Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دادبیداد – متناسب نما ئیندگی کا نظام – ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

شیئر کریں:

دادبیداد – متناسب نما ئیندگی کا نظام – ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ انتخا بی اصلا حا ت کے بغیر دھا ندلی، دھاندلی کا شور نہیں تھمے گا ہر ایک ہا ر نے والا دھا ندلی ہی کا بہا نہ بنا ئے گا حکومت نے انتخا بی اصلا حا ت کے حوالے سے قومی اسمبلی میں جو بل پیش کیا ہے اس میں با یو میٹرک نظا م پر زور دیا گیا ہے اگر حکومت کو دو تہا ئی اکثریت ملی اور بل منظور ہوا تو ٹھپہ لگا نے کی جگہ کمپیو ٹر کی مدد سے خود کار طریقہ سے ووٹ دیئے جا ئینگے ووٹوں کی گنتی بھی کمپیو ٹر سے ہو گی اور کسی کو اعتراض کا مو قع نہیں ملے گا.

اپو زیشن با یو میٹرک سسٹم کے لئے تعاون پر تیار نہیں اپو زیشن کا کہنا ہے کہ 25جو لا ئی 2018کو کمپیو ٹر کا نظام نا کا م ہوا ریموٹ کنٹرول سے آر ٹی ایس کو نا کا رہ بنا یا گیا اور نتا ئج کے اعلا ن میں جا ن بوجھ کر 18گھنٹوں کی تا خیر سے کیا گیا جس کی وجہ سے شکو ک اور شبہات پیدا ہوئے اس وقت مجوزہ بل پر تعطل بر قرار ہے اس اثنا میں آزاد کشمیر کے انتخا بات نے حکومت اور اپو زیشن کو با مقصد مذاکرات کے ذریعے بل میں تر میم کے بعد با یو میٹرک سسٹم کی طرف جا نے کا راستہ دکھا یا ہے.

پر نٹ اور الیکٹرا نک میڈیا میں خبریں آگئی ہیں کہ آزاد کشمیر کے انتخا بات میں تحریک انصاف کو 6لا کھ 74ہزار ووٹ ملے، پیپلز پارٹی کو 5لا کھ سے اوپر ووٹ مل گئے ن لیگ نے 3لا کھ ووٹ لئیے ممبروں کی تعداد اس تنا سب سے سا منے نہیں آئی یہ وہ نکتہ ہے جس پر حکومت اور اپو زیشن مذا کر ات کی میز پر آسکتے ہیں ووٹوں کے تنا سب سے نما ئندگی اور ممبروں کی تعداد حا صل کر نے کے لئے دنیا کے جمہوری مما لک میں جو طریقہ اختیار کیا جا تا ہے اس کو پرو پورشنل رپیریزنٹیشن یعنی متنا سب نما ئندگی کا نظام کہا جا تا ہے فری اینڈ فیر الیکشن نیٹ ورک (FAFEN) نے اپنی حا لیہ رپورٹ میں پا کستا ن کے لئے متنا سب نما ئندگی کے نظام کو سیا سی مسا ئل کا حل قرار ر دیا ہے اور اسے رائج کر نے کی سفارش کی ہے اس اوقت یو رپی یو نین کی پا رلیمنٹ کے انتخا بات متنا سب نما ئندگی کی بنیا د پر ہو تے ہیں یورپی مما لک میں سے بیشتر قوموں نے اپنے حا لا ت کے مطا بق اس طریقہ کو اپنا یا ہے اور اسے مفید پا یا ہے متنا سب نما ئندگی کے نظام میں کئی ما ڈل اور نمو نے از ما ئے گئے ہیں .

سب سے عام فہم اور آسا ن ما ڈل یہ ہے کہ انتخا بات میں اُمیدوار سامنے نہیں آتے سیا سی پا رٹیوں کے درمیاں مقا بلہ ہو تا ہے ہر پارٹی انتخا بات میں اپنے متو قع ممبران اسمبلی کی تر جیحی فہرست الیکشن کمیشن کے پا س جمع کر تی ہے جیسا کہ ہمارے ہاں مخصوص نشستوں کے لئے فہرستیں جمع کر ائی جا تی ہیں اس سسٹم میں برادری، دولت اور دھو نس دھا ند لی کے ذریعے ووٹ لینے کی گنجا ئش نہیں ہو تی پارٹی کو اپنے وفادار کا ر کنوں اور مختلف شعبہ جا ت کے ما ہرین کی جگہ جیتنے والے گھوڑوں یعنی عرف عام میں الیکٹیبلز کو تلا ش کر کے پیرا شوٹ کے ذریعے میدان میں ا تار نے کی ضرورت نہیں ہو تی نیز انتخا بات کے بعد خزانہ، قا نون،

اطلا عات اور دیگر شعبوں کے لئے غیر منتخب لو گوں کو کا بینہ میں بٹھا نے کی ضرورت نہیں ہو تی کیونکہ ہر شعبہ کے ما ہرین ان کی فہرست میں میرٹ کے لحا ظ سے جگہ پا تے ہیں جن سیا سی جما عتوں کے پاس نظر یاتی کا ر کنوں کی تعداد لا کھوں کروڑوں میں ہو تی ہے ان پا رٹیوں کو متنا سب نما ئندگی کے نظام سے فائدہ ہو تا ہے مثلا ً تحریک انصاف، جما عت اسلا می، پیپلز پارٹی، جمعیتہ العلمائے اسلا م اور عوامی نیشنل پارٹی اس نظام کی مخا لفت نہیں کر ینگی کیونکہ ان کے پا س نظریاتی کا ر کنوں کا تیار کیڈر ہے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو اس پر غور کر کے اپنی پارٹیوں کے کیڈر کو شخصیات کی جگہ منشور کے حوالے سے منظم کرنا ہو گا اگر ایک پارٹی کو منشور کے لحا ظ سے 55فیصد ووٹ ملے تو وہ حکومت بنا ئے گی اور اس کے پاس حکومت چلا نے کے لئے مطلو بہ قابلیت، کردار اور صلا حیت کے حا مل اراکین مو جو د ہو نگے.

لوٹے خرید نے اور لوٹے پا لنے کی ضرورت نہیں ہو گی با یو میٹرک سسٹم کے ساتھ متنا سب نما ئندگی کو ملا کر مجوزہ بل پر حکومت اور اپو زیشن نے دو تہا ئی اکثریت سے قا نون بنا یا تو ہما رے انتخا بی نظام کے تما م نقا ئص کو دور کرنے میں مدد ملے گی نہ اسمبلی میں قا بل لو گوں کی کمی ہو گی اور نہ الیکشن کے بعد دھا ند لی، دھا ندلی کا شور ہو گا۔


شیئر کریں: