Chitral Times

Sep 23, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اشرف غنی اور طالبان میں فرق – محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

افغان طالبان نے افغانستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور ترقی میں تعاون کا خیرمقدم کرنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا کوئی بیرونی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم اپنا انقلاب کسی دوسرے ملک کو برآمد نہیں کریں گے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ جو اضلاع ہمارے قبضے میں آئے ہیں وہ لڑائی کے ذریعے نہیں آئے بلکہ وہاں موجود افغان حکومت کی فورسز خود رضاکارانہ طور پرہمارے ساتھ مل گئی ہیں، ورنہ یہ ممکن نہیں ہے ہم ایک دو مہینوں میں سارے افغانستان کو قبضے میں لے لیں‘ایسا 20 سال میں بھی ممکن نہیں تھا کابل انتظامیہ کی فورسز ہم سے رابطہ کرتی ہیں،

وہ چاہتے ہیں کہ اپنے اسلحے کے ساتھ ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ننگر ہار، کنڑ، فریاب، زابل اور دوسرے علاقوں سے داعش کو ختم کیا ہے، اب افغانستان میں کسی بھی صوبے میں داعش نہیں ہے۔افغانستان میں داعش یا دوسرے گروپس کو جگہ نہیں دیں گے۔طالبان ترجمان نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کریں طالبان ترجمان نے انکشاف کیا کہ بھارت کابل انتظامیہ کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور اس کے ذریعے وہ اپنے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔

کابل سے امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد طالبان نے افغانستان کے دو تہائی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ مستقبل قریب میں افغانستان کا جو بھی سیاسی سیٹ اپ ہوگا اس میں طالبان کا پلڑا بھاری ہوگا۔ طالبان کی طرف سے افغان سرزمین کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان بھارت کے لئے واضح پیغام ہے کہ افغانستان میں قونصل خانوں کی آڑ میں جاسوسی اڈے قائم کرنے اور ان کے ذریعے پاکستان میں تخریبی کاروائیاں جاری رکھنے کا انہیں موقع نہیں دیا جائے گا۔

بھارت کی طرف سے کابل انتظامیہ کو اسلحہ کی فراہمی کے حوالے سے طالبان کا بیان بھی پاکستان کے موقف کی تصدیق ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب کابل شہر تک محدود اشرف غنی کی حکومت بھارت کے اشاروں پر چلتے ہوئے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تشدد کو بنیاد بناکر افغان حکومت نے پاکستان سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ افغان صدر کا کہنا ہے کہ سفارت کار کی بیٹی پر تشدد کرکے ہماری روح کو زخمی کیا گیا اور جب تک اس واقعے کے مجرموں کو پکڑ کر کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔

افغان سفارت کار واپس نہیں جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کو کسی نے اغوا نہیں کیا۔ وہ خود ٹیکسی لے کر پنڈی اور اسلام آباد میں مٹرگشت کرتی رہی اور گھر آکر اغوا اور تشدد کئے جانے کا ڈرامہ رچایا۔ وزارت داخلہ نے بھی سفارت کار کی بیٹی کے اغوا اور تشدد کی تردید کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کابل حکومت طالبان کی پے در پے کامیابیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور دانستہ طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔

بعید نہیں کہ سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور سفارتی عملے کی واپسی کے ڈرامے کا سکرپٹ دلی میں تیار کیاگیا ہو۔ افغان حکومت کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ اوچھے ہتھکنڈوں سے وہ اپنی سیاسی ساکھ کو خود خراب کرنے کے درپے ہوگئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کابل حکومت کو یاد دلایا ہے کہ افغانستان کی سرحد بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ملتی ہے۔ ہم چالیس سالوں تک 35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔ پاکستان نے افغان امن عمل کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دینا کابل حکومت کے لئے سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا۔


شیئر کریں: