Chitral Times

Sep 24, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضلعی انتظامیہ سے اپیل – شمس علی سعودیہ

شیئر کریں:

جناب ایڈیٹر صاحب سلام علیکم

چترال ٹائمز کے وساطت سے چترال کے ہیلتھ اتھاریٹز اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ چترال سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں لوگ جن میں فیملیز بھی شامل ہیں ۔خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں یا فیملی ویزوں پر رہتے ہیں۔یہ لوگ پاکستان آکر واپس جا نہیں سکے ہیں ۔

وجہ یہ ہے کہ چائنہ ویکسین ان ممالک میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔  آسٹرازینکہ اورفائزر  ویکسین خلیجی ممالک ( سعودیہ کویت وغیرہ ) میں رجسٹرڈ ہیں ۔

ضلعی انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اسٹرازینکہ اور فائزر ویکسین اگر موجود ہو تو خلیجی ممالک میں کام کرنے والوں یا فیملیز کو ہی پاسپورٹ ویزے دیکھ کر لگایا جائے ۔اگر موجود نہیں ہے توفہرست بنا کر  انتظام کیا جائے۔

ویکسن کی موجودگی کی صورت میں باقاعدہ  اس کا اعلان کرکے صرف ان کو ہی لگایا جائے ۔اس طرح سیکڑوں کی تعداد میں چترالی پاکستان جاکر پھنسے ہوئے ہیں۔واپس اپنے جگہوں پہ جاسکے ۔اور ان کے گھر کے چولہے جل سکے۔

سنے میں آیا تھا کہ لوکل رہنے والے بہت سارے لوگوں کو یہ ویکسین لگا یا گیا تھا۔ڈبلو ایچ او کے مطابق سارے ویکسین کی افادیت ایک ہی ہے ۔لکیں ہماری مجبوری یہ ہے کہ یہ ویکسن خلیجی ممالک میں رجسٹرڈ نہیں ہے۔

چترال اور پاکستان میں رہنے والوں کو چائنہ ویکسین لگایا جائے اور خلیجی ممالک میں رہنے والوں کو وہ ویکسین لگایا جائے جو وہاں رجسٹرڈ ہو۔

شکریہ کے ساتھ


شمس علی سعودیہ 


شیئر کریں: