Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود – دلخراش سچائی – شہزادی کوثر

شیئر کریں:

دنیا کا نظام ازل سے ایک ہی تسلسل سے رواں ہے ۔شب و روز کی تبدیلی ،موسموں کا تغیر۔ مہینوں اور سالوں کا ایک ہی میعاد مقرر میں بدل کر دنیا کا نیا نقشہ پیش کرنا ہمیں پیغام دیتا ہے کہ بدلاو نظام کائنات کا لازمی جزو ہے۔ماہ وسال اور بدلتے اوقات یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اگر کسی چیز میں زندگی ہے تواس میں ٹھہراو کبھی نہیں ہو گا کیونکہ ٹھہراو کا مطلب ہے جمود،سکوت اور موت۔۔۔ اس کے بر عکس زندگی اپنے اندر تغیر کی ہزار داستانیں سموئے ہوئے ہے جن سے حیات انسانی میں رنگا رنگی اور خوب صورتی ہے۔ ہر گزرتا سمے ایک رفتار سے اپنی منزل کی طرف بڑھتا جا رہا ہے اس کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی چاہے آندھی ہو یا طوفان بادوباراں،سیلاب ہو یا زلزلہ، قدرت کی کوئی طاقت وقت کی رفتار کومدہم نہیں کر سکتی، وقت پہ کسی کا زور نہیں چلتا اور نہ ہی اسے لگام ڈال کر اپنے قبضے میں کرنا ممکن ہے۔ گویا وقت ایک منہ زور گھوڑا ہے جسے تازیانے اور لگام کی ضرورت نہیں پڑتی ، اسی رفتار کے ساتھ انسان کی عمر بھی گزرتی جا رہی ہے                                                                        

رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھیئے تھمے            

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں                

اسی گردش دوراں میں کیسے کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہر پل کے ساتھ تجربات کا ایک بڑا ذخیرہ وجود میں آتا ہے  اور آنے والی نسل اس تجربے کو بنیا د بنا کر اپنی زندگی کی عمارت کھڑی کرتی ہے ۔عروج و زوال کے بیسیوں افسانے نیلے اسمان تلے وجود میں اتے ہیں اور دھرتی کے سینے پہ کئی عبرت انگیز واقعات کی مہر ثبت ہوتی ہے ۔ وقت کی اس بہتی دھارا میں انسانی خدو خال سے لے کر پسند ،نا پسندیدگی،سوچ ،حالات ،نفسیات اور معیار تک بدل جاتے ہیں۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا تقدیر  کی گردش میں پس کر کاسئہ گدائی کا مستحق بنتا ہے اور کوئی خاک نشینی سے تخت نشینی کا حقدار بن جاتا ہے ۔

اپنے زور بازو سے زمانے کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھنے والا اس منزل پہ بھی پہنچتا ہے جب اس کے اعضا زوال پذیر ہونے لگتے ہیں ۔بینائی اتنی کمزور ہو جاتی ہے کہ اپنی اولاد کو پہچاننا بھی دشوار لگتا ہے ،ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے پیالی نہیں پکڑی جا سکتی، پہاڑ کی چوٹییوں کو سر کرنے والا بغیر لاٹھی کے ایک قدم بھی نہیں اٹھا پاتا ۔ جس  چہرے پہ کبھی تابندگی کھیلا کرتی تھی وہ جھریوں سے اٹ جاتا ہے ، جس پیشانی پہ ماہتاب کا نور دمکتا تھا اس پہ گہری لکیروں کی دراڑیں پڑ جاتی ہیں ۔جن آنکھوں کی چمک میں خوشیوں کی نوید ہوتی تھی وہ چمک ماند پڑ جاتی ہے ،جن زلفوں پہ شب ہجراں کا گماں ہوتا تھا وہ چاندی کے تاروں میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔۔۔   وقت کتنا ظالم ہے ۔زمین کا سینہ چیر کر جوئے شیر نکالے والے زندگی کی اس موڑ پہ پہنچ جاتے ہیں کہ اپنی ناک پہ بیٹھنے والی مکھی کو بھی نہیں اڑا سکتے ۔عظیم الشان محلات اور مضبوط قلعے بنا کر خود کو ناقابل شکست تسلیم کروانے والے وقت کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔

ایسی ہستیاں بھی زوال کا شکار ہو گئیں جن کے سامنے دنیا گھٹنے ٹیکا کرتی تھی ۔تاریخ عالم ایسے ناموں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی شجاعت ،طاقت واختیار اور ذہانت سے کارہائے نمایاں انجام دیئے لیکن گزرتے پل کے ساتھ یہ سب کچھ ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ عروج وزوال کے اسی کھیل سے یہ نظام قائم ہے۔ ہر شخص اپنے حصے کا کام کرنے کا پابند ہو کر دنیا میں آتا ہے شیکسپئیر کے بقول ہر شخص اداکار ہے ،دنیا کے اسٹیج پہ اپنی اداکاری کا جوہر دکھا کر روانہ ہوتا ہے لیکن یہ اس اداکار پہ ہی منحصر ہے کہ وہ اپنے کردار میں کتنی جان ڈالتا ہے اور لوگوں کے ذہنوں پراس کا کتنا  اثر ثبت کرپاتا ہے۔ دینا کے اس اسٹیج پہ بچپن۔ لڑکپن، جوانی ،ادھیڑ عمر اور سب سے مشکل مرحلہ بڑھاپا ہے جن سے بہت سے لوگوں نے گزرنا ہوتا ہے۔ جو لوگ اس منزل پہ پہنچ چکے ہیں اگر ان کی زندگی با مقصد اور کامیاب گزری ہے تو انہیں ایک طرف خوشی اور دوسری جانب رنج بے سبب کا دکھ بھی ہوتا ہے۔ خوشی کے پیچھے وجہ ان کی مسلسل محنت کامیابی اولاد کی خوشحالی ،تندرستی اور کامل ایمان ہے،لیکن دامن گیر ہونے والے رنج کی وجہ اور کچھ نہیں صرف یہ بات ہوتی ہے کہ                                                                                          

جھک جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی۔۔۔                  

جب وہ جان محفل ہوا کرتے تھے ان کے آگے پیچھے لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا ،عہدہ اختیار ،طاقت ۔توانائی حسن ،جوانی ہر نعمت سے مالا مال تھے اور اب ہر چیز ساتھ چھوڑ گئی۔ دوست احباب دوسرے آگے پیچھے پھرنے والے اب سلام تک کرنا گوارا نہیں کرتے ،ہم عمر اور ہم نوالہ دنیا چھوڑ گئے، جوان لوگ پاس بیٹھنا نہیں چاہتے، اولاد اپنے کاموں اور دنیا داری کے پیچھے بھاگ رہی ہے ،پاس بیٹھ کر بات کرنے اور دل بہلانے والا کوئی نہیں۔ صبح سے شام تک اپنے کمرے کی دیواریں تکتے تکتے یہ قابل رحم ہستیاں اس انتظار میں ہوتی ہیں کہ اب کوئی آ کر پاس بیٹھے گا ہم پر توجہ دے گا ۔میرے بیٹے اپنے دیدار سے میری بے نور آنکھوں کی تشنگی دور کریں گے ۔لیکن بچے ماں باپ کو وقت دینا بھول جاتے ہیں۔جن کی دعاوں کی برکت سے دنیا کی آسائشیں حاصل ہوئی ہیں اب ان ہاتھوں کے لمس کو ہی فراموش کر دیتے ہیں ۔

  پیسے کے عشق میں اللہ کی ان رحمتوں سے غافل ہو جاتے ہیں جو ماں باپ کی شکل میں ان کے گھر کے کسی کمرے میں منتظر ہوتے ہیں ۔ اولاد کو سوچنا چاہیے کہ نظرانداز کرنے کا دکھ کتنا شدید ہوتا ہے اوران  کمزور دلوں پہ کیا گزرتی ہوگی جو اولاد کی خوشی کی خاطر اپنی ضرورتوں کوبھی قربان کر چکے ہیں۔ اب ان کی جوانی اور توانائی تو واپس نہیں آسکتی لیکن اولاد کی صورت دیکھ کر جو روشنی ان کی آنکھوں میں پیدا ہوتی ہے اسے انہیں محروم کرنا اولاد کی سیاہ بختی ہے۔ وہ اپنا زمانہ گزار چکے لیکن زندگی کی کچھ مہلت انہیں ملی ہے ان کی حیثیت چراغ سحری کی سی ہے کہ کسی بھی لمحے تیز ہوا کا جھونکا اسے بجھا سکتا ہے ،ناتوانی کی وجہ سے ان کا دل ذود رنج اور شکستہ ہو جاتا ہے کہ بہت معمولی بات بھی انہیں ناگوار گزر سکتی ہے  کیونکہ انہیں اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے ۔۔۔۔                                  

محسن ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا                    

ہم رہ گئے ہمارا زمانہ گزر گیا                         


شیئر کریں: