Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کردار سازی -تحریر: محمد اشفاق خان

شیئر کریں:

قریبا 700 سال قبل از مسیح چائنہ کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ بنانے کے لئے دیوار چین کی تعمیر کو عمل میں لایا گیا۔ دیوار چین کی تعمیر کے بعد پہلے سو سال میں چائنا کو تین بار بیرونی حملہ آوروں کے ہاتھ شکست ہوئی ۔دشمن کو کسی بار بھی دیوار گرانے یا اس میں شگاف ڈال کر راستہ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔نہ ہی دیوار کو پھلانگ کر اندر جانے کی نوبت آئی کیونکہ ہر بار دربانوں یعنی دیوار کے محافظ دستے کو رشوت دے کر دروازے کھلوائے گئے ۔چینیوں نے دیوار تو بنا ڈالی لیکن محافظ دستے کی کردار سازی پر کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کردار سازی سب سے مقدم ہے ۔مملکت خداداد پاکستان میں بھی لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔

کرپشن بدعنوانی اور اقرباپروری عروج پر ہے ۔جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اس حد تک بے ایمان ہے۔ بےروزگاروں تک کو نہیں بخشا جا رہا ۔نوکری ڈھونڈنے والوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے. وہ نجی ادارے جو مختلف آسامیوں پر بھرتی کی غرض سے درخواست دینے والے امیدواروں میں سے سب سے موزوں امیدوار کی تلاش اور انتخاب کے لئے بنائے گئے ہیں، اربوں روپے کما رہے ہیں اور وہ بھی ملک کے سب سے کمزور اور پسماندہ بےروزگار طبقے سے ۔ایک زمانہ تھا جب نوکری کے لیے ٹیسٹ یا انٹرویوز دینے والوں کو بڑے عزت اور احترام سے بلایا جاتا تھا ۔آنے جانے کے اخراجات دینے کے علاوہ چائے پانی کا بھی انتظام کیا جاتا تھا ۔لیکن آج نوکری کے لئے اپلائی کرنے والوں کو طویل قطاروں میں کھڑا کرکے ہزاروں روپے کی فیس جمع کروانی پڑتی ہے ۔جس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہوتی انہیں انٹرنیٹ کیفے والوں کے ہاتھوں بھی لٹنا پڑتا ہے۔ پھر آخر میں آکر کورئیر والے رہی سہی کسر پوری کر لیتے ہیں کوئی پرسان حال نہیں ۔


کرپشن اقرباء پروری اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے کئی ادارے بنائے گئے ۔لیکن پھر بھی کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آرہے ۔قانون سازی پر تو بہت کام کیا گیا لیکن کردار سازی پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون تو بنا دیا جاتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد اتنا مشکل اور کٹھن بنا دیا جاتا ہے کہ کوئی عام شریف آدمی اول تو قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچتا ہی نہیں اور اگر کبھی کوئی اللہ کا بندہ غلطی سے یہ حماقت کر بیٹھے تو اس کو اتنا ذلیل و خوار کیا جاتا ہے کہ باقی ماندہ زندگی میں وہ آنے والی نسلوں کو نصیحت کرتا رہتا ہے کہ کبھی اس کے نقش قدم پر چلنے کی غلطی نہ کریں ۔آپ کسی بھی جائز کام کے لئے کسی بھی سرکاری محکمہ میں چلے جائیں اگر آپ کی شناخت یا پہچان والا کوئی بندہ وہاں پر موجود نہ ہو توآپ رل جاتے ہیں۔رشوت دیے بغیر آپ کے جائز کام کے مکمل ہونے کی رفتار کیچوے کی رفتار سے کئی گنا زیادہ سست ہوتی ہے ۔ جان بوجھ کر اس نظام کو اتنا پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ بندہ رل جاتا ہے۔ آپ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ریگولر او پی ڈی کے اوقات میں چلے جائیے، کسی بھی سرکاری محکمے یا ادارے میں چلے جائیں خواہ وہ گیس کا ہو بجلی کا ہو ٹیلیفون کا ہو، فنانس کا ہو، اکاؤنٹس کا ہو یا کوئی بھی محکمہ ہو آپ کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ایسا کیوں ؟ اس نظام کے اس قدر خراب ہونے کی اصل وجہ کیا ہے ؟ اس نظام کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے ؟ درست سمت کا تعین کیوں کر اور کیسے ممکن ہے ؟


میرے خیال میں ان تمام مسائل کی جڑ ، نظام کے اس حد تک خراب ہونے کی اصل وجہ کردار سازی پر توجہ کا فقدان ہے۔کردار سازی پر توجہ نہیں دی جا رہی ۔ایک وقت تھا جب سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اخلاقیات پر درس دینا پڑھائی کا لازمی جز قرار دیا جاتا تھا۔پاکستان ٹیلی ویژن پر اندھیرا اجالا جیسے ڈرامے دکھا کر اچھائی اور برائی کی تمیز کروانے کا رجحان عروج پر تھا ۔تاریخی موضوعات پرڈرامے بنا کر نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی تاریخ اور طرز زندگی سے آگاہ کیا جاتا تھا ۔


وقت بدل گیا سوچ بدل گئے اغراض و مقاصد تبدیل ہوچکے ۔تعلیم ایک منافع بخش کاروبار اور ٹی وی گلیمر کی زد میں آگیا۔کردار سازی جیسے اہم اور ناگزیر پہلو کو یکسر نظرانداز کیا گیا ۔معاشرہ دن بدن بد سے بدتر اور بدتر سے بدترین ہوتا جا رہا ہے ۔ابھی بھی وقت ہے اس نظام کو بدلہ جاسکتا ہے اس سوچ کو بدلا جاسکتا ہے درست سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔اس معاملے میں حکومت وقت کو کردار ادا کرنا ہوگا، سول سوسائٹی کو آگے آنا ہوگا،ہم سب کو اپنی اپنی بساط کے مطابق کردار ادا کرنا ہوگا ۔کردار سازی پر توجہ دینا ہوگا کردار سازی کو فروغ دینا ہوگا ۔


از

محمد اشفاق خان
پی ایچ ڈی اسکالر
جارج اگست یونیورسٹی
گوٹینگن، جرمنی


شیئر کریں: