Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوچ میں تبدیلی کا مثبت رجحان ۔ تحریر:محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

سوچ میں تبدیلی کا مثبت رجحان۔محمد شریف شکیب

ہمارے سیاسی قائدین کی تقریروں،ٹی وی ٹاک شوزمیں ان کی گفتگو اور بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں بہت کچھ بدلنے کے باوجود ہمارے لیڈروں کی سوچ نہیں بدلی،وہ آج بھی عوام کو سادہ، معصوم، گردوپیش سے بے خبر اور بھلکڑ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کافی باشعور ہوچکے ہیں۔خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ نسل ملک کے سیاسی ماحول سے دلبرداشتہ دکھائی دیتا ہے۔ کراچی سے اخبار کے ایک قاری رحمت ولی نے خط لکھا ہے کہ جو سیاست دان اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں داخل نہیں کراتے، سرکاری ہسپتالوں سے علاج نہیں کرواتے اور جو چھٹیاں منانے گلیات، کاغان، ناران، ہنزہ، کالام، کمراٹ اور چترال جانے کے بجائے فرانس، برطانیہ، ہالینڈ، بنکاک، دوبئی اور سوئزر لینڈ جاتے ہیں ان پر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگانی چاہئے۔ کیونکہ یہ لوگ عوام کے مسائل سے واقف نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ عوامی مسائل کم ہونے کے بجائے حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔

ہم نے امانت سمجھ کر اپنے معزز قاری کی بات کالم کی صورت میں من و عن عوام تک پہنچائی ہے مگر بات وہی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کی آجاتی ہے۔ یہ قانون تو پارلیمنٹ سے منظور ہونے کی ہے۔ جہاں 74سالوں سے جاگیر دار، سرمایہ دار، صنعت کار، تاجر، برآمدکنندگان اور بینکار براجمان ہیں بیورو کریسی میں بھی انہی کے بھائی اور بچے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں، عدالتوں میں انصاف کی کرسی پر بھی انہی کے رشتہ دار موجود ہیں۔ہمارے ملک میں انتخابی اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ کسی متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والا خواہ قومی خدمت کے جذبے سے کتنا ہی سرشار کیوں نہ ہو۔انتخابات میں حصہ لینے کی استطاعت ہی نہیں رکھتا۔اگر ضد میں آکر انتخابات لڑے گا بھی، تو اپنی ضمانت ضبط کرائے گا۔ کیونکہ ووٹ صرف اہلیت اور خدمت کے جذبے کی بنیاد پر نہیں ملتے۔ بلکہ کہیں قومیت، زبان اور مسلک کی آگ بھڑکانی پڑتی ہے۔ تو کہیں ووٹرز اور سپورٹرز کی مالی ضروریات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ان تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے کوئی شیر دل نوعیت کا بندہ اسمبلی میں پہنچ بھی جائے تو وہاں اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے۔

ایسے لوگ وما علینا الا البلاغ کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔ایبٹ آباد سے قاری محبوب، سوات سے گل رحمان اور مستوج سے مستنصر حسین کے خطوط میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ ہمارے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز، ناظمین اور سیاسی جماعتوں کے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کو پابند بنایاجائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں تاکہ تعلیم کا معیار بہتر بنایاجاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ شرح خواندگی اور معیار تعلیم میں اضافے کے حوالے سے حکمرانوں اور محکمہ تعلیم کے دعوے اور اعدادوشمار جھوٹ کا پلندہ ہیں آج بھی ایک تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ پانچویں جماعت کے بعد سکول چھوڑنے کی شرح کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔

ساٹھ فیصد بچے میٹرک کے بعد تعلیم کا خیر باد کہہ دیتے ہیں کیونکہ وہ سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بھاری بھر کم فیسیں بھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آج بھی بیشتر سرکاری سکول بجلی، پانی، چاردیواری، کھیل کے میدان، سائنس لیبارٹری، لائبریری بیت الخلاء اوردیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ نصاب تعلیم فرسودہ اور دقیانوسی ہے۔ گذشتہ تیس چالیس سالوں میں سیاسی سفارش پر جو اساتذہ بھرتی ہوئے ہیں وہ تدریس کے ہنر سے بے بہرہ ہیں۔

بھاری رشوت دے کر استاد بھرتی ہونے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ہر ضلع میں آج بھی درجنوں گھوسٹ سکول چل رہے ہیں جن کا روئے زمین پر کوئی وجود نہیں، مگر ان کا سٹاف محکمہ تعلیم کی ملی بھگت سے ہر مہینے سرکار کے خزانے سے تنخواہیں وصول کرتا ہے۔ سرکاری محکموں میں خرابی بیسیار کے باوجود ایک مثبت تبدیلی یہ ہے کہ عوام کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے وہ کوتاہیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب ارباب اختیار و اقتدار کو عوامی خدشات دور کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ ہم بھی مطمئن ہیں کہ عوام کی آواز میں اپنی آواز شامل کرلی ہے۔ کوئی تو سن لے گا، وما علینا الا البلاغ۔


شیئر کریں: