Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شندور میں ہوٹل اور مکانات پرغذر کے شرپسندعناصر کے حملہ کی کوشش کا نوٹس لیا جائے۔عمائدین لاسپور

شیئر کریں:

شندور میں ہوٹل اور مکانات پرغذر کے شرپسندعناصر کے حملہ کی کوشش کا نوٹس لیا جائے۔عمائدین لاسپور

اپرچترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) وادی لاسپور کے عوام کی ایک ہنگامی میٹنگ گذشتہ روز بروک کے مقام پر منعقد ہوئی، جس میں سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل لاسپور ذولفی ہنر شاہ ،زار محمد، ایڈوکیٹ شاہد علی خان یفتالی کے علاوہ بڑی تعداد میں علاقے کے عمائدین نے شرکت کی ۔ میٹنگ حالیہ عیدالاضحی کے تعطیلات کے دوران غذر سے تعلق رکھنے والے چند شرپسند عناصرکا شندور آکر ویلی لاسپور کے باشندے کے ہوٹل اور مکانات پر حملہ آور ہونے کی ناکام کوشش اور حملے کی دھمکی کے ردعمل میں بلایا گیا تھا۔میٹنگ میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ شندور ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ایک علاقہ ہے جس پر وادی لاسپور کے عوام کے چھ سو کی تعدادمیں گرمائی رہائشی مکانات،عبادت خانے اورپانچ پولو گراونڈز ہیں۔قدیم الایام سے شندور عوام لاسپور کا مقبوضہ،مملوکہ اور غیر متنازعہ علاقہ ہے جبکہ کھوکش لنگر نالہ عوام لاسپور اور غذرکے مابین متنازعہ رہا ہے جس پر عوام سور لاسپور کے مکانات باسیم گوچو شال تعمیر تھے اور نشانات اب بھی موجود ہیں۔ان لوگوں نے مکانات سے متصل مشہور پولوگراونڈ لنگر جنالی بھی تعمیر کیا تھا۔


قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قدیم الایام سے کُھوکش لنگر کے جنگلات کے تحفظ کیلئے نگران کا تقرر عوام لاسپور سے ہی کیا جاتا تھا جسکا منہ بولتا ثبوت مسمی میرزہ پناہ ولد درویش پناہ کی کھوکش کے جنگلات پر بحیثیت نگران تقرری ہے جسکا پنشن اسکے انتقال کے بعد اسکی بیوہ وصول کررہی ہے۔عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے حکام بالا سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ آسامی کو بحال کرکے عوام لاسپور سے ایک نوجوان کو کھوکش جنگلات کے تحفظ کیلئے تعینات کیا جائے اور اس نالے پر کسی بھی قسم کی تعمیرات سے عوام غذر کو باز رکھا جائے تاکہ اسکی متنازعہ حیثیت برقرار رہے اور لاسپور اورغذر کے مابین تصادم نہ ہو۔


عوام لاسپور نے قرارداد کے ذریعے ضلعی،صوبائی اور وفاقی حکام سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ غذر کے چند شرپسند عناصر کو منظر عام پر لاکر ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی اور تادیبی کاروائی عمل میں لائے تاکہ علاقے کے امن کو کوئی خطرہ نہ ہو۔
قرارداد میں مذید کہاگیا ہے کہ شرپسند عناصر کی سربراہی حاضر سروس ایس ایچ او اور خان اکبرخان کررہے تھے جس کی وجہ سے لاسپور اور غذرکے عوام کے درمیان تصادم کا خطرہ لاحق ہے جسکی تمام ترذمہ داری ان دونوں افراد اور شرپسند گروپ پرعائد ہوگی۔ لہذا حکومت پاکستان، جی بی حکومت اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال فوری نوٹس لیں۔

chitraltimes laspur protest against shandur violation2

شیئر کریں: