Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغان قیام امن – راجہ منیب

شیئر کریں:

پاکستان نے افغانستان امن عمل کو آسان بنانے کے لئے ہمیشہ مخلصانہ کام کیا ہے۔ افغانستان کو  اپنی صفوں اور خطے  کے حالات کا جائزہ لینا چاہیے کہ خطے میں امن افغان امن سے منسلک ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان ہمسایہ ملک میں امن و استحکام لانے کے لئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لئے باہمی احترام کی بنیاد پر ، افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور اچھے دوستی سے تعلقات استوار کرنے کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے نہ صرف الفاظ بلکہ اقدامات کے ذریعے مظاہرہ کیا ہے کہ وہ پرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے اور پوری افغان قیادت کو ملک میں پائیدار امن کے لئے کوششوں میں شامل ہونا چاہئے۔ پاکستان دہشتگرد گروہوں کو دبانے اور بین الاقوامی برادری کے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے دعووں کے خاتمے کے لئے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتا ہے ۔ اس کا مقصد اہم علاقائی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آ کر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔

پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں پرامن ماحول چاہتا ہے لیکن بھارت اب بھی ایک بگاڑنے والے کا کردار ادا کررہا ہے اور افغانستان میں امن کے لئے کوششوں کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندوستان نے ، پوری تاریخ میں ، پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ، کیونکہ وہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔جبکہ افغانستان میں امن کا خطے میں ترقی اور خوشحالی کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے۔امریکہ نے دہشت گردی ، افغان امن عمل سے نمٹنے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ افغانستان ميں بھارت کی اربوں ڈالر کی سرمايہ کاری ڈوب رہی ہے۔ بھارت فرسٹريشن کا شکار ہے۔ وہاں امن ہوا تو بھارت کیلئے آپريٹ کرنا مشکل ہوگا۔

افغانستان ميں حالات خراب ہوئے تو پاکستان متاثر ہوگا۔ بلوچستان ميں دہشت گردوں کے سليپر سيلز فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ دشمن ايجنسيوں کے دہشتگرد سرگرم ہوسکتے ہيں۔ پاکستان ميں دہشت گردی کيلئے افغان سرزمين استعمال ہوتی رہی ہے۔ميں دہشت گردی کيلئے افغان سرزمين استعمال ہوتی رہی ہے۔ افغان بارڈر پر باڑ کا کام 90 فيصد مکمل ہو چکا ہے۔پاکستان قربانياں اور کوششيں رائيگاں نہيں جانے ديں گے۔ افغانستان ميں امن کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی، ليکن پاکستان ضامن نہيں۔ حتمی فيصلہ افغان قيادت نے ہی کرنا ہے۔پاکستان دہشت گردی کی طویل جنگ لڑی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 86 ہزار سے زائد قربانیاں دیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں ردالفساد آپریشن شروع کرایا، دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ہزاروں آپریشن کیے، اس میں بے مثال کامیابیاں ملیں، پاکستان اپنی قربانیوں کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دے گا۔

مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے لیے پاکستان نے بہت تیاری کی ہے، ملکی سرزمین کسی کےخلاف استعمال نہیں ہونےدے گا، پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگا چکی ہے،  پاک افغان سرحد  پر تمام غیر قانونی پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے،  بارڈر پر جدید بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب بھی کی گئی ہے، مغربی سرحد کی فینسنگ افغانستان کے لیے بھی بہترہے، پاک ایران سرحد پر بھی فینسنگ کا کام تیزی سے جاری ہے، قبائلی اضلاع میں پولیس اور لیویز کی تربیت کی نگرانی فوج کر رہی ہے، ایف سی کی استعداد کار میں بھی بے مثال اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں 150 سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں ، آپریشن بھی ہو رہے ہیں جن میں اب تک 42 دہشتگردوں کو مار چکے ہیں،  پاکستان میں تمام نو گو ایریاز ختم کر دیئے،  آپریشن جارحانہ انداز میں کر رہے ہیں، اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ پاکستان میں کوئی دہشت گرد موجود نہیں، افواج پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے ہر طرح تیار ہے، ہمارے جوان دہشت گردوں کو ختم کیے بغیر دم نہیں لیں گے۔ انڈیا افغانستان میں امن کیوں نہیں چاہتا؟ افغانستان میں بدامنی و دہشتگردی کی فضا سے انڈیا کے وابستہ مفادات کیا ہیں؟ جیسے کئی سوال ذہن میں آتے ہیں۔


انڈیا افغانستان میں امن اس لئیے نہیں چاہتا کہ اگر افغانستان میں امن قائم  ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو اورنقصان انڈیا کو ہے کیونکہ اگر امن ہوتا ہے تو پاکستان افغان سرحد پر لگائی گئی  فوج کو کم کر کے انڈین سرحدوں کی طرف بڑھا دے گا اور افغانستان میں جنگ بندی سے پاک فوج اور طالبان کے آپریشنز افغانستان میں نیٹو امریکی جنگ کی بجائے کشمیر کی طرف موو کریں گے جس کا سیدھا نقصان انڈیا کو ہو گا اور دوسرا افغانستان میں جنگ بندی سے امریکی بلاک میں انڈیا کی اہمیت بہت حد تک کم ہو جاٸے گی جس سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ جس امریکہ کا وہ اتحادی ہے وہ دنیا کے پرلے کونے پر بیٹھا ہے جبکہ اس کے ہمساٶں سے تعلقات کافی خراب ہیں۔


اس صورت حال میں اگر افغانستان میں امریکہ جنگ بلکل ختم ہوتی ہے اور امن قائم ہوتا ہے تو انڈیا کی وہ اہمیت باقی نہیں رہے گی جو امریکہ اتحاد میں اس وقت ہے کیونکہ واحد وہی اتحادی اس وقت خطے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر چین ( شہر پاور کمپیٹیٹر) سے بھی تعلقات خراب کر لئے اورباقی ہمسایوں سے بھی قابل ذکر تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور یو ای اے سے تعلقات کا اچھا ہونا ڈیڑه ارب کی آبادی کی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے علاوہ ان تعلقات کی کوئی خاص بنیاد نہیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے چارارب ڈالر کا تیل لیتا ہے اور انڈیا چالیس ارب ڈالر کا تو ظاہر ہے عرب نے اپنے کاروبار اور معشیت کو بھی دیکھنا ہے اس لیے سعودی عرب بھی پاکستان انڈیا کے معاملے میں مسلمان ملک ہونے کے باوجود برابری کے تعلقات کو دیکھتا ہے اورکشمیر یا دوسرے معاملات پرکسی ایک ملک کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن انڈیا ہمیشہ سے اپنی مارکیٹ کا فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور شاید آج بھی اٹھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور امریکی اتحاد میں اس کی اہمیت کم ہو اس لیے انڈیا جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کھل کر اففغانستان حکومت کو نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ دوسری طرف بدلتے کنٹرول کو دیکھتے طالبان سے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے، لیکن پچھلے دنوں سفارتی ملازمین کی واپسی کے نام پر آئے جہاز میں موجود اسلحے نے اس دوہری و دوغلی حکمت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل پر اشرف غنی کا سرعام پاکستان کو افغان امن کا حریف کہنا غنی پر پیسہ لگانے والی ہندوستانی حمکت عملی کھل کر آخری حربے کے طور پر سامنے آ گئی ہے کہ غنی حکومت ہو یا انڈیا افغانستان میں امن ہوتا نکلنا مشکل ہے ان کے لئے۔ حالیہ دورہ کابل میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اشرف غنی کے لگائے بے بنیاد الزام اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی اس کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے افغانستان میں بدامنی سے پاکستان کے ہونے والے نقصان کی یاددہانی بھی کروا دی۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں۔

حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے۔

کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا۔ دو ہزار چار سو تیس کلومیٹر طویل پاک افغان بارڈر جو  پاکستان کے شمال میں واخان پٹی سے شروع ہوکر بلوچستان میں ختم ہوتا ہے، وہاں سولہ مقامات ایسے ہیں جہاں سے روایتی طور پرمقامی لوگوں کی آمدورفت اور سرحدی تجارت ہوتی رہی ہے۔ مگر دنیا بھر میں عموما اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں خصوصادہشت گردی، سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے بڑھتے واقعات نے اس سرحد پر آمد ورفت اور تجارت کو بھی متاثر کیا۔حکومت پاکستان کو مجبورا ان سولہ مقامات کو پانچ سرحدی دروازوں (طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن)تک محدود کرنا پڑا۔چونکہ افغانستان کا کوئی سمندری ساحل نہیں ہے اس لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان افغانستان کو دنیا بھر سے تجارتی سامان کی درآمد کے لیے ٹرانزٹ سہولت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف انڈیا اور اسرائیل نے ہائبرڈ وار شروع کی ہوئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

ہمارا ڈیٹا چوری کرنے کی پوری کوشش ہے۔ اور نادار کو بدنام کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہےتاکہ اس ملک کے ڈیٹا کو ہی مشکوک بنا دیا جائے۔حال ہی میں پاک افغان تعلقات خراب کرنے کی کوشش میں افغان سفیر کے بیٹی سلسلہ علی خیل کی ڈرامہ پہلی قسط میں ناکام ہوگی ہے انہوں نے افغانستان کے بجائے جرمنی جانے کوترجیح دی ہیں اور ساتھ ہی ڈرامہ نویس بھی چپنے کی کوشش۔۔ افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل کے اغواہ کا ڈرامہ آ ہستہ آ ہستہ مکمل طور پر بے نقاب ہوگیا ہے۔ الحمدللہ پاکستان کی ایجنسیوں نے بھرپور طریقے سے محنت کی اور اصل حقائق تک پہنچ گئے۔اندرونی اور بیرونی ملک دشمن عناصر نے اس واقع کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی  پوری کوشش کی۔ نجیب اللہ علی خیل پاکستان میں افغانستان کے سفیر ہیں‘ ان کی 27سالہ بیٹی سلسلہ علی خیل کے ساتھ جمعہ 16 جولائی کو ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔

پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اپنی نوعیت کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ملک کے سفیر کی صاحبزادی کے ساتھ ایسا ’’واقعہ منسوب‘‘ ہو کر منظر عام پر آیا ہے جس کی تہیں اب کھل رہی ہیں۔ سکیورٹی کے ادارے جو مختلف پہلوئوں سے اس سارے واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں یقیناً اُنکے پیش نظر یہ پہلو بھی لازمی ہو گا کہ کسی بھی ملک کے سفیر کے اہل خانہ کو بھی سکیورٹی کی تمام مطلوبہ مراعات دی جاتی ہیں اور وہ سکیورٹی کے ہمراہ ہی سفارت خانے کو مختص شدہ نمبر کی مخصوص نمبر پلیٹ کی گاڑی میں سفر کرتے ہیں اور گاڑی سے باہر نکلنے کے بعد بھی مسلح سکیورٹی کا ایک اہلکار انکے ہمراہ ہوتا ہے‘ تو پھر سلسلہ علی خیل نے ان تمام قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی؟ اس کے علاوہ بھی بے شمار سوالات ذہنوں میں اُٹھتے ہیں۔ کیا یہ ’’جاسوسی‘‘ کا معاملہ ہے؟ سلسلہ راولپنڈی میں دستاویزات کے تبادلے کیلئے گئی تھیں؟ کیا خوش شکل اور نوجون سلسلہ کا کوئی ’’انتہانی ذاتی سلسلہ‘‘ تھا یا پھر پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے وہ نادانستگی میں اغیار کی کسی سازش کا شکار ہو گئی۔ 


کیا اُنکے والدین یا دیگر اہل خانہ کو اس بات کا علم تھا کہ سلسلہ گھر سے باہر گئی ہوئی ہے؟ پھر سفارت خانے کی گاڑی میں گھر سے باہر جانے میں کیا امر مانع تھا؟ اگر مبینہ طور پر گھر سے ٹیکسی منگوائی گئی تو کسی کو اس بات کا علم نہیں ہوا جبکہ گھر کے باہر بھی مسلح سکیورٹی گارڈ متعین ہوتے ہیں۔  اسلام آباد میں افغان سفارت خانہ بے پناہ وسائل رکھتا ہے ان کے پاس سیکورٹی گارڈ بھی موجود ہیں اور متعدد سرکاری گاڑیاں بھی اس کے باجود افغان سفیر کی بیٹی پورے اسلام آباد اور راولپنڈی میں چار ٹیکسیاں بدل بدل کر کیوں گھومتی رہیں؟ اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسرا کوئی فرد کیوں نہیں تھا۔ وہ راولپنڈی کیا کرنے گئیں تھیں؟ اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ انھوں نے تفتیشی ٹیم کو اپنا موبائل ڈیٹا ڈلیٹ کرکے کیوں دیا؟ پاکستان اداروں کی تفتیش کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا واقعہ ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا یہ ڈرامہ جو کہ یقینا پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے لگایا گیا تھا بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔  جس عجلت میں افغان سفیر کو پاکستان سے واپس بلا لیا گیا ہے اس سے تو یہی ثابت ہو تا ہے کہ افغان حکومت کو یہ ڈر تھا کہ کہیں افغان سفیر مزید تحقیقات کے نتیجے میں مزید ایکسپوز نہ ہوجائیں۔ افغان قیادت اس صورتحال میں اپنے سر سے ذمہ داری ہٹانے کے لے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے اور پاکستان کو بغیر کسی لگی لپٹی رکھتے ہوئے اس پراپیگنڈا مہم کا بھرپور جواب دینا چاہیے۔ پاکستان کو اس حوالے سے افغان حکومت کی کمزوریوں اور بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ کو بھی دنیا کے سامنے عیاں کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: