Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے قیمتی معدنیات پر قبضہ کر نے کی امریکن سازش.(تحریر عبد اللہ)

شیئر کریں:

چترال کے قیمتی معدنیات پر قبضہ کر نے کی امریکن سازش.(تحریر عبد اللہ)

حکو مت ایک طر ف 74 سا لو ں میں پہلی مر تبہ قیمتی پتھر و ں اور معدنیا ت کے شعبے کو بر آمد ی صنعت بنا نے کا دعو یٰ کر رہی ہے اور اس سلسلے میں جیمز اینڈ جیو لری ٹا سک فورس کا قیا م عمل میں لا کر منر ل سٹی کے قیا م کیلئے کو شاں ہے اور سا تھ سا تھ اپنے منظور نظر ”’ سر ما یہ کا ر وں ” (کا روبا ری پار ٹنر ز) کو نوا زنے اور مرا عا ت اور آسا نیا ں فرا ہم کر نے کیلئے جا مع منصو بہ بند ی بھی کر رہی ہے۔


جیم اینڈز جیو لر ی کو صنعت کا درجہ دینا اور جیمز اینڈ جیو لری ٹا سکفورس کا قیا م اور منر ل سٹی کیلئے کو شش خو ش آئند ہیں۔ پا کستا ن میں قیمتی پھترو ں کی بر آمد کے حوا لے سے 5 ارب ڈا لر سا لا نہ کے مو جو دہ صلا حیت سے ملکی معیشت پر مثبت اثرا ت بھی مر تب ہو سکتے ہیں۔اور لا کھو ں لو گو ں کے روزگار کے موا قع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ پا کستان میں اس وقت 99 قسم کے قیمتی پھرو ں کے ذخا ئر مو جو د ہیں جنمیں سے اکثر یت گلگت، بلتستا ن کے علا وہ KP کے مختلف اضلا ع اور خصو صا ً چترال میں ہیں۔
محکمہ معد نیا ت نے گز شتہ کئی سا لو ں سے چترال کے معد نیا ت کو پند رہ 15 بلا کس میں تقسیم کر کے رینررو رکھا ہو ا تھا ان بلا کس کو ختم کر کے مقا می سر ما یہ کا رو ں کو لیز پہ یہ جگہیں فرا ہم کر نے کیلئے چترال کے عوا م گز شتہ کئی سا لو ں سے مختلف فورمز پہ کو ششیں کر تے آئے ہیں گز شتہ ما ہ جو ن کے آخری ہفتے میں چترال کے ان بلا کس کو ختم کر کے لیز پہ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور یکم جو لا ئی کو آن لا ئن اپلا ئی کر نے کی سہو لت بحا ل کی گئی حکو متی اس اقدا م کو چترا ل کے عوا م نے بہت سرا ہا چترا ل کے عوا م اور مقا می سر ما یہ کا راس خو شی میں تھے کہ بلا کس کے خا تمے کے بعد وہ اپنے من پسند علا قو ں میں ان لا ئن لیز کیلئے اپلا ئی کر سکیں گے۔ لیکن ان کی امیدو ں پر یکم اور 2 جو لائی کو اس وقت پا نی پھر گیا کہ جب وہ امیر کین کمپنیو ں کو قیمتی پتھر وں کے 597 مر بع کلو میٹر یعنی 147,615 ایکڑ (550,604 چکو رم)کے چار بلا کس اسی طر ح الا ٹ کئے گئے جس طر ح سے وہ پہلے بلا ک بنے ہو ئے تھے اور یہ الا ٹ منٹ ما رچ 2021 میں شو کی گئی ہے حالا نکہ سر کا ری طور پر یکم جو لا ئی 2021 کو لیز open کئے گئے تھے۔2 جو لا ئی کو منظور نظر لو گو ں کے من پسند جگہو ں کے اپلا ئی کر نے کے فور ا ً بعد ہی زیا دہ تر Potential Areas کو ائیر یا زر یز رو فار آکشن کے نا م پر دوبار ہ ریز رو کر کے بند کر دیا گیا۔ تا کہ کو ئی مقا می سر ما یہ کار اپلا ئی نہ کر سکے۔ اب رہ جا نے وا لے غیر ضر وری جگہو ں میں چترال کے مقا می سر ما یہ کار کو ئی کا م کی جگہ تلا ش کر نے میں مگن ہیں۔ گو یا یہ کا م سو ئی سے پہا ڑ کھو د نے کے مترا دف ہے۔


دوسرے اطلا عا ت کے مطا بق 597 مر بع کلو میٹر کا ائیر یا امر یکن کمپنیو ں کو الا ٹ کر نے کے بعد با قی مند ہ بلا ک ائیر یا ز کو اوپن کر کے انہی دو امر یکن کپمنیو ں کو اگلے ہفتے دلوا نے کیلئے ان کمپنیو ں کے (دلا ل صا حبا ن) ما ئننگ ڈا ئر یکٹو ریٹ میں ” مک مکا ” میں مصرو ف ہیں اور اگلے ہفتے با قی مند ہ سینکڑو ں مر بع کلو میٹر میں پھیلے ہو ئے معد نیا ت کے ائیر ئے انہی کمپنیو ں کو دینا متو قع ہے۔


لیز پہ جو نئے ائیر یا ز امیر یکن کمپنو ں کو الا ٹ کئے گئے ہیں وہ افعا نستا ن کے صو بہ بد خشا ن، وا خا ن، نو رستا ن اور کنڑ سے ملحقہ علا قے ہیں ان علا قو ں کے با رڈرز پر حفا ظتی با ڑ لگا نے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ تشویش نا ک با ت یہ ہے کہ امر یکن افوا ج کے افعا نستا سے انخلا ء اور پا کستان کی طر ف سے اڈے نہ دینے اور فضا ئی Space بھی استعما ل نہ کر نے دینے کے جر اٗ ت مند انہ فیصلے کے فور اً بعد ہی 597 مر بع کلو میٹر قیمتی معدنیا ت سے ما لا ما ل علا قہ لیز کے نا م پہ دینا اور مزید 800 مر بع کلو میٹر کے لگ بھک کا ائیر یا لیز پر دینے کی تیا ری کیا معنی رکھتی ہے نیز انہی کمپنیوں کے نمائند ہ گان کی طرف سے کوراغ کے مقام پر چار سو چکورم زمین کی خرید اور دیگر علاقوں میں زمین مہنگے داموں خریدنے کی کوششیں کہیں چترال کے اندر اسرائیل بنانے کی کوشش تو نہیں؟کیا یہ چترال کے پر امن ماحول کو خراب کرنے کی سازش تو نہیں؟امریکہ نے افغانستان میں فوجیں اتار کر افغانستان کے معدنیات کو لوٹا اب امریکن کمپنیز چترال میں بھی ایسے کریں گی؟ئی امریکن کمپنیاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اپنے دلالوں کی کمپنی بھی بنا کر ان کے ذریعے چترال کے معدنیات اور چترال کے مستقبل کا سودا کرتے رہیں گے؟کیا ہمارے حساس ادارے اسی طرح خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہیں گے؟ کیا چترال کے سادہ لوح عوام کو ان کے حقوق سے اسی طرح محروم رکھا جاتا رہے گا؟ کیا چترال کے عوام کی شرافت کا اسی طرح ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا؟

خیبر پختونخواہ کے دیگر اضلاع میں پہاڑ اور معدنیات اس علاقے کے لوگوں کی ملکیت تصور کئے جاتے ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی پتھر کا ایک تکڑا بھی نہیں اٹھا سکتا لیز پہ چگہ لے کر کام کرنا تو دور کی بات۔دیگر بڑی کمپنیز کو اتنے بڑے ایریاز لیز پہ دینے کا چترال اور چترال کی عوام کو کیا فائدہ؟پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں چترال میں فریال تالپور گروپ کو ایک بڑے ایریا لیز پہ دیا گیا سنٹرل ایکسچینج مائننگ لمٹیڈ کو 328مربع کلو میٹر کا ایریا گولین سے دامیل تک الاٹ کیا گیا ہے اسی طرح ٹنی پاک منرلز پرائیوٹ لمٹیڈ کو چترال کا سب سے بڑا لیز 823مربع کلو میٹر الاٹ کیا گیا۔ان دو کمپنیز نے گزشتہ کئی سالوں سے یہ جگے لیز پہ لی ہوئی ہیں لیکن کوئی کام نہیں ہو رہا۔ مقامی سرمایہ کار اگر ان کے لیز کردہ ایریے میں کوئی جگہ لینا چاہے تو وہ NOCکے نام پر ان سے 30سے 40لاکھ روپے طلب کئے جاتے ہیں۔مائینوں پہ کام کر نے کے لئے بیرونی کمپنیز لوکل لیبر کی بجائے جدید مشینری کے ذریعے کام کو ترجیح دیتی ہیں تاکہ قیمتی معدنیات سے مقامی آبادی کو دور رکھا جا سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جن کمپنیز کو لیز الاٹ ہوچکے ہیں ان میں لوگوں کے ذاتی جائیداد،مکانات،زمینات سمیت چترال گول نیشنل پارک کا ایریا بھی لیز ایریا میں شامل کیا گیاہے۔ حکومت لینڈ سٹیلمنٹ کے نام پہ چترال کی 97%اراضٰی ویسے بھی بحق سرکار ضبط کر چکی ہے اور اب رہی سہی کسر بھی لیز کے نام پر پوری کی جاری ہے۔


ضرورت اس امر کی ہے کہ چترال کے جعرافیا ئی اہمیت کے پیش نظر امریکن کمپنیز اور انڈین یادیش یادیو کے پارٹنر کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے اور چترال کے حساس علاقوں میں ان کے لیزوں کو گرانٹ ہونے سے پہلے کینسل کروایا جائے بصورت دیگر بیرونی سرمایہ کاروں کے روپ میں ملک دشمن انٹیلی جنس اداروں کے ارکان اپنے ذاتی Chartered طیاروں میں چترال پہنچ کہ اپنے پنجے گاڑھ لیں گے اور معدنیات کی Exploration، Extractionاور Processingکے نام پر مشینریز چترال پہنچا کر افغانستان سے ملحقہ ان علاقوں میں نصب کردیں گے جہاں سے وہ باآسانی چترال میں بیٹھ کر افغانستان،چائنہ اور دیگر پڑوسی وسطی ایشیائی ریاستوں پر اپنی نظر رکھ سکیں گے اور بوقت ضرورت ڈرون کے ذریعے کاروائی بھی کر سکیں گے اور ایسا کرنے سے چترال میں امن و امان کے خرابی کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔


حکمرانوں سے چترالی عوام کی دردمندانہ اپیل یہ ہے کہ بیشک ان امریکن اور انڈین کمپنیز کے مالکان نے الیکشن کے دوران آپ کو سپورٹ کیا ہو گا لیکن اس کا بدلہ پاکستان اور چترال کی سلامتی کو داو پر لگا کر نہیں چکا یا نہیں جا سکتا۔چترال کے عوام اپنے حقوق کے تحفظ اور اپنے علاقے کی سلامتی کے لئے اپنے بہادر افواج اور حساس اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور اس قسم کے سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور یہ


لیز کینسل نہ ہونے کی صورت میں اس معاملے کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

American mining lease chitral 1
American mining lease chitral 7
American mining lease chitral 6
American mining lease chitral 5
American mining lease chitral 4
American mining lease chitral 2
American mining lease chitral 3
Minieral registration kp

شیئر کریں: