Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خوش قسمتی اور بد قسمتی کا فیصلہ ۔ گل عدن

شیئر کریں:

خوش قسمتی اور بد قسمتی کا فیصلہ

  بعض اوقات سالوں سے سمجھ نہ آنیوالے سوالوں کے جواب اچانک کسی ایک لمحے میں آپکو سمجھ آجاتے ہیں ۔میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔دراصل بچپن  سے میں ہمیشہ سے سوچتی آئی ہوں کہ آخر یہ خوشقسمت یا بد قسمت لوگ کون ہیں ۔ کھبی کوئی کہتا ہے دولت کا ہونا خوش قسمتی ہے تو کوئی غربت کو بد قسمتی قرار دیتا ہے مگر میں کھبی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔جتنا سوچتی اتنا الجھتی۔مجھے قسمت کو ماپنے کے لئے دولت حسن نام پیسہ جیسے معیار بہت سطحی لگتے رہے ۔

آخر ان میں کونسی ایسی چیز ہے جو ہمیشہ کے لئے آپکے پاس رہ جاتی ہے۔صحت دولت حسن اور حتی کہ غربت بھی کوئی بھی شے ہمیشہ رہ جانے والی نہیں ہے ۔وقت کسی کے لئے بھی ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتاپھر آپ کیسے کسی کو خوش قسمت اور بد قسمت کا خطاب دے سکتے۔؟شاید معاشرے میں پھیلی بے ہنگم انتشار کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ دنیا کے خوش قسمت ترین لوگ وہ ہیں جنہیں “قناعت” کی “دولت ” حاصل ہے ۔ جی ہاں قناعت ہی وہ دولت ہے جو انسان کی ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے ۔اور ذہنی سکون سے بڑھ کر انسان کو اور کیا چاہئے ؟۔

یہ قناعت ہی ہے جو آپکی نظر کو آپکے اپنے ہی نوالے پر رکھتا ہے ۔آپکی نظر کی حفاظت کرتا ہے ۔  تبھی آپکو اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کی قدر ہوتی ہے ۔اور آپ شکر گزار بندوں کے لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف قناعت سے محروم وہ بدبخت لوگ ہیں جنکی نظر ہمیشہ دوسروں کے نوالے پر رہتی ہے ۔جسکی وجہ سے اسکا اپنا نوالہ کھبی اسے مزہ نہیں دیتا بلکہ اسکے گلے کا پھانس بن جاتا ہے ۔ایسے شخص کا سکون برباد ہوجاتا ہے ۔جلنا کڑھنا اسکا مقدر بن جاتا ھے۔نہ کسی کی خوشی اس سے برداشت ہوتی ہے نہ کسی کا سکون۔ہم میں ایسے بہت لوگ ہیں جو خاندان یا پڑوس میں کسی کی سفید پوشی کو خوب جانتے ہیں ۔انکی مصائب اور ضرورتوں سے باخبر ہوتے ہوئے بھی نظریں چرائے انجان بنے رہتے ہیں مگر جونہی انکے گھر تھوڑی خوشحالی آنے لگتی ہے ہماری توجہ فورا انکے جانب ہوجاتی ہیں پھر وہ ہر وقت ہماری حریص نظروں کے حصار میں رہتی ہیں کہ جب تک ہم انہیں اپنی بد نظری کا شکار نہ کرلیں۔نجانے کیوں ہمیں دوسروں کی سالوں کی محتاجی مشقت تنگدستی نظر نہیں آتی اور آسائشیں چار دن میں نظر آجاتی ہیں۔

ہم دراصل بڑے حریص لوگ ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہاتھ ہمیشہ دینے والا ہو اور دوسروں کا ہمیشہ بس لینے والا ہاتھ رہے۔ہم اتنے تنگ دل کیوں ہیں کہ کسی کہ چار پیسے کسی کا بڑانڈد سوٹ کسی کا آرام و آسأش ہمیں بے چین کردیتا ہے ؟ہم اتنے گرے ہوئے اتنے کم ظرف کیوں ہوگئے ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ ہم کسی کو خود سے ایک قدم آگے کھبی برداشت نیہں کرسکتے؟۔ شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ قناعت امیر کے لئے بھی اور غریب کے لئے بھی دو جہاں میں عزت کا باعث بنتا ہے ۔جتنی جلدی ہوسکے اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ  ہر انسان اس دنیا میں اپنا رزق لیکر آتا ہے ۔

اپنے حصہ کی خوشیاں سمیٹتا ہے  اور اپنے حصہ کے غم اٹھاتا ہے اور چلا جاتا ہے ۔کوئی بھی ہم سے ہمارے حصہ کی خوشیاں نہیں چھین سکتا۔نہ ہم چاہ کر بھی کسی سے اسکا نصیب چھین سکتے ہیں۔اگر آپکو لگتا ہے کوئی مفت میں بیٹھ کر کھا رہا ہے تو اگر وہ مفت میں بھی کھا رہا ہے تو یقین کرے وہ اپنا ہی رزق کھا رہا ہے اسے اللہ تعالی کھلا رہا ہے آپ اللہ کے انتظام پر کس جرأت سے انگلی اٹھا رہے ہیں؟؟۔ ۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اور ہم سب اللہ کی تقسیم کو تسلیم کرلیں۔اسکی رضا میں راضی ہوجائیں۔ جتنا آپکو ملا ہے اس پر صبر اور شکر کرلیں۔

ممکن ہے کہ اللہ کو آپکا قناعت پسند آجائے اور اللہ آپکو اس سے زیادہ عطاء فرمائے۔شاید ایسے ہی حالات کے پیش نظر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کے تم اس شخص کی طرف دیکھو جو (دنیاوی اعتبار سے ) تم سے کم تر ہو ۔اور اس شخص کیطرف مت دیکھو جو (دنیاوی اعتبار سے ) تم سے بڑا ہو ۔کیونکہ اسطرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھو گے ۔” بات بہت سادہ ہے کاش ہمیں سمجھ آجائے۔چاہے آپ امیر ہیں یا غریب جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئیں تو اپنے لئے عزت دولت شہرت صحت اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ “قناعت” کی دولت مانگنا مت بھولیے گا کیونکہ قناعت سے محرومی امیروں کو حریص بنا دیتا ہے اور غریب کو رسوا کر دیتا ہے ۔اسی لئے قناعت کا حاصل ہونا ہر ایک کے لئے دونوں جہاں میں عزت کا باعث ہے ۔

نوٹ :یہ تحریر خاص طور پہ خواتین کے لئے ہے بغیر معذرت کے۔


شیئر کریں: