کیونکہ انہیں یقین ہے جلد یا بدیر یہ بوسیدہ نظام ہی ان کے لیے کوئی راہ نکال لے گا۔ روائیتی حریف پی پی اور ن لیگ کی جانب سے پی ٹی آئی کو اپنے خلاف کسی متحدہ اپوزیشن کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔پی پی پاکستان کی طرح کشمیر میں بھی ن لیگ کو اپوزیشن کے اہم عہدوں سے نکال باہر کر نے میں کامیاب ہو جائے گی۔ یوں لگتا ہے پی ٹی آئی، پی پی اور اسٹیبلشمنٹ تینوں نے مل کر ن لیگ کی بیساکھیاں توڑنے کاتہیہ کر رکھا ہے۔ماضی میں بھی آزادکشمیر میں مفادات کی سیاست کی گئی ہے کسی بھی اپوزیشن پارٹی نے حقیقی معانی میں اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے خلاف ن لیگ اور پی پی کے لیے مرکز میں تبدیلی سے پہلے صرف ایک موقعہ ہے کہ یہ وزات عظمی کے عہدے کی تفویض پر پی آئی میں فاروڈ بلاک بنا کرحکومت سازی کی کوشش کریں۔ مگر یہ دونوں کے لیے فائدے مند نہیں رہے گا کیونکہ تمام اہم وزارتیں اور عہدے تو فاروڈ بلاک اور دو سیٹوں والے اتحادی لے اڑیں گے اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور یہ اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اگر ن لیگ اور پی پی پی ڈی ایم میں ایک ساتھ ہوتی تو اس وقت آزادکشمیر میں صورتحال بلکل مختلف ہوتی۔حکومت سازی کے مکمل ہونے تک کا عرصہ پی ٹی آئی کے لیے کافی آزمائش طلب ہے خاص کر ان حلقوں میں صوابعدیدی عہدوں کے زریعے وزارتیں دینی اشدضروری ہیں جہاں سے ن لیگ اور پی پی نے میدان مار ا ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کی نہ صرف گرفت مضبوط ہو گی بلکہ اپوزیشن کے لیے حکومت مخالف عوامی مہم چلانے میں معاون ثابت ہو گی۔ پی ٹی آئی کے آزادکشمیر میں مستقبل کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ وہ دو سال کے قلیل عرصے میں مرکز سے کتنے زیادہ فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے دوسال کے اندر مرکز سے خاطر خواہ فنڈز حاصل کرنے کے ساان کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا تو شائد مرکز میں حکومت کی تبدیلی آزادکشمیر میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا باعث نہ بن سکے۔ 


شیئر کریں: