Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئندہ دس سالوں میں دس اکنامک زونز ،19 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کئے جائیںگے

شیئر کریں:

آئندہ دس سالوں میں دس اکنامک زونز ،19 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کئے جائیںگے


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت کے وژن کے مطابق صوبے میں صنعتی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے کیلئے نئی صنعتی پالیسی 2020 ءکے تحت آئندہ دس سالوں میں دس اکنامک زونز ،19 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس جبکہ اگلے پانچ سالوں میں کم سے کم دو مزید اسپیشل اکنامک زونز قائم کئے جائیں گے ۔ اسی طرح ایبٹ آباد ، ڈی آئی خان، بنوں، درہ آدم خیل، شاہ کس اور مردان سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کواسپیشل اکنامک زونز کا درجہ دیا جائے گا۔

یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت نئی صنعتی پالیسی سے متعلق ایک اجلاس میں بتائی گئی۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبدالکریم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری صنعت ہمایون خان، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور زبیر خان اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ حسن داﺅد کے علاوہ دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں نئی صنعتی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے ایکشن پلان کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ۔ اجلاس میں نئی صنعتی پالیسی پر عمل درآمد اور نگرانی کیلئے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت کی سربراہی میں 15 رکنی کمیٹی کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی ۔

اجلاس کو نئی صنعتی پالیسی کے مختلف پہلوﺅں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صنعتی پالیسی کے تحت صوبے کی بیمار اور بند صنعتوں کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات کے علاوہ صوبے کی صنعتوں کو گیس اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔ صوبے میں صنعتی ترقی کیلئے آئندہ 10 سالوں میں 10اکنامک زونز قائم کئے جائیں گے جن میں چترال ، غازی، درابن، سوات ،بونیر اور دیگر شامل ہیں۔واضح رہے کہ اب تک رشکئی اسپیشل اکنامک زون، جلوزئی اکنامک زون، نوشہرہ اکنامک زون کا توسیعی پراجیکٹ، مہمند اکنامک زون اور ڈی آئی خان اکنامک زون کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔صوبے کے مختلف اضلاع میںقدرتی وسائل کی پیداوار کے حساب سے اکنامک زونز کی ترقی بھی صنعتی پالیسی کا ایک اہم جز ہے۔ اجلا س کو آگاہ کیا گیا کہ صنعتی یونٹس تک سڑکوں کی تعمیر اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی صنعتی پالیسی کا حصہ ہیں۔ صنعتی پالیسی کے تحت صوبے میں پہلے سے موجود اور نئی قائم کی جانے والی چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی مالی معاونت کیلئے آسان قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں کاٹیج انڈسٹری کو فروغ دینے کیلئے درہ آدم خیل میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ سنٹر بھی قائم کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دی جاسکے ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے میں صنعتوں کو فروغ دے کر لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھا رہی ہے جبکہ صنعتوں کو مقامی سطح پر پیدا کی جانے والی بجلی رعایتی نرخوں پر فراہم کی جارہی ہے جس کا حتمی مقصد اس شعبے کوجدید عصری تقاضوں کے مطابق ترقی دینا ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے تمام تر سہولیات ون ونڈ سروس کے تحت فراہم کی جارہی ہیں جو موجودہ صوبائی حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے تمام متعلقہ محکموں کو نئی صنعتوں کے قیام کیلئے درکار این او سیز مقررہ وقت میں جاری کرنے کا پابند بنایا جائے اور مقررہ وقت میں کسی بھی محکمے کی طرف سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے این او سی جاری نہ ہونے کی صورت میں خود بخود این او سی جاری تصور کیا جائے تاکہ صوبے میں نئی صنعتوں کے قیام میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے ۔
<><><><><><>

صوبے کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو الرٹ رہنےکی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کے پیش نظر تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کو الرٹ رہنے اور محکمہ ریلیف، پی ڈی ایم اے، ریسکیو1122 ، ٹی ایم ایز، ڈبلیو ایس ایس سیز سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں ۔اس سلسلے میں یہاں سے جاری ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹنے کیلئے تمام متعلقہ محکمے اور ادارے ہر لحاظ سے تیار رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مو ثر انداز میں نمٹنے کیلئے ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

اُنہوںنے مزید کہاکہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو منظم انداز میں چلانے کیلئے متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان مربوط روابط کا موثر نظام وضع کیا جائےتاکہ ریسکیو کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو ۔ وزیراعلیٰ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ اپنے اپنے اضلاع کی صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ کریں اور قدرتی آفات کے خطرات سے عوام کے جان و مال کو محفوظ بنانے کیلئے عوام کو آگاہی دی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس مقصد کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔
<><><><><><><>


شیئر کریں: